دنیا بھر سمیت کنٹرول لائن کے دونوںا طراف کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا

Spread the love

قابض افواج کا مارچ کے شرکاء پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ، کشمیری بھارت کی فوجی طاقت کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے: کل جماعتی حریت کانفرنس

سرینگر(کے پی آئی )کنٹرول لائن کے دونوںا طراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے اتوار کویوم سیاہ منایا تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جائے کہ وہ اپنی مادر وطن پر بھارت کے ناجائز قبضے کو مسترد کرتے ہیں۔ اس موقع پر کشمیریوں نے احتجاجی مظاہرے کئے بھارت نے1947ء میں آج ہی کے دن تقسیم برصغیر کے فارمولے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور کشمیریوں کی خواہشات کے برعکس جموںوکشمیرمیں اپنی فوجیںاتارکر اس پر ناجائز قبضہ کیاتھا۔ سید علی گیلانی کی قیادت میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اتوار کو لالچوک سرینگر کی طرف مارچ اوروہاںدھرنادینے کی اپیل کی تھی تاکہ دنیا کو یہ دکھایا جائے کہ کشمیری عوام کو اپنی مزاحمت زندہ رکھنے کے لیے ٹیلی مواصلاتی ذرائع کی ضرورت نہیں ہے۔

تاہم سخت پابندیوں کے باعث اس مارچ کو اجازت نہ دی گئی اس کے باوجود کشمیریو ںنے مارچ کرنے کی کوشش کی اور لوگ پابندیوں کے باوجود گھروں سے باہر آئے قابض فوج نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شلینگ کرکے مارچ کو منتشر کردیا کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ کشمیری عوام بھارت کے ناجائز قبضے جس سے ان کے بنیادی حقوق سلب کرلئے گئے ہیں،کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔بیان میں کہاگیا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے مقدش مشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے چوکس، ثابت قدم اور منظم ہیں۔ بیان میںکہاگیا کہ کشمیری بھارت کی فوجی طاقت اور دباوکے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے۔بیان میں زوردیاگیا ہے کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی ایک جائز جدوجہد ہے جس کو اقوام متحدہ نے تسلیم کررکھا ہے۔ بیان میں کہاگیا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس اگلے چند روز میں کشمیری عوام کے لیے مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

اگرچہ گزشتہ 83 روزسے مقبوضہ علاقے میں معمولات زندگی مفلوج ہیں اور لوگوں نے بطور احتجاج سول نافرمانی کررکھی ہے تاہم اتوار کویوم سیاہ منانے کے لیے مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی گئی۔دکانیں ، کاروباری مراکز اورتعلیمی ادارے بند جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی دریں اثناء مقبوضہ علاقے میں یوم سیاہ کے موقع پر احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے پابندیاں مزید سخت کردی گئیں۔

سرینگر سمیت وادی کشمیر کے طول وعرض میںبھارتی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے اور لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کے لیے سڑکوں اور گلی کوچوں میں ناکے لگائے گئے ہیںجبکہ اہم شاہراوں کو خاردار تاریں لگاکر بند کردیا گیا۔ آزاد کشمیر پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ تسلط کے خلاف یوم سیاہ منایا اس موقع پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں جبکہ جلسے جلوس ہوئے جن میں مقررین نے اقوام متحدہ پرزور دیا کہ وہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ تسلط ختم کرانے کیلئے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے۔

Leave a Reply