80

حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم،بات چیت جاری رکھنے پراتفاق

Spread the love

اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر) حکومتی اور اپوزیشن کمیٹیاں کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکیں، تاہم دونوں جانب سے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے. ذرائع کے مطابق حکومت نے اپوزیشن کے مطالبات مسترد کر دیئے ہیں۔ اپوزیشن نے ڈی چوک کے ساتھ یا چائنا چوک پر جلسے کرنے کا مطالبہ رکھا تاہم حکومت نے دونوں مقامات پر جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔حکومتی اور اپوزیشن کمیٹیوں کے سربراہ پرویز خٹک اور اکرم درانی نے اعتراف کیا ہے کہ وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

اکرم درانی کا کہنا تھا کہ ہم نے کوئی ٹائم فریم نہیں رکھا کہ آئندہ ملاقات کب ہوگی۔ ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچے تاہم بات چیت جاری رہے گی۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ بات چیت مکمل نہیں ہوئی، ہم نے ایک دوسرے کی تجاویز سنیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کردیا جیو نیوز نے وزیر اعظمہائوس کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے پرویز خٹک کی بریفنگ کے وزیر اعظم عمران خان نے وزارت داخلہ کو دھرنے سے نمٹنے کیلئے انتظامات کرنے کی ہدایت کردی ہے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں اپوزیشن کو پریڈ گرائونڈ مین جلسے کی پیش کش کی ڈی چوک میں کسی صورت جلسہ نہیں کرنے دیا جائے گا ،

اپوزیشن کو کوئی غلط فہمی ہے تو اپنا شوق پورا کرلے ، حکومتی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گااس سے قبل متحدہ اپوزیشن اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بھی بے نتیجہ ختم ہوگیا تاہم بات چیت جاری رکھنے پر اتفا کیا گیا ہے ۔حکومت کی جانب سے اپوزیشن سے مذاکرات کیلئے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی وزیردفاع پرویز خٹک کررہے ہیں جبکہ کمیٹی میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی، وفاقی وزراء شفقت محمود، نورالحق قادری اور اسد عمر بھی شامل ہیں۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان ملاقات اسلام آباد میں ہوئی جہاں مذاکرات کا پہلا دور ہوا۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے چاروں مطالبات تحریری طور پر حکومتی ٹیم کے حوالے کیے ہیں جبکہ حکومتی کمیٹی نے رہبر کمیٹی سے وزیراعظم سے مشاورت کیلئے وقت مانگا ۔

رہبر کمیٹی کے مطالبات میں وزیراعظم کا استعفیٰ، نئے انتخابات، آئین میں اسلامی دفعات کا تحفظ اور سویلین اداروں کی بالادستی بھی شامل ہیں۔حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ پرویز خٹک نے وزیر اعظم عمران خان کو ٹیلی فون کیا اور رہبر کمیٹی سے مذاکرات کے پہلے دور کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ پرویز خٹک نے رہبر کمیٹی کے 4 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ سے آگاہ کیا جس پر وزیراعظم نے اپنے استعفے اور دوبارہ انتخابات کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نے آزادی مارچ کے مقام کے معاملے پر رہبر کمیٹی سے مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم مذاکرات کے آخری دور میں اس پر بھی اتفاق نہ ہو سکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں