135

18 اکتوبر کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1878ء – ایڈیسن نے گھریلو استعمال کے لیے بجلی عام کردی

1892ء – شکاگو سے نیویارک پہلی کمرشل طویل فاصلے کی فون لائن کام کرنا شروع ہوئی

1918ء – برٹش براڈ کاسٹنگ سروس بی بی سی قائم ہوئی

1957ء – آئی آئی چندریگر کو پاکستان کا وزیر اعظم متعین کیا گیا۔

1979ء – جہانگیر خان نے عالمی اسکوائش ایمیچور چیمپئن شپ جیت لی

2007ء – سابق وزیر اعظم پاکستان بینظیر بھٹو کی آٹھ سالہ جلا وطنی سے واپسی پر کراچی میں ان کے استقبالیہ جلوس میں دو بم دھماکوں سے 124 افراد ہلاک ہو گئے۔

2007ء – بینظیر بھٹو کی پاکستان آمد پر کراچی میں ان کے استقبالیہ جلوس میں 2 خودکش دھماکے ہوئے جس میں 180 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

ولادت

1792ء گلاب سنگھ ریاست جموں اور کشمیر کا پہلا مہاراجا تھا۔ انگریزوں اور سکھوں کی پہلی لڑائی میں سکھوں کی شکست کے بعد وہ انگریزوں سے مل گیا۔ انگریزوں نے جموں اور کشمیر 75 لاکھ روپے کے عوض اسے بیچ دیا۔ جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے جموں پر حملہ کیا تو گلاب سنگھ نے اس کا مقابلہ کیا لیکن شکست کھانے پر سکھ فوج کے ساتھ مل گیا۔ سکھ افواج نے جب ملتان اور پشاور پر حملہ کیا تو یہ ان کے ساتھ تھا۔ پنجاب پر انگریزوں کے قبضے کے بعد وہ کشمیر کا مہاراجا بن گیا۔ گلاب سنگھ کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا رنبیر سنگھ راجا بنا۔

1950 اوم پوری، ہندوستانی آرٹ سینما کے مشہور اداکار۔ جنہوں نے بہت سی انگریزی فلموں میں کام کیا۔ 18 اکتوبر 1950ء کو ہریانہ میں پیدا ہوائے۔ بچپن انتہائی کسمپرسی میں گزارا اور چھ سال کی عمر میں گزر اوقات کے لیے انبالہ میں چائے کے کھوکھے پہ کام کرتے رہے۔ انہو ں نے لوکل تھیٹر میں چھوٹے موٹے رول کرنے شروع کردیے۔ اسی دوران پنجابی تھیٹر کی ایک مہان ایکٹر اور ڈائریکٹر نیلم مان سنگھ کی نظر پڑی۔ وہ ان کو دلی میں نیشنل اسکول آف ڈراما (این ایس ڈی) لے گئی اور بھارتی تھیٹر کے مہان گرو ابراہیم القاضی کے سامنے پیش کر دیا ’’اس بچے میں دم ہے۔ داخلہ مل جائے تو مایوس نہیں کرے گا‘‘ یوں 1973ء میں این ایس ڈی میں داخلہ ہو گیا۔ اس کلاس میں نصیر الدین شاہ بھی تھے۔ 1976ء سے فلموں میں کام کرنا شروع کیا اور ان کی پہلی فلم گھاسی رام کوتوال تھی۔ اس کے بعد سے انہوں نے اب تک ستر سے زائد فلموں، ٹی وی سیریلز اور ڈراموں میں کام کیا ہے۔ ہندی اور دوسری ہندوستانی زبانوں کے علاوہ انہوں نے سات سے زائد انگریزی فلموں میں بھی کام کیا جن میں گاندھی، سٹی آف جوائے، دی پیرول آفیسر، ہیپی ناؤ، دی زو کیپر، گھوسٹ اینڈ ڈارکنس اور گاندھی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایسٹ از ایسٹ، وائٹ ٹیتھ،اور کنٹربری ٹیل جیسے انگریزی ٹی وی سیریلز میں بھی نمایاں اداکار کے طور پر کام کیا۔ پاکستان فلم انڈسٹری سے بھی ان کو بہت لگاؤ تھا۔ جس کا ثبوت ان کی فلم ایکٹر ان لا ہے۔

1965ء ذاکر عبد الکریم نائیک ایک بھارتی مقرر ہیں، جو تقابل ادیان اور مناظروں کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ پیشہ کے لحاظ سے ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں، تاہم 1991ء سے اسلام کی تبلیغ کی جانب اپنی مکمل توجہ دینی شروع کردی۔ آپ مسیحیت اور ہندو مت کے مذہبی رہنماؤں سے مناظروں کے لیے مشہور ہیں۔ بہت سے لوگوں نے آپ کے ہاتھ پہ اسلام قبول کیا۔ آپ ممبئی میں اسلامی تحقیق سنٹر کے صدر ہیں اور اسلامی چینل “پیس ٹی وی” کے نام سے چلا رہے ہیں۔ ذاکر نائیک حاضر جوابی اور مناظرہ میں دسترس رکھتے ہیں، ان کو عالمگیر شہرت مسیحی مناظر ولیم کیمپبل کے ساتھ مناظرہ سے حاصل ہوئی۔ ذاکر نائیک احمد دیدات کے شاگرد بھی رہے ہیں۔ ذاکر نائیک کے ادارہ اسلامک ریسرچ اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو گذشتہ 6 سالوں میں برطانیہ، سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ سے تقریباً 15 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ اس لیے 2016ء میں بھارت کی حکومت نے ان کی تحقیقات کا حکم دیا تاکہ پتہ چلے کہ ان عطایا کو کن مصرف میں خرچ کیا گیا تھا۔ حسینی ٹائیگرز نامی ایک شیعہ گروپ نے فیس بک کے ذریعے ذاکر نائیک کے سر پر پندرہ لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے۔ اس تنظیم کے صدر کلب حسین نقوی ہیں جو مشہور شیعہ عالم کلب صادق کے فرزند ہیں۔ ان کی خفگی کا ایک پہلو یہ بتایا گیا کہ ذاکر نائیک نے شیعہ علما کی توہین کی تھی۔ بنگلہ دیش میں 2016ء ڈھاکہ حملہ کے رد عمل کے طور پر ذاکر نائیک کے پیس ٹی وی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ 2016ء میں یہ کہا گیا ہے کہ ذاکر نائیک کی تبلیغی کوششوں سے متاثر ہو کر مشرف بہ اسلام ہونے والوں میں کیرلا کے 21 شہری بھی ہیں جن کے حالات ہنوز نامعلوم ہیں۔ کیرلا کی حکومت کو یہ اندیشہ ہے کہ یہ لوگ عراق اور الشام میں اسلامی ریاست میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے عالمی دہشت گردی کا حصہ بن گئے ہیں۔ یہی رائے کیرلا کی انڈین نیشنل کانگریس شاخ کی بھی رہی ہے۔ تاہم انڈین یونین مسلم لیگ نے اس بات کے امکانات سے انکار کیا ہے اور ذاکر نائیک کی حمایت کی ہے۔
تصانیف
اسلام پر چاليس(40) اعتراضات کے عقلی و نقلی جواب

مذاہب عالم ميں تصور خدا اور اسلام کے بارے میں غیر مسلموں کے بیس سوال

بائبل اور قرآن جدید سائنس کی روشنی میں

اسلام اور ہندومت (ایک تقابلی مطالعہ)

اسلام میں خواتین کے حقوق … جدید یا فرسودہ؟

1977 کنال کپور بالی وڈ اداکار دهلی میں پیدا ھوئے

1978 جیوتھیکا سادھنا بالی وڈ اداکاره

1982ء آصف شیخ ایک بھارتی سماجی کارکن ہے۔ وہ ہاتھوں سے گند اٹھانے کے رواج کو ختم کرنے کے لیے مہم (راشٹریہ گریما ابھیان) میں اپنے کردار اور جان ساہس کی کئی مہمات کے ذریعے دلت خاص طور پر دلت-مسلمانوں اور عورتوں کی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے لیے جانا جاتا ہے۔ آصف شیخ کی پیدائش 18 اکتوبر 1982ء کو مدھیہ پردیش کے شہر دیواس میں ہوئی۔ اس نے وکرم یونیورسٹی، اوجین سے سیاسیات میں ایم کی ڈگری لی ۔ اس نے اپنی ابتدائی زندگی میں ذات اور دھرم کی بنیاد پر بھید بھاؤ اور بے دخلی کا سامنا کیا۔ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کے اس نے 1999ء میں اسٹوڈنٹ ممبر شپ یونین کے ساہسی ایکتا گروپ کا قیام کیا تاکہ طالب علموں کی سماجی ترقی اور مسائل کے حل کے لیے ان کی حصے داری میں اضافہ کیا جا سکے۔ اس گروہ نے طالب علموں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی اور کئی سو بچوں کی مدد کی جو کسی بھی طرح کی تعلیم خاص کرنے سے قاصر تھے، خاص کر کے دلت طالب علموں کو بااختیار کیا۔ اس نے دلتوں کے کاڈر پر مشتمل تنظیم کو ترقی یافتہ کرنے لیے ایک ممبئی کے ادارے یوتھ فار ولنٹری ایکشن (یو یو وی)، سے فیلوشپ حاصل کی۔ فیلوشپ کے وقت کے دوران میں وہ دلت نوجوانوں کا دھیان انسانی حقوق کے مسائل خاص طور پر دلت حقوق پر مرتکز کراتا رہا۔ یہ نوجوان اب منڈل بنا چکے ہیں اور وہ آج بھی انسانی، دلت حقوق اور سماجی ترقی متعلق مسائل پر کام کر رہے ہیں۔ سینٹر فار ایجوکیشن اینڈ ڈاکومینٹیشن، ممبئی کی فیلوشپ کے تحت اس نے مالوا میں دلت سماج کی جانب سے کی گئی جدوجہد اور کبیر بھجن منڈلوں کی تحریک کی دستاویزات مکمل کی۔ دلتوں کو بااختیار بنانے اور سماج سے باہر نکالی گئی برادریوں کے حقوق کے خاطر اس نے اور اس کے کارکن دوستوں نے 2000ء میں ایک انسانی حقوق کی تنظیم جان ساہس بنائی۔ سالوں کے دوران میں جان ساہس انسانی حقوق کی وکالت کرتے ہوئے ایک اہم تنظیم کے طور پر ابھری ہے۔

وفیات

1871ء چارلس ببیج ایک انگریز ہر فن مولا شخصیت تھے آپ ریاضی دان، فلسفی، موجد اور میکانی مہندس تھےـ چارلس ببیج ڈیجیٹل پروگرام ایبل کمپیوٹر (programmable computer) كے تصور کے خالق تھے۔[14] بعض لوگ انہیں کمپیوٹر کا باپ کہتے ہیں۔ انہوں نے ہی پہلا میکانی کمپیوٹر ایجاد کیا جو الیکٹرونک کمپیوٹر کی بنیاد بنا۔ جدید کمپیوٹر کا تصور ببیج کے اینالیٹکل انجن (analytical engine) ہی کے مطابق ہے۔

1896 حاجی امداد اللہ مہاجر مکی مسلم عالم تھے۔ صوفی بزرگ، عالم دین کی ولادت 22 صفر1233ھ/مطابق 1818ء بروز پیر نانوتہ ضلع سہارن پور (اترپردیش ) بھارت میں پیداہوئے۔ نسب کے لحاظ سے فاروقی تھے۔ سات برس کی عمر میں یتیم ہو گئے۔ ذاتی شوق سے فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی۔ دہلی جا کر اس وقت کے فضلاء اجل سے تفسیر، حدیث اور فقہ کا درس لیا۔ بعد ازاں حضرت میاں جی نور محمد جھنجھانوی (میانجو) کی توجہ خاص سے سلوک کی منازل طے کیں اور خرقہ خلافت حاصل کیا۔ 1844ء میں حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔ وطن واپس آکر رُشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔

1931ء تھامس ایلوا ایڈیسن ایک امریکی سائنس دان اور موجد تھا۔ ریاست اوہایو کے ایک گاؤں میلان میں پیدا ہوا۔ والدین بہت غریب تھے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ بارہ سال کا ہوا تو ریل گاڑی میں کتابیں بیچنے کا کام کرنے لگا۔ اسے تمباکو نوشی کے ڈبے میں تھوڑی سی جگہ دے دی گئی تھی۔ کچھ عرصے بعد اسی ڈبے میں ایک چھوٹا سا پرنٹنگ پریس لگا لیا اور اپنا اخبار چھاپنے لگا۔ وہیں اس نے ایک کیمیاوی تجربہ گاہ بنا رکھی تھی۔ بعد ازاں تار برقی کا کام سیکھ کر ڈاک خانے میں ملازم ہو گیا۔ یہاں اس نے آٹومیٹک ٹیلگراف کے لیے ٹرنسمیٹر ریسور ایجاد کیا۔ اس اثنا میں اور بھی کئی ایجادیں کیں جن سے اُسے خاصی آمدنی ہوئی۔ اس روپے سے نیوجرسی میں ایک تجربہ گاہ اور ورکشاپ قائم کر لی۔ اس کی ایجادات کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے جن میں فونو گراف(جس نے آگے چل کر گرامو فون کی شکل اختیار کی) بجلی کا قمقمہ، میگا فون، سینما مشین، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ 1915ء میں اسے نوبل انعام ملا۔

1979ء عبدالرزاق اچکزئی افغانستان کا ایک فوجی کمانڈر اور صوبہ قندھار کی دفاعی افواج کا سربراہ تھا۔ جو افغانستان میں نورزئی قبائل طالبان اور پاکستان کا شدید ترین مخالف شمار کیا جاتا تھا۔ اسے بارہا طالبان کی جانب سے قتل کی دھمکیاں ملتی رہیں اور بالآخر 18 اکتوبر 2018ء کو اسے صوبہ قندھار کے گورنر کے دفتر میں ابودجانه نورزئی نامی طالب نے قتل کر دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں