وزیر اعظم کی تلاش 96

وزیر اعظم کی تلاش

Spread the love

یہ مضمون نسیم حجازی کی کتاب سفیدہ جزیرہ سے لیا گیا ہے اس کا موجودہ حالات سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ کتاب 1955 میں لاہور سے شائع ہوئی تھی (وزیر اعظم کی تلاش)

نسیم حجازی

ایک بادشاہ نے اپنے ملک کے ایک مشہور نجومی کو اپنا وزیر اعظم بنا لیا۔ سردویں کے موسم میں ایک دن بادشاہ سلامت کے دل میں شیر و شکار کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے اپنے دانشمند وزیر سے موسم کا حال پوچھا۔ وزیر نے جواب دیا ’’عالی جاہ! میرا علم یہ بتاتا ہے کہ موسم نہایت خوشگوار رہے گا۔ سارا دن دھوپ رہے گیا ور ہوا بھی بند رہے گی۔ سیر و شکار کے لیے اس سے بہتر دن اور کوئی نہیں ہو سکتا‘‘۔

بادشاہ سلامت اپنے مصاحبوں کے ساتھ شکار کے لیے نکلے تو راستے میں ایک کسان ملا جو گدھے پر سوار تھا۔ کسان بادشاہ کو دیکھتے ہی گدھے سے کود پڑا اور ہاتھ جوڑ کر چلایا۔ ’’حضور کا اقبال بلند ہو اور حضور کے دشمن جنھوں نے آج کے دن حضور کو محل سے باہر نکلنے کا مشہور دیا ہے ذلیل و خوار ہوں میں التجا کرتا ہوں کہ آج کے دن اگر آپ اپنے محل میں رہیں تو بہتر ہوگا‘‘۔

بادشاہ نے پوچھا ’’وہ کیوں؟‘‘

کسان نے جواب دیا ’’عالی جاہ آج آندھی آئے گی، بارش ہوگیا اور اولے پڑیں گے‘‘

بادشاہ ے پریشان ہو کر اپنے وزیر کی طرف دیکھا اور اس نے کہا ’’جہاں پناہ آپ ایک پاگل آدمی کی باتوں پر توجہ نہ دیں ہ آپ کا قیمتی وقت ضائع کر رہا ہے‘‘

بادشاہ غضبناک ہو کر بولا ’’اس پاگل آدمی کو جوتے لگاو‘‘ اور سپاہیوں نے جوتوں سے کسان کی تواضع کر دی۔

لندن،کرونا 66 برس کی دو جڑواں بہنوں کو بھی ایک ساتھ لے گیا

لیکن جب بادشاہ تھوڑی دور آگے گیا تو افق سے آندھی کے آثار دکھائی دیے۔ آن کی آن میں آسمان پر تاریکی چھا گئی اور باد و باراں کے طوفان کے ساتھ اولے پڑنے لگے۔ جنگل میں بادشاہ سلامت کے لیے سرچھپانے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ وہ پانی اور کیچڑ میں لت پت ہونے کے بعد سردی سے ٹھٹھر رہے تھے۔ اور اس مصیبت میں اگر ان کے دل میں کوئی خیال آسکتا تھا تو وہ یہ تھا کہ نالائق وزیر کے لیے بدترین سزا کیا ہوسکتی ہے۔

قصہ مختصر بعد اس خرابیٔ بسیار جب وہ واپس اپنے محل پہنچے تو انھوں نے اطمینان کا سانس لیتے ہی دو فرمان جاری کئے، ایک یہ کہ وزیر کا منہ کالا کر کے شہر میں پھرایا جائے اور اس کے بعد اسے کالی کوٹھڑی میں بند کر دیا جائے۔ دوسرا یہ کہ وزار کا عہدہ سنبھالنے کے لیے اس کسان کو تلاش کیا جائے جسے کچھ دیر قبل جوتے مار مار کر گنجا کر دیا گیا تھا۔

ان احکام کی تعمیل کی گئی ………. جب کسان بادشاہ کے دربار میں پیش ہوا اور اسے یہ خوشخبری سنائی گئی کہ تم وزیر اعظم بنادیے گئے ہو تو اس نے ملتجی ہو کر کہا ’’عالی جاہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان اب مجھے کس جرم کی سزادی جا رہی ہے؟‘‘

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 5

بادشاہ نے جواب دیا ’’یہ سزا نہیں بلکہ انعام ہے تم اس دور کے سب سے برے نجومی ہو اور ہمیں وزیر اعظم کی حیثیت میں تمہاری خدمات کی ضرورت ہے‘‘

کسان نے جواب دیا ’’عالی جاہ! میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں نجومی نہیں ہوں‘‘

بادشاہ نے حیران ہو کر کہا ’’تم کسر نفسی سے کام لے رہے ہو‘‘

کسان نے جواب دیا ’’عالی جاہ! میں کسر نفسی سے کام نہیں لیتا یہ حقیقت ہے کہ میں نجومی نہیں ہوں اگر میں نجومی ہوتا تو آج حضور کے راستے سے گزرنے کی حماقت نہ کرتا‘‘۔

بادشاہ نے کہا ’’اگر تم نجومی نہیں ہو تو تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ آج طوفان آرہا ہے‘‘؟

کسان نے جواب دیا ’’عالی! یہ میرا نہیں بلکہ میرے گدھے کا کمال ہے۔ جب موسم میں کسی ناخوشگوار تبدیلی کے آثار پیدا ہوتے ہیں تو وہ چند گھنٹے پیشتر ہی اپنے کان ڈھیلے چھوڑ دیتا ہے اور آج تو اس کے کان بہت ہی ڈھیلے تھے‘‘۔

بادشاہ نے کہا ’’بہت اچھا آج سے تمہارا گدھا ہمارا وزیر اعظم ہے‘‘

وزیر اعظم کی تلاش وزیر اعظم کی تلاش وزیر اعظم کی تلاش وزیر اعظم کی تلاش

اپنا تبصرہ بھیجیں