تھل مارو کا سفر (افسانہ)

Spread the love

مصنفہ : مسرت کلانچوی

سرائیکی سے اردو ترجمہ
عقیلہ منصور جدون
مصنفہ کی اجازت حاصل کی گئی

وسائی نے جب اپنی چوتھی اور آخری بیٹی کی خیروعافیت سے شادی کر دی تو اسے محسوس ہوا جیسے حیاتی کے سارے بوجھ اتر گئے ہوں۔ اسے اپنا وجود ہلکا پھلکا لگنے لگا۔ مہندی والی رات جب اپنے پرائے رخصت ہو گئے تو سونے سے قبل اس نے اپنی چاروں بیٹیوں کو جمع کیا اور ان سے کہنے لگی۔

’’ اپنی شادی سے لے کر اب تک تیس سال میں تمہارے فرائض کی ادائیگی میں مصروف رہی۔ راتوں کی نیند میری پلکوں سے دور رہی اور فکرو پریشانیوں کے ناگ میرے سکھ آرام کو ڈستے رہے۔

اب میرے جسم کا انگ انگ تھکاوٹ سے ٹوٹ رہا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ ایک دن میں صحرائی بوٹی کے اڑنے والے پھول کی طرح ہو جاؤں گی جو بے فکر ہوا کے جھونکوں سے اڑتا رہتاہے اور اُڑتے اُڑتے آسمان کی وسعتوں میں گم ہو جاتا ہے‘‘

پروین ،نورین ،شاہین اور یاسمین نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکا۔ ہر آنکھ میں وسوسہ حیرانی اور خوف تھا۔
وسائی نے نگاہیں اٹھائیں اور بولی

’’میرا اور تمھارے باپ کا یہی ارادہ ہے کہ ہم اپنی بستی چلے جائیں “

’’لیکن کیوں اماں۔ ۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘

پروین نے اپنے ہاتھوں کی مہندی اتارتے ہوے پوچھا

’’اب ہمارا واپسی کا سفر شروع ہو گیا ہے بیٹا۔ ‘‘

’’پر اماں ! واپسی کے سفر کی تکالیف/ تھکاوٹ ؟‘‘

یاسمین اپنے چھوٹے بچے کا سر اپنے گھٹنے پر رکھتے ہوے بولی

’’واپیسی کے سفر میں کوئی تھکاوٹ نہیں ہوتی بیٹا۔ سارے رستے دیکھے بھالے ہوتے ہیں۔ اپنائیت سے بھرے ہوتے ہیں۔ جہاں سے آۓ ہیں ،وہیں تو جانا ہے۔ مجھے تو کلانچوالے کی مٹی خوابوں میں بھی آوازیں دیتی ہے۔ نہر کے کنارے اتر کے بستی کی طرف چلیں تو چھوٹے سے مٹی کے ٹیلے پر پیلو کے درخت قبرستان پر سائے بکھیرتے کھڑے ہیں۔ ان درختوں پر لگےسرخ ،سبز پیلو ، پیلی سرسوں ،حویلی کی بڑی ساری بیری اور بوا/پھپھو کے گھر کے ساتھ والی نم کی خوشبو مجھے بلا رہی ہے “

لڑکیوں نے پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ یہ اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے والی انہی کی سیدھی سادھی ماں ہے ؟
’’پر اماں ! ہم تم سے دور کیسے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ “

نورین تھوک نگلتے آنکھوں میں آئے آنسو پیتے ہوے بولی

’’بیٹا مجھے بڑھاپے میں سکون سے رہنے دو۔ اپنے اپنے گھر میں آباد رہو۔ اپنے دکھ خود برداشت کرو۔ میں نے تمہیں فکروں سے لڑنے کے قابل بنا دیا ہے “

’’اماں ! آپ اصل میں ہم سے جان چھڑا رہی ہو “

منجھلی شاہین تلخی سے بولی۔

’’تم میرے پاس کلانچوالے ضرور آنا۔ لیکن اکیلی روتی پیٹتی نہیں بلکہ اپنے شوہروں کے ساتھ ہنستی کھیلتی۔ تم ایک دن مجھے رونے تو ضرور آؤ گی۔ اس وقت روتے ہوے مجھے اپنے سارے دکھ سنا دینا۔ میں بند آنکھوں بند ہونٹوں کے ساتھ تمہیں دلاسے دے کر چلی جاؤں گی۔ ‘‘

’’ہاں ہاں اماں “ سب سے بڑی بیٹی یاسمین گھٹنے پر ہاتھ مارتے ہوے بولی

’’کیسی دل خراش باتیں کرتی ہو “ اور ساری بیٹیوں نے رونا شروع کر دیا

وسائی نے جو کہا تھا ،کر دکھایا۔ آخری مہمان کے چلے جانے کے ساتھ ہی اس نے اور امیر بخش نے اپنا چھوٹا موٹا سامان اٹھایا اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔ آج راستے کی دھول وسائی کو بادلوں کی طرح لگ رہی تھی جس میں وہ صحرائی بوٹی کے اُڑتے پھولوں کی طرح اڑتی جا رہی تھی۔ اس کی روح چاہتی تھی کہ وہ دور دور تک پھیلے کھیتوں ،پیلو کے درختوں سے بھرے ٹیلوں ،نہر کے بہتے پانیوں اور کھجور کے تنوں کو اپنی با نہوںمیں بھر لے اور کہے۔
’’میرے بچھڑیو! میں آگئی ہوں “

بوڑھی بوا نے انکا گھر کھول دیا۔وسائی کو اس گھر سے ربیل اور مہندی کی وہی خوشبو آئی جس میں رچی بسی وہ پہلی دفعہ اس گھر میں داخل ہوئی تھی۔ اسے دیوار میں ٹھونکی وہ کیل بھی نظر آئی ،جس پر امیر بخش نے اپنا سہرا اتار کر لٹکایا تھا۔

وسائی نے مسکرا کر امیر بخش کو اور امیر بخش نے اسے دیکھا۔

وسائی نے جونہی کھڑکی کھولی ،ساری بستی اڑ کر ان کے پاس پہنچ گئی جیسے پانی کے تالابوں پر پرندے اکھٹے ہوتے ہیں۔

بستی والے سارا دن کام میں مصروف رہتے لیکن پھر بھی محسوس ہوتا تھا کہ وہ فارغ ہیں ،ہر وقت بیکار۔ ان بچوں کی طرح جو سارا دن حویلی میں چینخ و پکار کرتے بھاگتے دوڑتے ،کھیلتے رہتے تھے۔

وسائی نے سوچا تھا کہ وہ اپنے گھر میں ہر وقت سوئی رہا کرے گی۔ تیس سالوں کے جگ راتے ختم ہوں گے۔ لیکن جونہی اسے زرا نیند آتی تو ساتھ والے گھر سے بختو روتی پیٹتی آ کھڑی ہوتی۔

’’دیکھو چاچی۔ رضو نے آج پھر میرے شوہر کو بھڑکایا ہے۔ وہ ہر روز جھگڑتا ہے۔ یہ عورت میرا گھر برباد کر کے چھوڑے گی۔ ‘‘

کبھی مراد خاتون اپنے بچوں کا رونا رونے آجاتی۔ اور کسی وقت بے اولاد بچل اس سے اولاد کے لئیے ٹوٹکے پوچھنے آجاتی

وسائی سخت بیزار ہو گئی تھی۔ یہ تو اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ جس جھنجھٹ سے جان چھڑانے کے لئیے وہ بیٹیوں کو چھوڑ آئی تھی وہ تو ہر جگہ رلتے پھر رہے تھے۔وہ کس کس کو دھتکارتی

وسائی نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ پچھواڑے والی کھڑکی کھول دی جہاں سے صرف قبرستان ، سرسوں اور کنواں دکھائی دیتے تھے۔ اس کی روح ان بے جان اور بے زبان اشیاء سے رشتہ جوڑنا چاہتی تھی۔ لیکن دروازہ اب بھی بجتا رہتا ،کبھی ست بھرائی کٹورہ اٹھائے سالن مانگنے آجاتی تو کبھی نورا موچی پیسے ادھار مانگنے کے لئیے آکھڑا ہوتا۔
زندگی میں سکون کیوں نہیں۔ آرام کس کونے میں چھپ گیا ہے ؟ امیر بخش سارا دن بیٹھک میں گپ شپ لگاتے حقہ پیتے گزار کر رات کو گھر آیا تو وسائی نے سر باندھا ہوا تھا۔ وہ بولا

’’میرا خیال تھا اب تم سر نہیں باندھو گی ،لیکن یہاں بھی تمھاری پرانی عادت ختم نہیں ہوئی۔ ‘‘

’’امیر بخش زندگی اختتام پزیر ہے۔ کچھ دن سکون کے گزارنے کی حسرت ہے۔ لیکن لگتا نہیں کہ پوری ہو گی “
’’وسائی آباد گھر ہے۔ تم کس کس سے چھپو گی۔ ‘‘

’’امیر بخش سکھ ان کو ملتے ہیں جن کے علیحدہ گھر ہوتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ میری مانو تو گھر کے آگے دیوار کھڑی کر دو “
’’ وسائی پاگل مت بنو۔بستی والے مذاق اڑائیں گے۔ لوگ کیا کہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم کیا جواب دو گی “
لیکن جب وسائی کا اپنی دیورانی سے جھگڑا ہوا تو اسے لوگوں کو جواب دینے کا بہانہ مل گیا۔ دو مزارعے بلوائے، کچی دیوار چڑھائی اور گلی میں کھلنے والا دروازہ بند کروا دیا۔

پچھلی طرف والی کھڑکی جس کا رخ فصلوں او ر قبرستان کی طرف تھا توڑ کر دروازہ لگوا دیا اور سکھ کا سانس لیا اور سوچا کہ جن دنوں کی خواہش تھی وہ آگئے۔

لیکن آج صبح جب وہ لسی بلونے کے بعد سوئی تو اس کے سر میں چیونٹیاں رینگنے لگیں۔ آنکھوں کے آگے تارے ناچنے لگے۔ اس نے پھر سر باندھا دوا کی پھکی لی اور چارپائ پر سو گئی ،لیکن درد سر سے پھیلتا پھیلتا پورے شریر میں پھیل گیا اور کچھ ہی دیر میں بدن ایسے ٹوٹنے لگا جیسے مٹی کا کھلونا تڑخ کر کے ٹوٹ رہا ہو۔ وہ کمر پر ہاتھ رکھے ہا نپتی کانپتی اٹھی اور دروازہ کھول کر دوبارہ چارپائی پر سو گئی۔ اسے لگا سرسوں کی خوشبو اس کے وجود میں سوئیاں چبھو رہی ہے۔ ہونٹ خشک ہو رہے تھے۔ وہ چاہتی تھی کہ اٹھے ،گھڑا الٹایا اور جی بھر کر پانی پیئے۔ لیکن اس کی ٹانگوں کی توانائی جاتی رہی اور وہ دروازے سے باہر جھانکنے لگی۔
آج باہر بادل ہیں۔ فضا میں ہلکا ہلکا اندھیرا ہے۔ ہوا درختوں میں سیٹیاں بجا رہی ہے۔ ایک سوکھے درخت پر چیل سر جھکائے بیٹھی ہے۔ سرسوں کا پیلا رنگ بھی پھیکا پھیکا ہے۔ نہر کا پانی خشک ہے۔ اس ڈوبتے نظارے میں صرف قبرستان جو سب سے نمایاں نظر آرہا ہے۔ بہت خاموش ،پرسکون سویا سویا۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ارد گرد درخت بھی سر جھکائے اونگھ رہے ہیں۔

وسائی نے آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کی لیکن لگتا ہے کہ ہمسایوں اور رشتہ داروں کی طرح نیند بھی اس سے ناراض ہو گئی ہے۔ اسے امیر بخش پر بہت غصہ آیا۔ اس مرد زات کا کیا بھروسہ کب ساتھ چھوڑ دے۔ بیٹھا ہوگا کہیں نوجوانوں کی گپ شپ سننے۔

آؤ میں تمہیں قصہ سناؤں۔ ہوا نے اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے سرگوشی کی۔ مگر کیا سناؤں ؟ تمھارا تو اپنا قصہ ختم ہو رہا ہے۔ زندگی کے آخری لمحات میں تمھارے پاس سکون ہے آرام ہے خاموشی ہے۔

سکون————-آرام———خاموشی—————- وسائی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ایسا محسوس ہوا یہ مسکراہٹ ہونٹوں کے کنارے جبرن پھیلی ہے۔ دل میں خوشی کی کوئی رمق نہیں ہے۔ قبرستان کے درختوں کی اداسی آہستہ آہستہ چلتی اس کے سرہانے آ کھڑی ہوئی۔ شاید اسے لینے آئی ہے۔ اس کا دل کانپ اٹھا۔ کہیں یہ پلکیں بند ہی نہ ہو جائیں اس خوف سے اس نے آنکھیں کھول دیں۔

اس کا جی چاہا کوئی تو اس کے پاس آئے۔ آکر اسے اپنی ساس کے ساتھ ہوا جھگڑا سنائے۔ کوئی آ کے بھینس کا دودھ سوکھ جانے کا رونا روئے۔

کوئی تو آئے اور اسے بتائے کہ اس کے بچوں نے اس کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ کوئی سالن ہی مانگنے آجائے۔ مگر خالی ہوا سیٹیاں بجاتی رہی اور کتا کرلاتا رہا۔

قاضیوں کا بچہ جو مرغا پکڑنے کے لئیے اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا ،وہاں سے گزرا تو وسائی نے کانپتی آواز میں اسے پکارا لیکن بچہ اسے دیکھ کر بھاگ گیا۔

ان پلکوں نے بند ہونا ہی ہے تو یونہی سہی۔ وسائی نے آنکھیں بند کرنے کی کوشش کی لیکن وہاں خوف ڈٹ کر کھڑا تھا۔ وسائی نے چادر منہ تک اوڑھ لی۔ اسے لگا کوئی سایہ قبرستان سے نکل کر آہستہ آہستہ چلتا آرہا ہے۔
وسائی کا دل بھی آہستہ آہستہ کانپنے لگا۔ اسے لگا وہ دھڑکنا بند کر دے گا۔ پھر وہ سایہ سچ مچ سر پر آ کھڑا ہوا ،اس کے اوپر جھکا۔

وسائی نے چینخنے کی کوشش کی ،لیکن چینخ گلے میں پھنس گئی۔
’’وسائی کیا ہوا ؟‘‘

امیر بخش نے اس کے منہ سے چادر ہٹائی۔ اس کی پیشانی پر بہتے پسینے اور اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر پریشان ہو گیا۔

’’قاضیوں کے بچے نے مجھے بتایا کہ نانی رو رہی ہے تو میں بھاگا آیا۔‘‘

’’امیر بخش ابھی یہ دیوار گیلی ہے اور کچی ہے اسے گرا دو “

’’یہ کیا کہ رہی ہو وسائی “

’’میری بیٹیوں کو بلا بھیجو۔ یاسمین کا بچہ بیمار رہتا ہے۔ نورین کتنی روٹھی روٹھی سی تھی۔ یاسمین بے چاری بھوکے ننگے گھر بیاہ دی پتہ نہیں کیسے گزارہ کر رہی ہو گی۔ اور وہ نو بیاہتا پروین پتہ نہیں خوش ہے بھی کہ نہیں۔ ‘‘

’’تمہیں کیا ہو گیا ہے وسائی ! پھر فکریں پالنے لگی ہو “۔

’’ہاں۔ امیر بخش ! یہ فکر اندیشے زندگی کے رنگ ہیں۔ خاموشی ،سکون اور بے فکری موت کا بد صورت روپ ہیں۔ میں ابھی زندہ رہنا چاہتی ہوں ،مجھے زندہ رہنے دو۔

Leave a Reply