مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا فوجی محاصرہ مسلسل 79 ویں روز بھی جاری

Spread the love

ٹیلی کام آپریٹروں کو پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ کنکشوں میں تبدیل نہ کرنے کا حکم

اپنی املاک غیر کشمیریوں کو فروخت نہ کریں مزاحمتی قیادت کا کشمیر ی عوام کو ہدایت

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر میںبڑی تعداد میں بھارتی فوجیوںکی تعیناتی اور دفعہ 144کے تحت سخت پابندیوںکے نفاذ کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموںکے مسلم اکثریتی علاقوںمیں منگل کو مسلسل 79 ویں رو ز بھی معمولات زندگی مفلوج رہے۔ مقبوضہ علاقے بعض پوسٹ پیڈ موبائل فون کنکشز ایک ہفتہ قبل کھولے گئے تھے تاہم انٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل کنکشن ابھی تک معطل ہیں۔ان پابندیوںکے باعث لوگوںکا اپنے پیاروںسے رابطہ منقطع ہے اور صحت اور سیاسحت کے شعبے بری طرح متاثرہوئے ہیں۔ دکانیں اور کاروباری مراکز صبح اور شام کے وقت چند گھنٹوں کیلئے کھلنے کے سوا دن بھر بندرہتے ہیں۔ تعلیمی ادارے اوردفاتر اگرچہ کھلے ہیں تاہم ویرانی کا منظر پیش کرر ہے ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہے۔

یہ سول نافرمانی کی ایک غیر رسمی شکل ہے جس نے بھارت کے 5اگست کے غیر قانونی اقدام اور مقبوضہ علاقے میں صورتحال کو معمول کے مطابق ظاہر کرنے کی اس کی کوششوں کے خلاف احتجاج کیلئے وادی کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔طلبا، دکانداروں، پھلوں کے کاشت کاروں، تاجروںاور سرکاری اور نجی شعبے کے کارکنوں سمیت تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ اس جامع اور پر امن تحریک میں حصہ لے رہے ہیں۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق پوسٹ پیڈ موبائل فون سروس جو ایک ہفتہ قبل ہی کھولی گئی ہے کو ایک بار پھر 31اگست کو جب جموںوکشمیر کی یونین ٹیریٹری کی حیثیت کوعملانافذ کیاجائے گا کے موقع پر دوبارہ بند کیا جاسکتا ہے۔ قابض انتظامیہ اس موقع پر بھارت مخالف مظاہروں کو ناکام بنانے کیلئے دیگر پابندیوںکے علاوہ موبائل فون سروس بھی معطل کرسکتی ہے۔

انتظامیہ نے کشمیرمیں تمام موبائیل ٹیلی کام آپریٹروں کو پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ کنکشوں میں تبدیل نہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔مزاحمتی قیادت اور کشمیری شہدا کے ورثا کی طرف سے جاری پوسٹروں میں کشمیری عوام پر زوردیا گیا ہے کہ وہ اپنی املاک غیر کشمیریوں کو فروخت ہ کریں اور مقبوضہ علاقے میں انکا داخلہ ناممکن بنا دیں۔ایک تازہ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض حکام اظہار رائے کی آزادی کے حق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جیلوں میں نظربند اہم رہنمائوں سمیت سیاسی قیدیوں کو رہائی کے عوض کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بھارتی اقدام کے خلاف نہ بولنے اور تبصرہ نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط کرنے پرمجبور کررہے ہیں۔خرم پرویز سمیت قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ نئی شرائط غیر آئینی اور اظہار رائے کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہیں۔

Leave a Reply