افسانہ : بکاؤ مال مصنفہ : مسرت کلانچوی ، سرائیکی سے اردو ترجمہ : عقیلہ منصور جدون

Spread the love
مسرت کلانچوی عقیلہ منصور جدون

پورے شہر میں رانی سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں تھا ۔وہ جہاں سے گزرتی لوگ سانس لینا اور آنکھ جھپکنا بھول جاتے ۔

یہی وجہ تھی کہ جب وہ ارباب کے بھائی کی شادی میں مجرا کر رہی تھی ،تو ارباب کو نہ تو اس کی پائل کی آواز سنائی دے رہی تھی ،نہ ہی ساز و آواز کے ساتھ گیت سنائی دے رہا تھا ۔نہ ہی اسے اپنے ارد گرد رنگ برنگی جھنڈیاں ،روشنیاں ،قمقمے اور نہ ہی ارد گرد پھیلے لوگ دکھا ئی دے رہے تھے ۔اسے بس یہی محسوس ہو رہا تھا کہ یہاں بس رانی ہے اور وہ خود ہے ۔اوپر سے آسمان ان پر پھول برسا رہا ہے ۔

رانی سب سے ویل وصول کر کے اب ارباب کے آگے کھڑی مٹک رہی تھی ۔لیکن ارباب گم سم اسے دیکھے جا رہا تھا ۔ گیت ختم ہو گیا رانی نے رقص بند کردیا اور ارباب کو دیکھنے لگی ۔رانی کو یوں محسوس ہوا کہ ارباب ہی وہ راجہ ہے جسے صدیوں سے اس کی روح ڈھونڈ رہی تھی ۔ارباب نے جیب میں پڑے سارے نوٹ اس پر بکھیردئیے ۔ رانی نے ایسا محسوس کیا جیسے اس پر رنگوں کی پھوار پڑ رہی ہو ۔ یا وہ بادلوں کے ساتھ اڑتی اڑتی آسمان کو چھو رہی ہو جہاں ہر طرف روشن ستارے بکھرے پڑے ہیں ۔

یہ ایسا جادو تھا کہ نہ تو رانی طوائف رہی اور نہ ارباب صاحب زادہ ۔دونو ں اپنے اپنے مقام کو چھوڑ کر اس مقام پر آ کھڑے ہوے جو سسی پنوں ،ہیر رانجھا، اور سوہنی مہنوال کا تھا ۔

کچھ ملاقاتوں کے بعد ہی انھوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا ۔نائیکہ نے رانی کو بہت مار پیٹا۔خوب سزائیں دیں ۔ارباب کے آگے اس کی ماں بہنوں نے ہاتھ جوڑے ۔ باپ نے جائیداد سے عاق کرنے کی دھمکی دی ۔دوستوں اور سکھیوں نے دونوں کو سمجھایا ۔لیکن ارباب اور رانی چھپ چھپا کر وکیل کے پاس گئے ۔نکاح کیا اور لاہور آ گئے ۔چھوٹے سے فلیٹ میں رہنے لگے ۔

گھر میں معمولی سامان تھا ۔ارباب کے بینک میں اتنے پیسے تھے جن سے سات آٹھ مہینے گزارے جا سکتے تھے ۔

جب کبھی ارباب رانی کو خاموش دیکھتا تو کہتا ۔

’’رانی میں جانتا ہوں ،تم اچھا کھاتی اور اچھا پہنتی تھی ،تمھارے ہاتھ مہندی اور پھولوں سے سجے رہتے تھے ،لیکن اب تمہیں جھاڑو پوچا اور دھلائی کرنی پڑتی ہے ۔لیکن تم فکر نہ کرو ،مجھے جونہی نوکری ملے گی ،تو میں کوشش کروں گا کہ تمہیں وہی سکھ دے سکوں “۔

’’وہی سکھ”۔

رانی تڑپ اٹھتی۔”جہاں میں بکاؤ مال تھی وہاں سکھ کیسا ؟۔میں تو ہر وقت دکھ کی سولی چڑھتی تھی زندہ لاش کی طرح تھی ۔تم نے مجھے ۔گناہ آلود زندگی سے نکال کر اپنی عزت بنایا ۔مجھے اتنا اونچا مقام دیا کہ میں ساری زندگی تمھارےقدموں کی دھول چاٹ کر بھی گزارہ کر سکتی ہو ں ۔”

سارا دن نوکری کی تلاش میں مارا مارا پھرنے کے بعد شام کو تھکا ہارا گھر آتا تو ارباب کی اڑی اڑی رنگت دیکھ کر رانی کی آنکھیں بھیگ جاتیں ۔

’’ارباب میری جان ! تم نے میری خاطر اپنا سکھ آرام ،اپنی جائیداد سب کچھ چھوڑ دیا ۔کاش میں تمہیں کچھ دے سکتی “

’’تم نے مجھے اپنا پیار دیا ۔یہی میرے لئیے سب سے بڑا خزانہ ہے ۔مجھے تمھارے علاوہ دنیا سے کچھ نہیں چاہیے “

لیکن ارباب جانتا تھا ۔کہ محبت پیٹ نہیں بھر سکتی ۔صرف پیار کا پیالہ پی کر انسان زندہ نہیں رہ سکتا ۔آج بھی وہ نوکری کی خاطر لبرٹی مارکیٹ میں خوار ہوتا رہا ۔اس نے اپنے آپ کو سیلز مین بننے کے لئیے بھی تیار کر لیا ،لیکن یہاں بھی اسے مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا ۔شام ہو چلی تھی ۔کاروں کی قطار کے درمیان سے گزرتے ہوے اسے نسوانی آواز سنائی دی ۔

’’پلیز میری بات سنیں !”

ارباب نے مڑ کے دیکھا ۔وہ چالیس پینتالیس سال کی ماڈرن عورت تھی ۔شکل عام سی تھی مگر جسم سمارٹ تھا تاہم میک آپ اور جینز شرٹ کے ساتھ اپنے آپ کو جوان دکھنے کی کوشش کیےہوئے تھی ۔

’’میری کار سٹارٹ نہیں ہو رہی ۔آپ میری مدد کریں گے ؟ پلیز‘‘

اسنے کچھ ایسے انداز سے بات کی کہ ارباب اس کے ساتھ چل پڑا۔یہ کالے رنگ کی ٹیوٹا کرولا تھی ۔جو ارباب کے ہاتھ لگاتے ہی سٹارٹ ہوگئی ۔

’’کار تو ٹھیک ہے “۔وہ حیرانی سے بولا ۔

’’اچھا”——————وہ ہلکا سا مسکرائی۔ “تمھارے ہاتھوں کا کمال ہے ۔میں نے تو بہت کوشش کی‘‘

ارباب نیچے اتر آیا ۔عورت نے فورن دوسری طرف کا دروازہ کھول دیا ۔

’’میں کیسے آپ کا شکریہ ادا کروں ۔چلیں شکریہ کے طور پر میں آپکو ڈراپ کر دیتی ہوں “۔

ارباب کو سوچتے ہوے دیکھ کر وہ اصرار کرنے لگی

’’چلو نا پلیز “!
ارباب اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔وہ کار چلاتے ہوے بولی “میرا نام تہمینہ ہے ۔لیکن سب مجھے مینا کہتے ہیں ۔میرا ڈرائیور چھٹی پر ہے ۔اس کی شادی ہے ۔آج مجھے خود ڈرائیونگ کرنی پڑی ۔آپ کا نام ؟۔”
’’میرا نام ارباب ہے “

’’آپ کیا کرتے ہیں ؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں ،روزگار کی تلاش میں لاہور آیا ہوں ،لیکن لگتا ہے اتنے بڑے شہر میں میرے لئیے کوئی نوکری نہیں “۔
مینا کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا ،مسکرائی اور بولی

’’کیا حسن اتفاق ہے ،مجھے ڈرائیور کی تلاش ہے ۔آپ کو نوکری کی “۔پھر کچھ سوچ کر بولی

’’سوری آپ پڑھے لکھے اور بڑے گھر کے لگتے ہیں ۔یہ نوکری شاید آپ کی شان کے مطابق نہیں ۔”

’’نہیں نہیں ۔میڈم ! مجھے آپ کی جاب منظور ہے ۔میں بڑے گھر کا پڑھا لکھا ضرور ہوں لیکن ضرورت مند ہوں “۔

’’فکر نہ کرو ارباب ۔” اس کی آنکھیں پھر چمکنے لگیں ۔” میں تنخواہ تمھاری حیثیت کے مطابق دوں گی “

مینا نے اسے فلیٹ کے پاس اتارا اور اپنا وزیٹنگ کارڈ دیتے ہوے بولی ۔”صبح نو بجے میں انتظار کروں گی “۔
فلیٹ میں داخل ہوتے ہی ارباب نے رانی کو گلے لگا لیا ۔”رانی مجھے نوکری مل گئی ہے ۔مشکل وقت ختم ہو گیا ۔”رانی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تیرنے لگے ۔ ’’کہاں “؟۔اس نے پوچھا ۔”یہاں “ ۔ارباب نے اسے کارڈ پکڑا دیا ۔

اگلے دن مینا اپنے شاندار ڈرائینگ روم میں بیٹھی انتظار کر رہی تھی ۔تمام معاملات طے ہو گئے تو ارباب نے جھجھکتے ہوے پوچھا ’’میڈم ! آپ کی فیملی ؟—“

’’تم گھر کے ملازم نہیں بلکہ فیملی ممبر کی طرح ہو ۔ تم سے کیا چھپاؤں ۔میرا شوہر امریکہ میں۔ ہے اس نے وہاں شادی کی ہوئی ہے ۔میری بیٹی ارونا نشتر میڈیکل کالج ملتان میں پڑھتی ہے ۔ویک اینڈ پر بزریعہ جہاز آتی ہے ۔میرا ایک بیٹا شہزاد ہے ۔پی اے ایف کی ٹریننگ کر رہا ہے ۔میں ملازمہ کے ساتھ اکیلی رہتی ہوں ۔”

مینا کے چہرے پر دکھ کی پرچھائیں دیکھ کر ارباب بھی دُکھی ہو کیا ۔کچھ ہی دنوں میں ارباب کو اندازہ ہو گیا کہ وہ بہت نرم دل اور مہربان خاتون ہے ۔ارباب نے اسے رانی کا ماضی تو نہ بتایا لیکن یہ بتا دیا کہ انھوں نے لو میرج کی ہے ۔اور اسی وجہ سے وہ مشکل حالات میں ہیں ۔مینا نے ارباب کو قیمتی سوٹ لے کر دئیے ساتھ ہی رانی کے لئیے بھی قیمتی سوٹ اور ہار سنگھار کا سامان خرید کر دیا ۔
رانی یہ چیزیں دیکھتی تو خوشی سے ارباب کے کندھے پر سر رکھ دیتی ۔

’’ارباب میں تو سمجھتی تھی کہ زندگی میں صرف تمھارا پیار ملے گا ۔یہ ساری اشیاء کیسے مل گئیں یقین نہیں آتا ——“
’’یہ تمھارا مقدر ہے رانی ! جو مجھے اتنے امیر گھر میں نوکری ملی ہے ۔کہاوت ہے کہ پیسہ عورت کے مقدر سے اور اولاد مرد کے مقدر سے ہوتی ہے “
پھر وہ پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا اور کہتا ،”تمھارے مقدر تو کھل گئے میرا کب کھلے گا ۔”
رانی کھل اٹھتی اور دونوں بچے کی باتیں کرنے لگتے جس کے آنے کا ابھی کچھ علم نہ تھا کہ کب آۓ گا ۔

کچھ دنوں بعد مینا کا ڈرائیور بھی آگیا ۔وہ لمبا چوڑا خوبصورت پٹھان تھا ۔مینا نے ارباب کے سامنے اسے نوٹوں سے بھرا لفافہ دیا اور بولی ۔”شیر خان ! اس میں تمھارا حساب ہے ۔میں نے نیا ڈرائیور رکھ لیا ہے “
شیر خان کچھ نہیں بولا ،عجیب عجیب نظروں سے ارباب کو دیکھتا رہا اور پھر واپس چلا گیا ۔

رات کو مینا کی سہیلی کی بیٹی کی شادی تھی ۔رات بارہ بجے دلہن رخصت ہوئی ۔تب مینا سردی سے ٹھٹھرتی کار میں آ بیٹھی۔ارباب نے کار سٹارٹ کی اور ہیٹر آن کر دیا ۔مینا نے باریک ساڑھی کے ساتھ اونچا بلاؤز پہنا ہوا تھا ۔اوپر کوئی گرم کپڑا نہ تھا ۔ہیٹر کے باوجود وہ کانپ رہی تھی ۔اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور سانس چڑھ رہا تھا ۔ارباب نے پورچ میں کار روکی تو وہ بولی ۔
’’تمہیں گھر جانے کے لئیے اس وقت کوئی سواری نہیں ملے گی ۔یہی کار لے جانا لیکن پہلے اندر چلو ،سردی ہے کافی پی لو ۔”
’’لیکن میڈم مجھے دیر ——-“

’’میں نے کیا کہا تم سے ———“وہ حکم دینے والے انداز میں بولی ۔ارباب ڈرائینگ روم میں بیٹھ گیا ۔مینا کوکب کو کافی بنانے کا کہ کر بیڈ روم چلی گئی ۔کچھ دیر بعد کوکب کافی بنا کر بیڈ روم میں دے آئی اور ارباب سے کہنے لگی ۔”میڈم کہ رہی ہیں ۔میرے پاس آکر کافی پی لیں “

ارباب اٹھ کر بیڈ روم چلا گیا ۔

پھر ارباب اور رانی سچ مچ کے راجہ رانی کی طرح رہنے لگے ۔وہ فلیٹ چھوڑ کر بڑے مکان میں آ بسے ۔ارباب نے گھر کے کام کے لئیے رانی کو نوکر بھی رکھ دیا ۔گھر میں ضرورت کی ہر چیز آ گئی ۔وہ اور رانی شاپنگ کرتے ،رانی جس چیز پر ہاتھ رکھتی ارباب اسے دلا دیتا ،دونوں بہترین ہوٹلوں میں کھانا کھاتے ۔پارکوں کی سیر کرتے ۔زندگی ان کی سوچ سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گئی ۔پھر ایک دن رانی نے ارباب کو بتایا “ ۔تم کہتے تھے کہ اولاد مرد کا مقدر ہوتی ہے ۔تمھارے مقدر بھی کھل گئے ہیں “ ارباب خوشی سے اچھل پڑا ۔

اس خوشی کے ابھی تین چار ماہ گزرے تھے کہ رانی کی طبیعت خراب ہو گئی ۔کمر میں سخت درد تھا ۔اسے محسوس ہوا کہ اگر وہ فورن لیڈی ڈاکٹر کے پاس نہ گئی تو نئی زندگی کہیں اس کے اندر ہی ختم نہ ہو جائے ۔ارباب گھر نہیں آیا تھا ۔رانی نے مینا کا کارڈ نکالا اور بار بار اس کے گھر کا نمبر ملاتی رہی ۔لیکن فون خراب تھا ۔اس نے نوکر سے ٹیکسی منگوائی اور مینا کی کوٹھی چلی گئی ۔بیل بجائی تو کوکب باہر آئی ۔
’’میری طبیعت بہت خراب ہے ۔ارباب کو بلا دو ،ڈاکٹر کے پاس جانا ہے “

’’آپ ادھر ہی رکیں میں بلاتی ہوں “ کوکب مڑی لیکن رانی کو تکلیف اور سردی سے وہاں کھڑا ہونا مشکل لگا ۔وہ بھی آہستہ آہستہ اس کے پیچھے چل پڑی ۔کوکب کو اس کا اپنے پیچھے آنے کا پتہ نہ چلا۔اس نے مینا کے بیڈ روم کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ارباب دروازہ کھول کر باہر آیا تو رانی کو دیکھ کر شرم سے پانی پانی ہو گیا ۔

’’آپ کی بیگم نے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے اس وجہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” کوکب مڑتے ہوے بولی ۔

رانی نے بیڈ روم کا تھوڑا سا دروازہ مزید کھول کر دیکھا اور زور سے دروازہ بند کردیا ۔کار میں بیٹھ کر ارباب نے دبی دبی آواز میں پوچھا “ کہاں جائیں لیڈی ڈاکٹر کے کلینک یا ہسپتال کی ایمرجنسی ؟”۔
’’کہیں بھی نہیں “۔ رانی اپنی کانپتی آواز کو مضبوط بناتے ہوے بولی ۔ “طوائف کو بچے کی ضرورت نہیں ہوتی “
’’کیا مطلب ؟” ارباب نے مڑ کر پوچھا

’’ میں اپنے کوٹھے پر جاؤں گی ،ایک بکاؤ مال ،مرد طوائف کی عورت بننے سے بہتر ہے میں خود طوائف بن جاؤں “

Leave a Reply