انسانی ہڈیوں میں نئی قسم کی خون کی رگیں دریافت

Spread the love

ہمیں انسانی تشریح الاعضا (ایناٹومی) کی درسی کتب کو نئے سرے سے مرتب کرنا ہوگا کیونکہ انسانی ران کی ہڈی میں ایک بالکل مختلف قسم کی نئی رگ (بلڈ ویسل) دریافت ہوئی ہے۔ہڈی کے اوپر سے ہوکر اندر کی جانب جاتی ہوئی اس رگ کی دریافت سے ہڈیوں کی ساخت، گٹھیا جیسے امراض اور خود امنیاتی نظام کو سمجھنے میں بہت مدد ملے گی۔ جرمنی میں یونیورسٹی آف ڈائس برگ ایسن سے وابستہ پروفیسر میتھائس گونزراور ان کے ساتھیوں نے یہ نئی دریافت کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انسانوں میں پہلی مرتبہ اس جگہ خون کی رگیں دریافت کی ہیں جہاں ہماری نظر اس سے پہلے نہیں پہنچی تھی۔پہلے ماہرین نے پہلے مرحلے پر چوہوں کی ہڈی میں خاص کیمیکل شامل کرکے ہڈی کو شفاف بنایا جس کے بعد کئی رگیں ہڈی کو عبور کرتے ہوئے دیکھی گئیں۔ چوہوں کے ٹانگ کی نچلی ہڈی کی جسامت ماچس کی تیلی جتنی ہے جس میں ہزاروں باریک شریانیں (کیپلریز) نظر آئیں جنہوں نے پوری ہڈی کو لپیٹ میں لے رکھا تھا۔اس کے بعد سائنسدانوں کی ٹیم نے انسانی ران کی ہڈی میں بھی عین اسی طرح کی رگیں اور وریدیں دیکھی ہیں۔ اگرچہ انسانی ہڈیوں کو خون دینے کے لیے دیگر کئی اقسام کی رگیں بھی ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے ان نئی رگوں کی تعداد چوہوں کے مقابلے میں قدرے کم دیکھی گئی ہے جنہیں ماہرین نے ’ٹرانس کورٹیکل ویسلز‘ کا نام دیا گیا ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply