ایماندار صحافی بمقابلہ بدعنوان افسران

Spread the love

پاکستان کو آزاد ہوئے 70 برس سے زیادہ عرصہ بہت گیا مگر ہمارے مسائل کسی طور پر کم نہیں ہوئے۔ ہر آنے والا دن ایک نئی پریشانی کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ سیاستدانوں نے مل کر ہمیں سندھی، بلوچی، مہاجر، پٹھان بنایا اور مُلّا نے شیعہ ، سنی، وہابی، دیوبندی، بریلوی بنایا اور ہم بلا سوچے سمجھے ان سب کے پیچھے دوڑتے چلے جا رہے ہیں۔ ہندوستان ہو یا پاکستان پر پھر بنگلہ دیش اپنے قیام کے دن سے اس کے لیڈروں کو ’’غدار‘‘ قرار دیا گیااور انڈیا میں گاندھی، پاکستان میں مسٹر جناح اور بنگلہ دیش میں شیخ مجیب کو کچھ ہی عرصہ بعد قتل کر دیا گیا۔

میں تو آج تک سمجھ ہی نہیں سکا کہ غدار کون ہے اور محب وطن کون ہے، اسی طرح مسلمان اور کافر کے بارے میں بھی علم نہیں ہو سکا کہ یہ کون لوگ ہیں اور کہاں پائے جاتے۔ رفتہ رفتہ لوگوں نے سیاسی اورنام نہاد مذہبی لوگوں کی چال سمجھی اور یہ منجن بکنا کم ہوگیا، اس دوران بہت کچھ بدل گیا، ریڈیو اور اخبار کی جگہ ٹی وی، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے لے لی۔ حکمرانوں کو عوام کو بیوقوف کے لیے کسی نئے چورن کی ضرورت تھی اس بار کافی سوچ سمجھ کر بساط بچھائی گئی پہلے سے ہوم ورک کیا گیا تھا، اب کی بار جنرل شیر علی کے نظریہ اقتدار اور ذمہ داری کو الگ الگ لوگوں کے پاس رکھنے کو مقدم رکھ کر پروگرام ترتیب دیا گیا۔ سب سے پہلے مرحلے میں میڈیا کو آزاد کیا گیا اس کے ساتھ بہت سے ٹی وی چینلز لائے گئے اور ایک مقتدر طبقے نے اپنے چاہنے والوں کو رقوم مہیا کروائیں اور میڈیا کی آزادی مادر پدر آزادی میں تبدیل ہو گئی۔ غدار اور کافر کے منجن کو انتہائی مہارت اور چابکدستی کے ساتھ بدعنوانی کے چورن سے تبدیل کر دیا گیا۔

گو بدعنوانی کا یہ چورن بے نظیر بھٹو کا پہلا دورِ حکومت ختم ہونے کے ساتھ میاں نواز شریف نے شروع کیا اور سرکاری ٹی وی پر صبح شام محترمہ بےنظیر بھٹو کے لتے لیے جاتے تھے یہی طریقہ کار پھر نواز شریف کے ساتھ بھی استعمال کیا گیا۔ اس سے قبل بدعنوانی کے الزام میں آصف زرداری کو دس سال جیل میں رکھا گیا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا مگر اس سارے عمل میں کیا کیا ہو رہا ہے اس کے بارے میں کم ہی علم ہوتا تھا۔

اب ایک ایسا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں ہر ہر ٹی وی چینل پر دو دو افراد کی ٹیم بیٹھ کر روزانہ کی بنیاد پر بدعنوانی کی داستانِ پیش کرنے لگے اور آج بھی کر رہے ہیں روز رات کو کچھ دستاویزات لہرا لہرا کر کسی حکومت، حکمران یا کسی فرد واحد کی بدعنوانی کی داستان منظر عام پر آتی ہے۔ اس سارے کھیل میں جہاں کچھ حقیقی عناصر سامنے آئے وہاں بہت سے لوگوں کو نجی طور پر بھی نشانہ بنایا گیا۔

