ٹرمپ دور حکومت میں قومی سلامتی کا چوتھا سربراہ مستعفی

Spread the love

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے قائم مقام قومی سلامتی کے سربراہ کیون مک الینن نے اپنی تعیناتی کے 6ماہ بعد ہی عہدے سے استعفیٰ دیا،ٹرمپ نے کہا کہ نئے قومی سلامتی کے سربراہ کا اعلان آئندہ ہفتے کیا جائے گا،امریکی صدر نے عہدہ چھوڑنے والے قومی سلامتی کے سربراہ کے کام کوبھی سراہا۔امریکی صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کے ذریعے کیون مک الینن کے استعفے کی تصدیق کی اور بتایا کہ حکومت کے ساتھ کئی سال گزارنے کے بعد کیون مک اپنی فیملی کو زیادہ وقت دینا چاہتے تھے اور وہ نجی سیکٹر میں جانا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ نئے قومی سلامتی کے سربراہ کا اعلان آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔امریکی صدر نے عہدہ چھوڑنے والے قومی سلامتی کے سربراہ کے کام کوبھی سراہا اور کہا کہ ہم نے بارڈر کراسنگ کو کم کرنے کیلئے ساتھ کام کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کیون مک امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں قومی سلامتی کے چوتھے سربراہ تھے، انہوں نے امریکی صدر کی ان سخت پالیسیوں کی نگرانی کی جس کا مقصد میکسیکو کی سرحد سے آنے والے مہاجرین کو روکنا تھا۔مک کیون کو اپریل میں کرسجن نیلسن کے استعفیٰ کے بعد قومی سلامتی سکیورٹی کا قائم مقام سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

Leave a Reply