150

27 اکتوبر کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1904ء – دنیا کی پہلی سب وے انٹر ریپڈ ٹرانزٹ نیویارک میں چلنی شروع ہوئی

1937ء – آواز کے ساتھ ریکارڈ کی گئی نیوز ریل پہلی مرتبہ نیویارک میں پیش کی گئی

1958ء – اسکندر مرزا کی برطرفی کے بعد جنرل ایوب خان نے صدرِ پاکستان کا عہد ہ سنبھالا

1959ء – صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان فیلڈ مارشل بنے

1983ء – چین نے اعلان کیا کہ اُس کی آبادی ایک بلین سے تجاوز کرگئی ہے

1990ء – پاکستان میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد ہوئے۔

2009ء – پاکستان کے شہر ‍پشاور میں قصہ خوانی بازار میں ایک مینا بازار کے دوران ایک بم دھماکے میں 113 افراد ہلاک ہو گئے۔

ولادت

1931ء نوال السعداوی کی ولادت 27 اکتوبر 1931ء کو ہوئی۔وہ مصری مصنفہ، ناول نگار، نسوانیت کی علم بردار، سماجی کارکن، طبیبہ اور ماہر نفسیات ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں، تقریروں اور سماجی خدمات میں اسلام میں خواتین پر بہت کام کیا اور بالخصوص نسوانی ختنہ ان کا توجہ کا مرکز رہا۔ انہیں عرب دنیا کی سیمون دی بووار کہا جاتا ہے۔

1935ء علی اصغر خدا دوست ایک ایرانی ماہر امراض چشم و سرجن ان کو قرنیۂ چشم کی پیوند کاری میں خاص مہارت حاصل تھی، ان کے اعزاز میں خدا دوست ریجیکشن لائن کا نام رکھا گیا ہے۔ ان کی پیشہ وارنہ ساکھ، قرینۂ چشم پر وسیع تحقیقی کام اور حیاتیاتی پیوند کاری کی وجہ سے تھی۔ خدا دوست امریکی جامعہ جونز ہوپکن میں پہلے اور واحد غیر ملکی نائب (اسسٹنٹ) بنائے گئے۔ ولمرز مرکز برائے عینیات (علمِ امراضِ چشم) کے سب سے بہترین اسسٹنٹ تھے۔ خدا دوست نے ایرانی تاریخ میں پہلا قورنیہ کی منتقلی کا کامیاب آپریشن کیا۔ امام رضا کے مزار قدس رضوی کے محکمہ صحت کے اعلیٰ ترین نشان’’ خادمیار سلامت رضوی‘‘ دیا گیا۔ خدا دوست نے نیو یارک بریسبٹیرین ہسپتال، نیو یارک شہر میں 10 مارچ 2018ء کو 82 سال کی عمر میں وفات پائی۔

1951ء غلام محی الدین اردو اور پنجابی فلموں کے پاکستانی اداکار ہیں۔ ان کی پہلی فلم میرا نام ہے محبت تھی جو 1975ء میں رلیز ہوئی۔ یہ فلم پاکستان اور چین دونوں میں بہت مقبول ہوئی۔ اس فلم کی کہانی چینی لوک کہانی سے متاثر ہو کر لکھی گئی تھی۔ اس کے مد مقابل اداکارہ بابرہ شریف تھیں۔ اس فلم پر ان کو نگار ایوارڈز ملا، جبکہ اس کے بعد بھی وہ کئی فلمی اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔

وفات

1331ء ابو الفداء عرب مورخ تھا۔ دمشق میں پیدا ہوا۔ صلیبی جنگوں میں عیسائیوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ 1301میں شام کے ایک علاقے کا گورنر بھی رہا۔ کئی کتب تصنیف کیں۔ جن میں تاریخ البشر ﴿ قبل از اسلام سے آٹھویں صدی ہجری تک اور تقویم البلدان ﴿علم جغرافیہ بہت مشہور ہیں۔

1405ء علامہ کمال الدین الدمیری پندرہویں صدی عیسوی میں مصری محدث، محقق، عالم تھے۔ علامہ دمیری کی وجہ شہرت اُن کی تصنیف حیات الحیوان ہے۔

1505ء ماسکو کا بادشاہ اُسے ایوان اعظم بھی کہتے ہیں۔ اس نےروس کو تاتاریوں کی دو سو سالہ باجگزاری سے آزاد کرایا۔ تاتاریوں کو پے درپے شکستیں دیں اور پولینڈ پر قبضہ کیا۔ اس کے دور حکومت میں پہلی دفعہ ماسکو کے دربار میں غیر ملکی سفیر اور ایلچی آنے شروع ہوئے۔ اس نے روسی ریاست کا نشان دو مونہا عقاب رکھا۔

1795ء پیشوا مادھو راؤ دوم، جنہیں سوائے مادھو راؤ پیشوا اور مادھو راؤ دوم ناراین بھی کہا جاتا ہے، ہندوستان کی مرہٹہ سلطنت کے پیشوا تھے۔ ان کے والد ناراین راؤ پیشوا تھے جنہیں رگھوناتھ راؤ کے حکم پر سنہ 1773ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔ مادھو راؤ کی پیدائش اپنے والد کی وفات کے بعد ہوئی۔ چونکہ مادھو راؤ قانونی وارث تھے اس لیے سنہ 1782ء میں معاہدہ سال بائی کی مدد سے انہیں پیشوا مقرر کیا گی۔ مادھو راؤ نے اکیس برس کی عمر میں شنیوار واڑہ کی اونچی دیوار سے کود کر خودکشی کر لی۔ اس خودکشی کا سبب غالباً یہ تھا کہ مادھو راؤ کے لیے نانا فڈنویس کی روز افزوں خودسری ناقابل برداشت ہو گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے خودکشی سے قبل گھاشی رام کوتوال کے حکم سزائے موت کی مخالفت کی تھی اور یہ پہلا موقع تھا جب مادھو راؤ نے نانا صاحب کی حکم عدولی بلکہ مخالفت کی۔

1968ء سید رئیس احمد جعفری ندوی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور صحافی، مورخ، ماہرِ اقبالیات، ناول نگار، مترجم اور سوانح نگار تھے۔

1978ء پروفیسر علامہ عبد العزیز میمن، پاکستان سے تعلق رکھنے والے عربی زبان و ادب کے نامور عالم، استاد اور 30 سے زیادہ کتابوں کے مصنف، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ پنجاب اور کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ عربی کے صدر تھے۔

1980ء جان ہیزبروک وان ویک ایک امریکا کے طبیعیات دان تھے۔ انھوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا یہ انعام 1977ء میں انھوں نے اپنے ہم وطن سائنس دان فلپ وارن انڈرسن اور برطانوئی سائنس دان نیول فرانسس موٹ کے ہمراہ ایک نئے قسم کے بھاری عناصری زرات کو دریافت کرنے پر جیتی۔

1995ء ممتاز مفتی، اردو ادب میں ایک ممتاز نام۔ ممتاز مفتی اپنی اوائل دور میں ایک لبرل اور مذہب سے بیگانے دانشور کی حیثیت سے مشہور تھے۔ ممتاز شیریں کی طرح وہ بھی سگمنڈ فرائڈ کے کام سے متاثر تھے۔ اشفاق احمد جو ممتاز مفتی کے قریبی دوست تھے کے مطابق ممتاز مفتی تقسیم ہند سے پہلے غیر معروف ادب کے انتہائی دلدادہ تھے، یہاں تک کہ وہ اکثر سویڈن کے کئی غیر معروف ادیبوں کے ناول پڑھتے نظر آتے۔ ممتاز مفتی ابتدا میں تقسیم ہند کے انتہائی مخالف تھے لیکن بعد میں انتہائی محب وطن پاکستانی اور اسلام پسند کے طور پر جانے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی ذات میں یہ تبدیلی قدرت اللہ شہاب سے تعلق قائم ہونے کے بعد پیش آئی۔ گو کہ ان کی شخصیت پر قدرت اللہ شہاب کی عادات، اطوار اور نظریات اثر انداز ہوئے لیکن پھر بھی وہ بحیثیت ادیب اپنی یگانیت اور اچھوتے پن کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ ممتاز مفتی کی تحریریں زیادہ تر معاشرے میں موجود کئی پہلوؤں اور برائیوں کو اجاگر کرتی نظر آتی ہیں۔

2006ء – غلام اسحاق خان بنگش پاکستان کے سابق صدر تھے۔ انہوں نے سیاست میں آنے سے بہت پہلے سرکاری عہدوں پر خدمات سر انجام دیں۔ ضلع بنوں کے ایک گاؤں اسماعیل خیل میں ایک پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پشتونوں کے بنگش قبیلے سے تھا ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے پشاور سے کیمسٹری اور باٹنی کے مضامین کے ساتھ گریجویشن کی۔ انیس سو چالیس میں انڈین سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں