ممتاز مفتی کو مداحوں سے بچھڑے 24 سال بیت گئے

Spread the love

ممتاز مفتی اردو ادب میں ایک ممتاز نام۔ ممتاز مفتی اپنی اوائل دور میں ایک لبرل اور مذہب سے بیگانے دانشور کی حیثیت سے مشہور تھے۔ ممتاز شیریں کی طرح وہ بھی سگمنڈ فرائڈ کے کام سے متاثر تھے۔ اشفاق احمد جو ممتاز مفتی کے قریبی دوست تھے کے مطابق ممتاز مفتی تقسیم ہند سے پہلے غیر معروف ادب کے انتہائی دلدادہ تھے، یہاں تک کہ وہ اکثر سویڈن کے کئی غیر معروف ادیبوں کے ناول پڑھتے نظر آتے۔ ممتاز مفتی ابتدا میں تقسیم ہند کے انتہائی مخالف تھے لیکن بعد میں انتہائی محب وطن پاکستانی اور اسلام پسند کے طور پر جانے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی ذات میں یہ تبدیلی قدرت اللہ شہاب سے تعلق قائم ہونے کے بعد پیش آئی۔ گو کہ ان کی شخصیت پر قدرت اللہ شہاب کی عادات، اطوار اور نظریات اثر انداز ہوئے لیکن پھر بھی وہ بحیثیت ادیب اپنی یگانیت اور اچھوتے پن کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ ممتاز مفتی کی تحریریں زیادہ تر معاشرے میں موجود کئی پہلوؤں اور برائیوں کو اجاگر کرتی نظر آتی ہیں۔

حالات زندگی

ممتاز مفتی کا اصل نام مفتی ممتاز حسین تھا۔ ممتاز مفتی 11 ستمبر 1905ء بمقام بٹالہ (ضلع گورداسپور) بھارتی پنجاب میں مفتی محمد حسین کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیمامرتسر، میانوالی، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں پائی۔ میٹر ک ڈیرہ غازی خان سے اور ایف اے امرتسر سے اور بی اے اسلامیہ کالج لاہور سے کیا۔ ان کا پہلا افسانہ “جھکی جھکی آنکھیں” ادبی دنیا لاہور میں شائع ہوا اور اس طرح وہ مفتی ممتاز حسین سے ممتاز مفتی بن گئے۔

ان کے کئی افسانوی مجموعے شائع ہوئے جن میں “ان کہی”،”گہماگہمی”، “چپ”، “روغنی پتلے” اور “سمے کا بندھن” شامل ہیں۔ “علی پور کا ایلی” اور “الکھ نگری” سوانحی ناول میں شمار ہو تے ہیں۔ جبکہ”ہند یاترا”، “لبیک” جیسے سفر نامے بھی تحریر کیے اور خاکہ نگاری میں “اوکھے لوگ”،”پیاز کے چھلکے” اور “تلاش” جیسی کتابوں کے خالق ہیں۔

خاکہ نگاری

ممتاز مفتی کہانی ، افسانہ اور شخصیت نگاری کا خوبصورت حوالہ ہیں۔انہوں نے جس شخصیت کو بھی اپنا موضوع بنایااسے اِس خوبصورتی اور اچھوتے پن کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا کہ وہ شخصیت اپنی تمام تر آب و تاب کے ساتھ ابھر کر سامنے آگئی۔ممتاز مفتی نے شخصیت نگاری، خاکہ نویسی کو ایک نئی ہیٔت دی، انداز دیا، ایک نیا اسلوب دیا۔ مَیں ممتاز مفتی کا پَیرو کار اس اعتبار سے ہوں کہ ممتاز مفتی شخصیت نگار ی کے فن کے استاد ہیں اور میں بھی اس شعبے میں گزشتہ تین دہائیوں سے ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہوں، شخصیت نگاری ، خاکہ نگاری کا ایک طالب علم ہوں، میں نے ممتاز مفتی کو پڑھا اور ان سے بہت کچھ سیکھا،اگر میں یہ کہوں کہ وہ میرے روحانی استاد ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ آج میرا موضوع ممتاز مفتی ہیں ۔

ان پر لکھنے کی ابتدا ان ہی کی کہی ہوئی بات سے ہی شروع کروں گا، ممتاز مفتی کا کہنا تھا کہ’ آپ کو صرف اس شخصیت پر لکھنے کا حق حاصل ہے جس کے لیے آپ کے دل میں جذبہ ٔ احترام ہے‘۔ میں ممتاز مفتی کی اس بات کی سو فیصد تائید کرتا ہوں ، میری اپنی رائے بھی یہی ہے اور میں نے اپنے تجربے سے یہ سیکھا ہے کہ شخصیات کو اپنا موضوع بنانے والوں کو انہی لوگوں پر قلم اٹھانا چاہیے جن کے لیے ان کے دل میں محبت، اِحتِرام، عزت، توقیر اور حُرمت کا جذبہ پایا جاتا ہو۔

الحمد اﷲ مَیں نے اب تک بے شمار احباب کی شخصیت کو اپنا موضوع بنایا ، ان میں شاعر ، ادیب، مصنفین، سماجی شخصیات، سیاسی شخصیات، اپنی ماں اور اپنے باپ کے علاوہ بعض عزیز و رشتہ داروں پر لکھ میرے دل میں ان کے لیے یہی جذبہ تھا۔ اردوکا یہ مایۂ ناز افسانہ نگار ، خاکہ نگار اور سفر نامے لکھنے والا ادیب و قلم کار 27اکتوبر 1995 ء میں ہم سے جدا ہوا لیکن اس کی تحریریں آج بھی ادب کی دنیا میں اہم ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں