297

شام پر حملہ ترکی پر پابندیاں، ترکی کی معیشت کو برباد کر دیں گے: ٹرمپ

Spread the love

ترکی پر عائد کی گئی پابندیاں بہت سخت ہیں جو اس کی معیشت پر بہت زیادہ اثر انداز ہوں گی، امریکی وزیر خزانہ

 حملے کا مقصد کرد فورسز کو سرحدی علاقے سے پیچھے دھکیلنا ہے اور ایک سیف زون قائم کرنا ہے، ترکی

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) شام پر ترک حملے کے بعد امریکا نے ایکشن لیتے ہوئے ترکی پر پابندیاں عائد کردیں جب کہ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ترکی کی معیشت کو برباد کرنے کیلئے مکمل تیار ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے ترکی کی وزارت دفاع اور توانائی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ترکی کے دو وزرا اور تین سینئر عہدیداروں پر بھی پابندی لگادی گئی ۔میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترکی پر عائد کی گئی پابندیاں بہت سخت ہیں جو اس کی معیشت پر بہت زیادہ اثر انداز ہوں گی۔امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ترکی کی وزارت دفاع اور توانائی کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جب کہ ساتھ ہی وزیر دفاع، توانائی اور داخلہ کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا ۔امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہیکہ ترک حکومت کی کارروائی سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہورہا ہے، اس کے علاوہ داعش کو شکست دینے کی مہم بھی کمزور پڑررہی ہے۔

امریکی نائب صدر مائیک پینس نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان کو فون کرکے فوری طور پر جنگ بندی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جتنی جلدی اور جتنا ممکن ہوا، خطے کا دورہ کریں گے۔امریکا کی جانب سے ترکی کو خبردار کیا گیا کہ ترکی کے سیز فائر کیے جانے تک پابندیاں جاری رہیں گی اور ان میں مزید سختی کی جائے گی۔انہوں نے ترکی پر زور دیا کہ فوری طور پر شام کی سرحد سے متعلق مسائل پر مذاکرات کے ذریعے ایک طویل مدتی معاہدہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ترکی کو شام پر لشکر کشی کے لیے کوئی گرین سگنل نہیں دیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق شامی افواج شمال مشرقی علاقے میں داخل ہوچکی ہیں جس کے بعد ان کا ترک فورسز سے تصادم ہوسکتا ہے۔ترکی نے کہا کہ اس کے حملے کا مقصد کرد فورسز کو سرحدی علاقے سے پیچھے دھکیلنا ہے اور ایک سیف زون قائم کرنا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ جلد ترکی کے سابق اور موجودہ حکومتی عہدیداروں سمیت ترکی کی عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں میں شامل کسی بھی شخص پر پابندیوں کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کریں گے۔امریکی صدر کا کہنا تھاکہ اسٹیل ٹیرف کو واپس 50 فیصد تک لایا جائے گا، اس کے علاوہ امریکا وزارت تجارت کی سربراہی میں ترکی سے 100 بلین ڈالر کی ٹریڈ ڈیل پر بھی مذاکرات فوری روک دیگا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایگزیکٹو آرڈر سے امریکا کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ سیز فائر میں رکاوٹ ڈالنے والوں پر سخت پابندیاں عائد کرسکے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شام میں ہونے والی کارروائی میں سہولت کاری اور مالی معاونت کرنے والوں کو ہدف بنانے کے لیے امریکا انتہائی سختی سے معاشی پابندیوں کا نفاذ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ترک رہنما مسلسل اس تباہی کے راستے کو اختیار کرتے ہیں تو میں اس کی معیشت کو برباد کرنے کے لیے مکمل تیار ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں