مقبوضہ کشمیر، بھارتی بربریت کا 94 واں روز، آزادی کے حق میں ریلیاں

Spread the love

بھارتی سپریم کورٹ کا جوینائل جسٹس کمیٹی کو 13ہزارنابالغ کشمیریوں کی مبینہ گرفتاری سے متعلق تازہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم

نوجوانوں نے بھارتی فوج پر پتھرائو کیا ،قابض فورسز نے پیلٹ گنز سے فائر نگ کیساتھ ساتھ آنسو گیس کے شیلز بھی استعمال کئے

کرفیو ،لاک ڈاؤن اور پابندیوں کا سلسلہ تاحال برقرار، بھارتی فوجی جگہ جگہ تعینات ، تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بھی بند

سرینگر/نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی بربریت اور ظلم کا آج 94 واں روز ہے، بھارت کے وادی کے حالات کو نارمل دکھانے کے تمام حربے ناکام ہو رہے ہیں، کشمیریوں نے جبر اور پابندیوں کے باوجود آزادی ریلیاں نکالیں۔تفصیلات کے مطابق کشمیریوں نے بھارت اور قابض فوج کے خلاف اور آزادی کے حق میں احتجاجی مظاہرے کیے،

نوجوانوں نے بھارتی فوج پر پتھرائوکیا جبکہ بھارتی فوج نے پیلٹ گنز سے فائرنگ کیساتھ ساتھ آنسو گیس کے شیلز بھی استعمال کئے۔کرفیو لاک ڈاؤن اور پابندیوں کا ایک اور روز، جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات ہیں، تعلیمی ادارے، دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں۔

دوسری جانب بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی جوینائل جسٹس کمیٹی سے کشمیر میں نابالغ بچوں کی مبینہ گرفتاری سے متعلق تازہ رپورٹ3دسمبر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ میں بچوں کے حقوق کیلئے جہدوجد کرنے والی کارکن اناکشی گنگولی کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سماعت ہوئی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اناکشی گنگولی نے درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ 5 اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت دفعہ 370 کو ختم کرنے کے بعد سے وادی میں کئی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔

تشار مہتا نے بتایا کہ درخواست گزار کی جانب سے سپریم کورٹ میں غلط بات پیش کی گئی ہے کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کام نہیں کر رہی ۔جسٹس رمنا نے کہا کہ وادی کشمیر میں پابندیوں کے تین ماہ مکمل ہو گئے ہیں اور اس طرح کے اہم معاملات کو ملتوی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لوگ فوج کے خوف کے سائے میں جی رہے ہیں اور متعدد وکلا کو بھی جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔سماجی کارکنان نے دعوی کیا تھا کہ دفعہ 370کے خاتمے کے بعد سے 13ہزار سے زائد بچے گمشدہ ہیں۔

Leave a Reply