181

1 اکتوبر کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1755ء -پرتگال میں سونامی اور زلزلے سے ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہوئے

1848ء – امریکا میں خواتین کے پہلے میڈیکل کالج میں کلاسوں کا آغاز ہوا

1922ء – سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا

1952 -آج کے دن اڈوارڈ ٹیلر اور ان کے ہمراہیوں نے امریکی جزیرے مارشل آئی لینڈ میں تاریخ میں پہلی بار تھرمو نیوکلئیر بم کا تجربہ کیا۔

1952ء – امریکا نے دنیا کے پہلے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا

1956ء – وزیر اعظم پاکستان سہروردی نے مصر سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا

1961ء – پنجاب زرعی کالج فیصل آباد کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا

1985ء – سینیٹ نے آئین پاکستان میں آٹھویں ترمیم کے مسودے کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا

1981 -انٹیگوا اور بابوڈا نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔

1992ء – سانحہ ٹنڈو بہاول میں ملوث میجر ارشد کو پھانسی جبکہ دیگر تیرہ مجرمان کو عمر قید کی سزا

2000ء – سربیا کی اقوام متحدہ میں شمولیت

ولادت

1838ء گیارہوں دلائی لاما کھیلاوپ کھیام کے ایک قصہ قاتصرمیں 1838ءمیں پیدا ہوئے۔ 1841ء میں انہیں دلائی لامہ کے طورپرنامزدکیاگیا ان کے بال منڈوائے گئے اور انہیں کھیدروپ گستاؤ کانام دیاگیا 1842ء میں وہ 11سال کی عمرمیں پوٹلہ پیلس لائے گئے اوران کی تاج پوشی کی گئی اوران کی نو عمری میں تاج پوشی متنازع بن گئی کیونکہ ان پر تبت کے عوام کے روحانی اورسیاسی ذمہ داریاں تھیں لیکن اچانک وہ پوٹلہ پیلس میں 1856ء میں 18 برس کی عمر میں فوت ہو گئے۔

1878ء کارلوس ساویدرا لاماس ایک جرمن امن پسند اور جرمن خفیہ دوبارہ ہتھیار کو بے نقاب میں ان کے کام کے لیے 1935ء میں نوبل امن انعام کے وصول کنندہ تھے فضائیہ، Luftwaffe کے کے پیشرو کی تعمیر نو اور سوویت یونین میں پائلٹوں کی تربیت کی طرف سے Versailles کے معاہدے کے جرمنی کی مبینہ خلاف ورزی کی تفصیلات شائع کرنے کے بعدانھیں 1931ء میں غداری اور جاسوسی کا مجرم قرار دیا گیا۔ 1990ء میں ان کی بیٹی، Rosalinde وون Ossietzky پام، کارروائی کی بحالی کے لیے کہا جاتا ہے، لیکن فیصلہ 1992 ء میں جسٹس فیڈرل کورٹ کی طرف سے برقرار رکھا گیا۔

1889ء فلپ نوئیل بیکر (21 نومبر1889ء تا 8 اکتوبر 1982ء) ایک برطانوئی سیاستدان۔سفارتکار ،معلم اور ایک نامور کھلاڑی تھے جنکی شہرت انکی جانب سے چلائی گئی اسلحہ مخالف تحریک تھی۔1920ء کے گرمیوں کے اولمپکس میں چاندی کے تمغا جیتنے والے تھے انھوں نے 1959 میں نوبل امن انعام جیتا۔

1902ء دیب، محقق، ماہر تعلیم، لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابھی چھ برس کے تھے کہ ان کے والد مولوی سراج الدین احمد خاں کا انتقال ہو گیا۔ ابتدائی تعلیم وزیر آباد میں حاصل کی۔ تحریک خلافت سے متاثر ہو کر حیدرآباد دکن چلے گئے۔ بی۔اے کی ڈگری جامعہ عثمانیہ حیدرآباد سے اور ایم۔اے کی ڈگری گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی۔ بعد ازاں کیمبرج یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور وہاں سے ایم۔ اے ’’لٹ‘‘ کی سند حاصل کی۔ اسلامیہ کالج لاہور میں انگریزی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ اور پروفیسر محمد شریف کے مستعفی ہونے کے بعد پرنسپل ہو گئے۔ 1968ء میںپنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنائے گئے۔ 1971ء میں مستعفی ہو گئے اور مجلس ترقی ادب کے ناظم مقرر ہوئے۔ غالب و اقبال کے مداح تھے۔ 1976ء میں آپ کے خطبات و مقالات کا مجموعہ ’’تعلیم و تہذیب‘‘ مجلس ترقی ادب کے زیر اہتمام شائع ہوا۔

1910ء پاکستانی ماہر قانون۔ پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ 1937ء میں گریز ان لندن سے قانون کی ڈگری لی۔ 1938ء میں کلکتہ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔ 1940ء میں کلکتہ کارپوریشن کے کونسلر مقرر ہوئے۔ 1943ء میں ڈپٹی میئر منتخب ہوئے۔ 1943ء تا 1947ء حکومت بنگال کے جونئیر وکیل رہے۔ 1948ء میں اثاثوں کی تقسیم کے سلسلے میں قائم کردہ ثالثی ٹرائی بیونل کے سامنے مشرقی پاکستان کا کیس پیش کیا۔ 1950ء تا 1953ء سٹیٹ بنک آف پاکستان ڈھاکہ کے قانونی مشیر رہے۔ 1953ء میں مشرقی پاکستان کے ایڈووکیٹ جنرل مقرر ہوئے۔ 1954ء تا 1960ء ڈھاکہ ہائی کورٹ کے جج کے عہدے پر فائز رہے۔1958ء تا 1960ء ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ 1959ء تا 1960ء بین الاقوامی ثالثی عدالت ہیگ کے رکن رہے۔ 1960ء میں سپریم کورٹ کے جج اور نومبر 1968ء میں چیف جسٹس مقرر ہوئے۔ 1967ء میں قانونی اصلاحات کمیٹی کے چئیرمین بنائے گئے۔ 1972ء میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کی شرم ناک شکست کے اسباب کی چھان بین کے لیے جو کمیشن قائم کیا گیا، مسٹر جسٹس حمود الرحمن اس کے چئیرمین مقرر ہوئے۔ انھوں نے اس سلسلے میں حمود الرحمن کمیشن رپورٹ تیار کی جس کو 30 سال خفیہ رکھنے کے بعد حکومت نے 2003ء میں کچھ حصہ عام عوام کے سامنے کھول دیا۔ یکم اکتوبر 1975ء کو ریٹائر ہوئے۔

1920ء عنایت اللہ پاکستان کے ایک معروف ادیب، صحافی، مدیر، افسانہ نویس، جنگی وقائع نگار اور تاریخی ناول نگار تھے۔ اپنے یادگار تاریخی ناولوں اور پاک بھارت جنگ 1965ء و پاک بھارت جنگ 1971ء کی داستانوں سے شہرت پائی۔ ماہنامہ حکایت اور سیارہ ڈائجسٹ کے پیچھے انہی کی شب و روز محنت تھی۔ میم الف، احمد یار خان، وقاص، محبوب عالم، التمش، صابر حسین راجپوت اور دیگر قلمی ناموں سے بھی شاہکار ادب تخلیق کیا۔۔ عنایت اللہ مرحوم نے 79 سال کی عمر تک بھرپور ادبی تخلیقات اردو ادب کو دیں جن کی تعداد لگ بھگ 100 کے قریب ہے ۔

1948ء خوش بخت شجاعت ایک پاکستانی سیاست دان جو مارچ 2015ء سے ایوان بالا کی رکن ہیں۔ اس قبل وہ 2008ء-2013ء تک ایوان زیریں کی رکن رہ چکی ہیں۔

1950ء رابرٹ بی لاولینگ امریکا کے ایک طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا تھا۔ یہ انعام 1998 میں انہوں نے اپنے ہم وطن سائنس دان ڈینیل چی تسی اور جرمنی کے سائنس دان ہورسٹ لوڈلگ سٹورمر کے ہمراہ لیزر کی روشنی کے ذریعے ایٹم کو پھانسنے اور انہیں ٹھنڈے کرنے کے طریقے کو بہتر کرنے پر حاصل کیا تھا۔

1951ء میاں یوسف صلاح الدین ایک پاکستانی سماجی انسان دوست، سابق سیاست دان، اور لاہور کی معروف ثقافتی شخصیت ہیں۔ وہ میاں صلی کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ یوسف صلاح الدین برصغیر کے ممتاز سیاست دان اور شاعر علامہ محمد اقبال کے نواسے اور معروف جج جاوید اقبال کے بھانجے ہیں۔ میں یوسف صلاح الدین فنون لطیفہ سے خصوصی دلچسپی رکھنے والے انسان ہیں ان کے پاس لاہور میں ایک بڑی حولی ہے جو عام طو ر پر میاں صلی کی حویلی کے نام سے مشہور ہے۔ حویلی بھی ایک طرح سے نادر و نایاب اشیا کا ایک میوزیم بھی کہلا سکتی ہے۔ ان کے ہاں اکثر دعوتیں ہوا کرتی ہیں اور ملک کی اعلی سیاسی اور سماجی شخصیات کے ساتھ ان کے اچھے مراسم ہیں موجودہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ان کا اچھا دوستانہ رہا ہے اور عمران خان اکثر ان کی حویلی میں مدعو کئے گئے ہیں۔ انہوں نے سابق رکن اسمبلی انبساط خان سے شادی کی جو زیادہ دیر نہ چل سکی اور اس شادی کا انجام الزامات کے ساتھ علیحدگی پر ہوا۔ ان کی سابق بیوی ابنساط خان نے اس دور میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ عمران خان ان کے سابق شوہر کی حویلی میں عیاشی کے لیے آیا کرتے تھے۔ اس بات کا بہت چرچا ہوا خاص کر سوشل میڈیا نے اس بات کو بہت اچھالا پھر کچھ عرصہ کے گزرنے کے بعد انبساط خان کی آواز بند ہو گئی اور اب وہ نہ تو میڈیا پر آتی ہیں اور نہ ہی کبھی سیاست میں متحرک ہیں۔

1973ء ایشوریا رائے جو اپنے ازدواجی نام ایشوریا رائے بچن سے بھی جانی جاتی ہے ایک ہندوستانی اداکارہ، ماڈل اور مس ورلڈ 1994 کی فاتح ہے۔ اپنے کامیاب ترین فنی سفر میں وہ ہندوستان کی مشہور ترین اور بااثر ترین سیلیبرٹییوں میں سر فہرست رہی ہے۔ ایشوریا نے بے شمار اعزازات جیتے جن میں گیارہ دفعہ فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی اور دو مرتبہ یہ اعزاز جیتا اور حکومت ہند نے 2009 میں ایشوریا کو پدما شری ایوارڈ سے نوازا جبکہ 2012 میں حکومت فرانس نے اسے آرڈر ڈیس آرٹس ایٹ ڈیس لیٹرز کا اعلی ترین اعزاز عطا کیا۔ میڈیا نے اسے دنیا کی حسین ترین خاتون کا لقب دیا۔

وفات

1903ء تھیوڈور مومسن ایک جرمن زبان کے لکھاری تھے۔ آپ نوبل ادب انعام جیتننے والے پہلے جرمن ادیب تھے۔

1917ء مولوی اسماعیل میرٹھی کا شمار جدید اردو ادب کے ان اہم ترین شعرا میں ہوتا ہے جن میں مولانا الطاف حسین حالی، مولوی محمد حسین آزاد وغیرہ شامل ہیں۔ “مولوی اسما عیل میرٹھی، ایک ہمہ جہت شخصیتان کا شمار جدید نظم کے ہئیتی تجربوں کے بنیاد گزاروں میں ہونا چاہیے ” پروفیسر گوپی چند نارنگ۔

1972ء۔ تنویر نقوی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر اور فلمی نغمہ نگار تھے۔

2013ء حکیم اللہ محسود جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طالبان کا سرغنہ تھا جس کو بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کا نیا سر براہ مقرر کیا گیا۔ وہ اے۔کے 47 اور ٹویوٹا پِک اَپ گاڑی کی جنگ میں استعمال کا ماہر سمجھا جاتا اور بیت اللہ محسود کا محافظ اور سائق بھی رہا۔ حکومت پاکستان نے اس کی موت یا گرفتاری پر پانچ کروڑ روپے کا انعام مقرر کر رکھا تھا۔ نومبر 2013ء میں ڈرون حملہ میں ہلاک ہونے کی اطلاع۔

اپنا تبصرہ بھیجیں