انتہا پسند ہندووں کا جموں میں مسلمان خواتین سمیت بے گناہ اور نہتے شہریوں پر حملہ

Spread the love

کٹھوعہ کے شہیدی چوک میں خاتون اور اس کی بیٹی کو سرعام بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا

دونوں خواتین کو لہولہان دیکھتے ہوئے بی جے پی لیڈر کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ ہندو انتہا پسندوں نے جموں ریجن میں خواتین سمیت بے گناہ اور نہتے شہریوں کو ظلم وتشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ بی جے پی کے لیڈر نوین چوہدری نے جموں کے کٹھوعہ قصبہ کے شہیدی چوک میں ایک خاتون اور اس کی بیٹی کو سرعام بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

عینی شاہدین اور متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ نوین چوہدری نے جو ایک وکیل اور بی جے پی کے لیڈر چوہدری چگار سنگھ کا بیٹا ہے معمولی تنازعے پر اشتعال میں آنے کے بعد قصبہ کی ایک دکان میں گھس کر ایک خاتون اور اس کی بیٹی کو گھسیٹے ہوئے باہر نکالا اور انہیں آہنی راڈ سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئیں۔ دکانداروں اور مقامی افراد نے دونوں خواتین کو لہولہان دیکھتے ہوئے بی جے پی لیڈر کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔ مشتعل ہجوم نے بی جے پی کے لیڈر کے غیر انسانی سلوک کے خلاف احتجاج کیلئے کٹھوعہ قصبے کے شہیدی چوک کی مصروف کالج روڈ کو بلاک کردیا۔

Leave a Reply