ہمارا میڈیا جس طرح شتر بے مہار بڑھتا چلا جا رہا ہے اس کے پیش نظر سمجھ نہیں آتا کہ ’’کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں‘‘۔ چند روز قبل ایک خبر نظر سے گزری یہ انٹر سٹیٹ گیس لمیٹڈ کے ایم ڈی مبین صولت کا ایک بلاگ انٹرویو تھا جو انہی سطور میں شائع ہوا تھا گو وہ انٹرویو ایران گیس پائپ لائن تنازعہ حل ہونے اور ایران کی طرف سے اپنا کیس واپس لینے کے بارے میں ایک مبتدا تھا مگر اس کے مندرجات نے شائد میرے لیے سوچنے کی راہ متعین کر دی ہیں، اس میں ایک فقرہ جو میرے ذہن و قلب میں سما گیا ’’اگر صحافیوں کے پاس سرکاری اداروں اہلکاروں کے خلاف اس قدر ثبوت موجود ہوتے ہیں تو وہ عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکاتے‘‘۔ اسی انٹرویو کے مندرجات میں ایک جملے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل قلم کے مطابق مبین صولت ایک بدعنوان افسر ہے۔

میں نے کوشش تو کی کہ مبین صولت سے رابطہ ہو سکے مگر یہ سب ممکن نہ ہو سکا البتہ یہ معلوم ہو سکا تھا کہ یہ حضرت برطانیہ اور عرب کے علاوہ کچھ دیگر یورپی ممالک میں گیس کے شعبہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور اپنے تئیں یہ سربلندی سمجھتے ہیں کہ ان کے کام کو متعدد اسناد و امتیاز انعامات سے نوازا گیا ہے۔ کچھ اخبارات میں مبین صولت کی بدعنوانی کے بلند و بانگ دعوے بھی کئے گئے جس کی پریشانی ان کے انٹرویو کے سطور میں بہرحال محسوس کی جا سکتی ہیں۔ میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ مبین صولت ایک ایماندار اہلکار ہے یا بے ایمان، اس کے دین کے علم نہیں جس کی بنیاد پر میں نہیں کہہ سکتا ہے وہ کافر ہے یا مسلمان، اس کے خیالات و افکار کا علم ہوتا تو میں فیصلہ کر سکتا تھا کہ وہ غدار ہے یا محب وطن۔ لیکن اگر وہ محب وطن ہے تو اس کی یہاں ہر گز ضرورت نہیں ہے، کیا اس نے یہاں پر محب وطن محسن پاکستان کا حال نہیں دیکھا تھا اس کی جو ذلت ہوئی اس کے بعد کیا کسی محب وطن کے یہاں آنے کی گنجائش رہ گئی تھی جو مبین صولت صاحب بھی تشریف لے آئے ہیں۔ بھلا اس نیک بخت کو کیا ضرورت تھی کہ ڈالروں میں ملنے والی تنخواہ چھوڑ کر یہاں آن دھمکے، میری رائے میں مبین صولت کی آنکھیں بھی جلد ہی کھل جائیں گی اور وہ اپنے پوتوں نواسوں کو کہانیاں سنایا کرے گا کہ کس طرح وہ پاکستان پہنچا اور کس طرح یہاں کے نیک لوگوں نے اس کو عزت بخشی۔ مبین صولت کی آنکھوں سے چربی ہٹے یا نہ ہٹے مگر اس کے چند سطور پر مشتمل انٹرویو نے میرے ذہن میں کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

اب میرے ذہن میں یہ سوال ضرور گردش کرنے لگا ہے کہ ثبوت ہونے کے باوجود صحافی عدالتوں میں کیوں نہیں جاتے؟ ان سب باتوں سے ہٹ کر بھی ایک سوال ہے کہ صحافی جس کو چاہے غدار، کافر یا بدعنوان بنا سکتے ہیں اور ان کے اثاثوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے اپنے پسندیدہ احباب کے قصائد بیان کرتے ہیں تو کیا کبھی کوئی ان کے بارے میں بھی دست سوال دراز کرے گا؟ـ مجھے بھی شعبہ صحافت کے اس دشت میں تیس کے قریب ہونے لگے ہیں، کتنے ہی لوگوں کو دیکھا اور کتنے لوگوں کے ساتھ کام کیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ روزنامہ پاکستان کے دفتر کے باہر شام کے وقت ہمارے محترم حامد میر ایک ٹوٹی پھوٹی زنگ آلودایف ایکس گاڑی لیے کھڑے رہتے تھے جس کو چار لوگ دھکا مار کر سٹارٹ کرواتے اور حامد میر صاحب کا سفر شروع ہوتا، اب ماشاءاللہ سے حامد میر صاحب کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہیں، اسی طرح ہمارے دوست مبشر لقمان کی ایک ویڈیو دوڑی پھرتی ہے جس میں ملک ریاض کے انٹرویو کے دوران انہوں نے تقاضہ کیا تھا ’’ملک صاحب سانوں وی تے کجھ لاو‘‘ (یعنی ملک صاحب مجھے بھی کچھ دیں) بقول مبشر لقمان کے ان کا ایک کمرے کا گھر تھا میلوں دور پڑھنے کے لیے سکول پیدل جایا کرتے تھے۔ اب الحمدللہ ان کے پاس بھی کروڑوں کے اثاثے ہیں اور ماشاءاللہ اپنا جہاز بھی ہے۔ اسی طرح آفتاب اقبال کے والد ایک شاعر اور ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر ہیں ہمارے ساتھ وہ بھی روزنامہ پاکستان میں کالم لکھا کرتے تھے اب ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا کہ انہوں نے چار چینل خرید کر ایک نیا چینل شروع کیا؟ ہمارے محترم آفتاب اقبال بھی ایک رپورٹر ہی تو تھے اسی طرح اگر میں چلتا جاوں تو ایک ناختم ہونے والی فہرست ہے جو کبھی اختتام پذیر نہیں ہو گی۔

میں اخبارات میں مدت دراز تک مختلف عہدوں پر تعینات رہا جس میں صحافتی امور بھی رہے اور انتظامیہ امور کے ساتھ بسا اوقات کچھ فنی امور پر بھی تعینات رہا ہوں۔ میں نے سینکڑوں مرتبہ نیوز روم کو ہدایات جاری کی ہیں کہ فلاں شخص ہمیں اتنی مالیت کا اشتہار دے گا اس کے عوض ہمیں اس کے فلاں کیس کی خبریں روکنی ہیں، ان میں بحریہ ٹاون، ایڈن سمیت متعدد کلائنٹ تھے جن کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے اشتہار لیے جاتے تھے اور یہ سب کام اخبار مالکان کی مرضی سے ہی ہوتے تھے۔

اس کے ساتھ صحافیوں اکثر دوسروں سے پوچھا کرتے ہیں کہ تمہارے پاس کونسی گیدڑ سینگھی ہے جو تم فلاں کام یا فلاں عہدے پر بیٹھے ہو؟ کسی صحافی سے آج تک کسی نے نہیں پوچھا کہ ان کے پاس کون سی گیدڑ سینگھی ہے جس سے ان کے پاس اتنا پیسہ آیا ہے۔

میں کسی کے دین اور کسی کی محب وطنی پر کوئی شک نہیں کرتا، میرے لیے سب لوگ مجھ سے تو بہتر اور محترم ہیں، مگر میرے ذہن میں ایک سوال ضرور کھٹکتا ہے کہ جب صحافی موجود ہیں جو ہر طرح سے ایماندار بھی ہیں اور محب وطن بھی تو پھر تمام تر عہدے اور ذمہ داریاں انہی کو دی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ میرا ایک سوال یہ بھی ہے کہ جب صحافی اس قدر ایماندار ہیں تو اداروں سے ان کی برخاستگی کی کیا وجوہ ہیں؟ آخر مالکان کو کیا مشکل ہے کہ وہ اب تک ہزاروں کی تعداد میں صحافیوں کو نکال چکے ہیں۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ جن صحافیوں کے پاس کروڑوں کے اثاثے ہیں اور لاکھوں روپے تنخواہ لیتے ہیں اور ماشاء اللہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں ان میں سے ایسا کون صحافی ہے جس نے اپنے اداروں میں مالکان سے کہا ہو کہ لوگوں کو نکالنے کے بجائے میری تنخواہ سے چند لاکھ کم کر کے ان لوگوں کو تنخواہیں ادا کر دی جائیں جن کو وہ اس لیے نکالنا چاہتے ہیں۔ کیا کسی نے یہ کہا ہے کہ مالکان تنخواہ ادا نہیں کرتے تو ہم سب مل کر صرف ایک دن کے لیے علامتی طور پر پاکستان کے تمام اخبارات اور چینلز کو صرف ایک گھنٹے کے لیے بند کر دیں۔

میری رائے ہے کہ یہاں ہر شخص اپنا کام کرے اور دوسروں کی فکر چھوڑ دے تو بہتری آجائے گی۔ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے اور سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ آج جو ہاتھ مجھے پیسے دے رہے ہیں کل وہی میری بربادی کا سبب بنے گے۔ اس کی مثال ہمارے افغانی بھائی ہیں جب تک امریکہ کا مفاد ان سے وابستہ تھا تب تک وہ مجاہدین تھے اور جیسے ہی ان کا مفاد ختم ہوا یہی مجاہدین دہشت گرد بن گئے۔اسی طرح جب تک مالکان اور سرمایہ کار کا مفاد ہے صحافی بھی مجاہد ہیں۔

Leave a Reply