مقبوضہ کشمیر میں طویل ترین کرفیو 85 وین روز بھی جاری، معمولات زندگی مفلوج

Spread the love

بدترین کرفیو کے باوجود جگہ جگہ احتجاج، بھارتی فوج کیساتھ جھڑپیں

مقبوضہ وادی کے بازار اور مارکیٹیں بند،غذائی بحران مزید سنگین ہو گیا

سری نگر( کے پی آئی )مقبوضہ کشمیر میں پیر کو طویل ترین لاک ڈائون کا 85 واں روز، وادی کے بازار اور مارکیٹیں بند ہیں ،بھارتی فوجی محاصرے کے باعث وادی کشمیر اور جموںکے مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلسل 85ویں روز بھی معمولات زندگی مفلوج ہیںجس کے سبب غذائی بحران مزید سنگین ہو گیا۔ علاقے میں دفعہ 144کے تحت سخت پابندیاں نافذ ہیں جبکہ انٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل فون سروس معطل ہے۔لوگ بھارت کی طرف سے حالات معمول کے مطابق دکھانے کی کوششوں کی مزاحمت کررہے ہیں ،بھارتی بربریت پر عالمی برادری کی مسلسل بے حسی بڑا المیہ ہے،۔ وادی کشمیر میںعملاً غیر اعلانیہ سول نافرمانی ہورہی ہے جس کا مقصد بھارت کی طرف سے 5 اگست کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔

اس تحریک کے تحت دکانداروں نے اپنی دکانیں بند کررکھی ہیں، طلباء تعلیمی اداروں سے غیر حاضر ہیں، سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین دفاتر نہیںجاتے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہے۔ قابض انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو چرار شریف کی درگاہ پر منعقدہ شبانہ عبادت میں شرکت سے روک دیا ہے۔ بھارتی پولیس نے سالانہ عرس سے ایک دن پہلے ہی علاقے کو سیل کردیاتھااوریہ واقعہ قابض حکام کی طرف سے وادی کشمیر میں حالات نارمل ہونے کے دعوئوں کے باوجودپیش آیا۔ کرفیو کے باوجود جگہ جگہ احتجاج جاری ہے۔بھارت نے مقبوضہ وادی کو عملی طور پر دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا جہاں گزشتہ 84 روز سے جوانوں کے علاوہ خواتین کیا بچوں اور بوڑھوں کو بھی جبری قید کا شکار بنا دیا گیا ہے۔

اس کے باوجود کشمیری نوجوان گھروں سے نکل کر تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے مظاہروں میں شریک ہو ئے۔ہسپتالوں میں مریض درد کی شدت سے تڑپیں یا گھروں میں ننھے بچے خوراک کیلئے روئیں، دنیا کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ کوئی دن نہیں گزرتا کہ کشمیریوں کی زندگی موت سے بدتر بنا دی گئی ہے، جہاں خوراک ہے نا پانی، نہ ہی سخت سردی سے بچنے کے انتظام کیلئے بازار سے کوئی شے خریدی جا سکتی ہے۔اس کے باوجود کشمیریوں کے دلوں میں آزادی کا جذبہ مزید بڑھتا دکھائی دیتا ہے، 85 روز کا لاک ڈاون کشمیریوں کو 72 سال قبل جبری قبضے کی یاد دلا رہا ہے جس کے خلاف کشمیریوں نے تمام تر بھارتی ہتھکنڈوں کے باوجود جگہ جگہ احتجاج کیا ۔

Leave a Reply