451

مہنگائی مزید بڑھے گی ٹیکس وصولی کے اہداف بھی پورے نہیں ہو سکیں گے: سٹیٹ بینک آف پاکستان

Spread the love

مہنگائی 12 فیصد، معاشی شرح نمو9 سال کی کم ترین سطح پر آگئی، اسٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ

کراچی(کامرس رپورٹر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ ملکی معاشی شرح نمو نو سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے جب کہ مہنگائی چار سال بعد اپنے ہدف سے زائد رہی، مہنگائی کی شرح12فیصد تک پہنچنے، رواں سال کھاتوں کے خسارے میں مزید کمی کا امکان ہے۔ آئندہ مالی سال کے آخری6ماہ میں مہنگائی میں کمی ہوگی، معاشی ترقی کی رفتار 3فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2018-19 کی سالانہ رپورٹ میں مہنگائی رواں مالی سال 12 فیصد تک پہنچ جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیشت کی بحالی میں عوامی فلاح کے منصوبے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بجٹ خسارہ7فیصد کے قریب محدود رہ سکتا ہے جبکہ مالی سال کے آخری چھ ماہ میں مہنگائی کا زور کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ معاشی سست روی سے گھریلو اخراجات میں کٹوتی دیکھی گئی، دیہی اور شہری آمدنی میں کمی ہوئی۔ رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ رواں سال برآمدات کا 26.2ارب ڈالر کا ہدف بھی مشکل ہے اور برآمدات25.4سے25.9ارب ڈالر تک رہنے کی توقع ہے۔ معاشی سست روی میں مقررہ ٹیکس ہدف حاصل کرنا ایک چیلنج ہے۔ حکومت کو آمدن بڑھانے اور اخرجات کم کرنے کی ضرورت ہے۔

اسٹیٹ بینک نے معیشت کی رفتار 3 فیصد تک سست پڑ جانے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔اسٹیٹ بینک کی مالیاتی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے درآمدی اشیاء پر اثر پڑا، مالی سال2019ء کی آخری سہ ماہی میں غذائی اشیاء کی قیمتوں میں بھاری اضافہ مہنگائی کا سبب بنا۔ مالی سال کے دوران شرح سود میں اضافہ ہوا بجلی اور گیس مہنگی ہوئی۔ پالیسی ریٹ میں لگاتار اضافہ سے نرخوں پر طلب کا دباؤ کم کرنے میں مدد دی لیکن پالیسی ریٹ میں مسلسل اضافہ کے باوجود مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال2018-19ء کے6.2فیصد ہدف کے مقابلے میں معاشی ترقی کی شرح نمو 3.3 فیصد رہی۔ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں کی نمو کا ہدف بھی پورا نہ ہوسکا۔ زرعی شعبہ کی شرح نمو ایک فیصد سے بھی کم اعشاریہ8فیصد رہی۔ صنعتوں کی افزائش7.6فیصد کے ہدف کے مقابلے میں1.4فیصد تک محدود رہی، خدمات کے شعبہ میں4.7فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔ مہنگائی کی شرح6فیصد کے ہدف سے بڑھ کر7اعشاریہ3فیصد رہی۔مالی سال 2018-19میں جاری کھاتوں کا خسارہ 4.8 فیصد رہا۔ مالیاتی خسارہ 9.8 فیصد کے برابر رہا۔ مجموعی خسارہ قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب 84. 8فیصد کی سطح پر آگیا۔ وفاقی حکومت ٹیکس رعایتوں میں کمی اور ترقیاتی اخراجات کم کرنے کے باوجود ٹیکس محاصل کا ہدف پورا نہ کرسکی۔

مرکزی بینک کی رپورٹ میں ریمارکس دیئے گئے ہیں کہ حکومت ٹیکس وصولی کیلئے گنے چنے شعبوں پر انحصار کررہی ہے اور نان ٹیکس محاصل پر انحصار حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ گزشتہ مالی سال اسٹیٹ بینک پر قرضوں کے انحصار سے سخت مانیٹری پالیسی کے اثرات بھی زائل ہوتے رہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح نمو3سے4فیصد تک رہنے کا امکان ہے، رواں مالی سال مہنگائی کو8.5 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف ناقابل حصول رہے گا اور مہنگائی کی شرح 12 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ مالیاتی خسارہ 6.5 فیصد سے 7.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ جاری کھاتے کا خسارہ 2.5فیصد سے 3.5 فیصد تک رہنے کی توقع ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں