128

پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر کشیدگی پوسٹل سروس بھی بند کر دی گئی ہے

Spread the love

بھارت میں پاکستان بھیجے جانے والے خطوط اور پارسلز کی بکنگ اور کلیکشن پر اگلے حکم تک پابندی

21 اکتوبر سے کوئی خط، پارسل یا سپیڈ پوسٹ کے ذریعہ پاکستان بھیجنے کے لیے کوئی چیز قبول نہیں کی جا رہی۔

نئی دہلی،اسلام آباد(کے پی آئی) بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے معاملے پر بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر تقسیم برصغیرکے بعد پہلی مرتبہ اب خطوط کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ یعنی پاکستان اور بھارت کے درمیان پوسٹل سروس بھی بند ہوگئی ہے تقسیم ہند کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک تین بڑی جنگیں اور کارگل کی پہاڑیوں میں ایک طویل جھڑپ ہو چکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت اکثر و بیشتر کشیدہ ہی رہی ہے لیکن اس مسلسل کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے عوام کے مابین باہمی رابطے کا ایک اہم ذریعہ یعنی خط و کتابت کے لیے پوسٹل سروس پر کبھی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ لیکن رواں سال اگست کے مہینے میں مودی حکومت کی طرف سے بھارت کے زیرانتظام کشمیر کو بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے، کو ختم کیے جانے کے بعد صورت حال یکسر بدل گئی ہے۔

پاکستان نے بھارت سے آنے والا آخری خط اگست کی 27 تاریخ کو وصول کیا تھا۔ اس کے بعد سے کوئی ڈاک بھارت سے پاکستان نہیں پہنچ رہی کیونکہ پاکستانی حکام نے بھارت کی جانب سے آنے والی ڈاک کو وصول کرنے سے انکار کر رکھا تھا۔ اب پاکستان سے بھی بھارت کی جانب کوئی ڈاک نہیں جائے گی۔ انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی اس خبر کے مطابق بھارتی ڈاک سروس کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ڈاک کی بندش پاکستان کا یک طرفہ فیصلہ تھا اور یہ کہا نہیں جاسکتا کہ پاکستان اپنا فیصلہ کب تبدیل کرے گا۔ انڈین پوسٹل سروس بورڈ کے سیکریٹری اور انٹرنیشنل ریلیشز اینڈ گلوبل بزنس کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کی طرف سے بھارتی ڈاک خانوں کے لیے جاری ایک حکم نامے میں پاکستان بھیجے جانے والے خطوط اور پارسلز کی بکنگ اور کلیکشن پر اگلے حکم تک پابندی لگا دی گئی ہے۔

پیر21 اکتوبر سے کوئی خط، پارسل یا سپیڈ پوسٹ کے ذریعہ پاکستان بھیجنے کے لیے کوئی چیز قبول نہیں کی جا رہی۔بھارت میں اس وقت مختلف شہروں میں 28 ایسے ڈاک خانے ہیں جو بین الاقوامی ڈاک کے معاملات دیکھ سکتے ہیں۔ ان میں سے دہلی اور ممبئی میں واقع دو فارن پوسٹ آفس ایسے ہیں جو پاکستان خطوط اور پارسل بھیجنے کا کام کرسکتے ہیں۔ دہلی کا فارن پوسٹ آفس راجستھان، اترپردیش، ہریانہ، دہلی، پنجاب اور ہماچل پردیش کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر سے پاکستان جانے والی ڈاک کو سنبھالتا ہے جب کہ بقیہ ریاستوں کی ڈاک ممبئی فارن پوسٹ آفس کے ذریعے سے پاکستان بھیجی جاتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں