145

عمران خان استعفیٰ دیں، نئے انتخابات میں فوج نگران نہ ہو

Spread the love

چارٹر آف ڈیمانڈ پر مذاکرات کیلئے رہبر کمیٹی کو اختیار دیدیا گیا

بلوچستان یونیورسٹی میں ہاسٹلز کے کمروں اور باتھ رومز میں خفیہ کیمرے لگانے کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا جائے

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)چارٹر آف ڈیمانڈ پر مذاکرات کیلئے رہبر کمیٹی کو اختیار دیدیا گیا، مذاکرات کیلئے رہبر کمیٹی کو مکمل طورپر نامزد کیا گیا ہے اور حکومتی ٹیم سے مذاکرات میں تمام 9 جماعتوں کے 11 ارکان شامل ہوں گے، اپوزیشن جماعتیں مذاکرات کیلئے چار نکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ تک محدود رہیں گی، مطالبات میں موجودہ حکومت کی بساط لپیٹنے میں، وزیراعظم عمران خان کے استعفے، فوری طورپر نئے انتخابات بغیر فوج کی نگرانی منعقد کرنے اور اسلامی قوانین کا تحفظ شامل ہے، رہبرکمیٹی نے فیصلہ کیا کہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ممکنہ مذاکرات میں اپوزیشن جماعتیں متذکرہ چارٹر آف ڈیمانڈ تک محدود رہیں گی۔ حکومت کی ٹیم اختیار اور اپنی حیثیت کے حوالے سے پوزیشن واضح کرے، بلوچستان یونیورسٹی میں ہاسٹلز کے کمروں اور باتھ رومز میں خفیہ کیمرے لگانے کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا جائے۔

یہ مطالبہ رہبر کمیٹی کے گزشتہ شب ہونے والے اجلاس میں کیا گیا ہے۔ اجلاس کنوینئر اکرم خان درانی کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا، مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، جمعیت علماء اسلام، اے این پی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، جمعیت علماء پاکستان، مرکزی جمعیت اہلحدیث، قومی وطن پارٹی، نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق رہبر کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومتی ٹیم کے اختیار کو دیتے ہوئے بات چیت کی جائے گی اور یہ متذکرہ چارٹر آف ڈیمانڈ تک محدود ہوگی۔ اس حوالے سے حکومتی ٹیم کو پیشگی اپنے اختیار کے بارے میں بتانا ہوگا کہ وہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر بات کرنے کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں۔ رہبر کمیٹی نے اس معاملے میں حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔ چارٹر آف ڈیمانڈ میں کوئی لچک پیدا نہیں کی جائے گی۔

میڈیا کے استفسار پر اکرم خان درانی نے حکومت پر واضح کیا ہے کہ آزادی مارچ ہر صورت ہوگا، رکاوٹیں اور رخنہ ڈالنے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں جوکہ غیر قانونی اور غیر جمہوری اقدامات ہیں۔ رہبر کمیٹی کا اختیار ہوگا کسی سے بات چیت کا اور کسی بھی مذاکرات میں رہبر کمیٹی کے تمام ارکان شریک ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رابطے کو مذاکرات کا نام نہ دیا جائے۔ اے پی سی کے ذریعے مطالبات سے حکومت کو آگاہ کردیا تھا۔

رہبر کمیٹی نو جماعتوں کی نمائندہ کمیٹی ہے۔ چیئرمین سینیٹ انفرادی طورپر کسی جماعت سے رابطے نہ کریں، کمیٹی کا کنوینئر موجود ہے۔ حکومت نے کمیٹی تشکیل دی ہے اس کے اختیار کا پتہ نہیں ہے حکومت ہمیں سنجیدہ نظر نہیں آرہی، وزیراعظم کے بیانات سے اس بات کا واضح اظہار ہورہا ہے۔ ایک جانب کمیٹی بناتے ہیں دوسری جانب گالیاں دیتے ہیں، آزادی مارچ کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا پرامن احتجاج ہمارا آئینی و قانونی حق ہے، ہمارے لوگ پرامن رہیں گے۔میڈیا سے بات چیت کے دوران ان کے ہمراہ احسن اقبال، فرحت اللہ بابر، میاں افتخار اور دیگر ارکان بھی موجود تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں ہاسٹلز کے کمروں اور باتھ رومز میں خفیہ کیمرے لگانے کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا جائے، حکومتی ٹیم نے میرے ساتھ بھی اور بعض دوسری جماعتوں کے ساتھ بھی رابطہ کیا تھا رابطوں کو مذاکرات کا نام نہ دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں