78

نواز شریف کی ضمانت منظور

Spread the love

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس علی باقرنجفی اور مسٹر جسٹس سرداراحمد نعیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے چودھری شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار سابق وزیراعظم میاںمحمدنواز شریف کی طبی بنیادوں پردرخواست ضمانت منظورکرتے ہوئے انہیں ایک ایک کروڑ کے دو مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیاجبکہ اسی کیس میں گرفتاران کی صاحبزادی مریم نواز کی درخواست ضمانت کی سماعت پیر28اکتوبر پر ملتوی کردی ، مریم نواز کی درخواست ضمانت کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا ان کے وکیل اعظم نذیرتارڑ نے کی تھی تاکہ مریم نواز کی ان کے والد میاں نواز شریف سے ہسپتال میںملاقات کے لئے پنجاب حکومت کودرخواست دی جاسکے ،عدالت نے مریم نواز کی درخواست ضمانت پر نیب کوباقاعدہ نوٹس جاری کرتے جواب بھی طلب کرلیاہے ۔

عدالت میں میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز نے بیان دیا کہ میاں نواز شریف کی حالت تشویشناک ہے ،وہ سفر کے قابل بھی نہیں ہیں، مرض کی تشخیص کے حوالے سے میڈیکل بورڈ کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچا،پلیٹ لیٹس گرنے کے ساتھ ساتھ انہیں دوبارہ انجائنا کی تکلیف بھی ہوئی ہے ،اس کیس کی ایک ہی دن میں مختلف وقفوں کے ساتھ پانچ مرتبہ سماعت ہوئی ،عدالت کو وفاقی حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہیں،عدالت کے استفسار پر کہ کیا انہیں نواز شریف کے بیرون ملک جانے پر اعتراض ہے ،پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیاکہ اگر ڈاکٹر سمجھتے ہیں کہ ان کا علاج پاکستان میں موجود نہیں تو ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوگا،

میاںنواز شریف کی رہائی کے لئے ابتدائی طور پر ان کے بھائی میاں شہباز شریف نے درخواست دائر کی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی بیماری کے پیش نظر میاں نوازشریف کو ضمانت پررہا کیا جائے تاکہ وہ اپنی مرضی سے پاکستان یا بیرون ملک اپنا علاج کرواسکیں۔درخواست ضمانت میںان کانام ای سی ایل سے خارج کرنے کی استدعا نہیں کی گئی ،صرف ضمانت پر رہائی مانگی گئی تھی تاہم فاضل بینچ نے اپنے سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ انڈر ٹرائل ملزم کو طبی بنیادوں پر ضمانت کی صورت میں ملک کے اند اور بیرون ملک کسی بھی پسند کی جگہ پر علاج کروانے کا آئینی حق ہے،

اپنا تبصرہ بھیجیں