12 اکتوبر کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1492ء -کے دن کولمبس کے تین جہازوں میں سے ایک جہاز پنٹا نے کیریبین سمندر سے نئی دنیا (امریکا) کی دریافت کی یہ علاقہ سین سلواڈور کا تھا۔

1879ء – برطانوی فوجوں نے کابل پر قبضہ کیا

1986ء – ملکہ الزبیتھ دوم چین کا دورہ کرنے والی پہلی برطانوی تاجدار بنیں

1999ء – پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے منتخب وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا تختہ الٹ کر ملک میں فوجی اقتدار قائم کر دیا۔

2002ء – انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں کُوتا کے مقام پر بم دھماکے میں دوسودوافراد ہلاک اور دوسونوزخمی ہو گئے جن میں زیادہ تر غیر ملکی سیاح تھے یہ حادثہ انڈو نیشیا کی تاریخ میں ہونے والا خطرناک ترین دہشت گردانہ عمل تھا

2007ء – پاکستان کے بلے باز انضمام الحق بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر۔

ولادت

1537ء ایڈورڈ ششم ، انگلستان اور آئرلینڈ کا 28 جنوری 1547ء سے اپنی موت تک بادشاہ تھا۔ اس کی تاج پوشی 20 فروری کو نو سال کی عمر میں ہوئی۔

1865ء آرتھر ہارڈن ،ایک انگریز حیاتیاتی کیمیاء دان تھا۔ انھیں شوگر کے فرمینٹیشن سے جڑے انزائم کے بارے میں کھوج کی۔ انھیں 1929 میں ہانز فان ایولرچیلپنکے ساتھ کیمیا کا نوبل انعام دیا گیا۔

1896ء یوگینیو مونٹیل اطالوئی زبان کے معروف نثر نگار شاعر سیاست دان اور مترجم تھے انکا تعلق اٹلی سے تھا ان کے ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں 1975ء میں نوبل ادب انعام سے نوازا گیا۔

1938ء ندا فاضلی اردو کے مشہور شاعر، فلمی گیت کار اور مکالمہ نگار گزرے۔ ان کا پورا نام مقتدا حسن ندا فاضلی ہے۔ لیکن ندا فاضلی کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کی پیدائش 12 اکتوبر، 1938ء کو ہوئی۔

ندا فاضلی کے بارے میں یہ بھی پڑھیں

1945ء پاکستان کے معروف قوال۔ تمغا حسن کارکردگی حاصل کرنے والے مشہور قوال غلام فرید صابری کے چھوٹے بھائی، مقبول صابری بارہ اکتوبر انیس سو اکتالیس کو بھارتی پنجاب کے علاقے کلیانہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی غلام فرید صابری کے ساتھ قوالی گانا شروع کی اور صابری براردز کے نام سے شہرت حاصل کی۔ مقبول صابری نے اپنے بڑے بھائی غلام فرید صابری سے گیارہ برس چھوٹے تھے اور انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ گائی گئی قوالیوں کی وجہ بہت نام کمایا۔ مقبول صابری نے اپنے بھائی کے ہمراہ بیرون ملک بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا جو بہت پسند کیا گیا۔ مقبول صابری قوالی کی صنف میں ایک استاد کا درجہ رکھتے تھے۔ ستر اور اسی کے دہائی میں صابری برادرز کو قوالیوں کی وجہ سے بہت پذیزائی ملی اور یہ وہ دور تھا جب ان کی قوالیوں والی بے شمار کیسٹس ریلیز ہوئیں اور ان کی ریکارڈ فروخت ہوئی۔

وفات

1502ء جلال الدین دوانی، عالم دین، فقیہ اور مصنف تھے۔ علما نے اُنہیں محقق دوانی کے نام سے بھی یاد کیا ہے۔ مسلم فلاسفہ میں گنتی کے چند افراد ’’محقق‘‘ کے خطاب سے علمی دنیا میں معروف ہیں، اُن میں محقق جلال الدین دوانی بھی شامل ہیں۔ جلال الدین الدوانی کا اصل نام محمد بن اسعد تھا۔ آپ کا تعلق کازرون کے قریب ایک گاؤں ودان سے تھا اور بعد میں شیراز چلے گئے۔ آپ ملک فارس کے بڑے عالم اور امام المعقولات اور فلسفی تھے۔ کئی علوم میں ماہر ہونے کی وجہ سے تمام اطراف سے بڑی تعداد میں لوگ آپ کے پاس علم کی پیاس بجھانے آتے تھے۔ آپ کی بڑی قدر و منزلت تھی یہاں تک کہ قاضی کا عہدہ بھی آپ کو سونپا گیا۔ آپ بہت کتابوں کے مصنف ہیں جن میں شرح التجرید للطوسی، شرح التھذیب اور حاشیہ علی العضد شامل ہیں۔ آپ نے علی الاختلاف 897ھ یا 918ھ میں وفات پائی۔

1965ء پاول ہرمن میولر ایک سوئس کیمیاءدان تھے جنھوں نے 1948 کا نوبل انعام وصول کیا تھا۔

1972ء شیخ اسماعیل پانی پتی، مترجم، مضمون نگار، مصنف، صحافی، شیخ اسماعیل کی مکتب کی تعلیم کچھ زیادہ نہ تھی لیکن وہ تو صحیح معنوں میں طالب علم تھے۔ پڑھنے لکھنے کا شوق اُنہیں بچپن سے تھا۔ یہ شوق اُنہوں نے ذاتی مطالعے سے مکمل کر لیا تھا۔ اپنی محنت اور سلیقے سے علمی و اَدبی دنیا میں مقام حاصل کیا کہ اُن کا صفِ اَول کے مصنفین میں شمار ہونے لگا۔ بہت جلد ہی علمی قابلیت کی بنا پر وہ صحافی اور مصنف بن گئے۔ کم عمری میں ہی لکھنے لگے۔ اُن کا سب سے پہلا مضمون پندرہ برس کی عمر میں شائع ہوا تھا۔ 1924ء میں اُنہوں نے اپنا ذاتی ماہنامہ جامِ جہاں نما کے نام سے پانی پت سے جاری کیا۔ بعد ازاں مولوی وحیدالدین سلیم پانی پتی کے مشورے پر اِس جریدے کا نام تبدیل کرکے کائنات رکھ دیا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ ماہِ ستمبر 1947ء میں تباہ حالی کی صورت میں لاہور پہنچے۔ یہاں اُنہوں نے بسر اوقات کے لیے اپنے قلم کو آزمایا اور ماہنامہ عالمگیر کے مدیر مقرر ہو گئے۔ دو سو روپئے مشاہرہ مقرر ہوا۔ چند ہی مہینوں کے بعد رسالے کے مالک حافظ محمد عالم سے اختلاف ہو گیا اور یہ مستعفی ہو گئے۔ اِس کے بعد کہیں کوئی ملازمت نہیں کی۔ ان کا انتقال 12 اکتوبر 1972 میں ہوا اور وہ لاہور میں مدفون ہوئے۔

1974ء منظور قادر، ایوب خان کے دور حکومت میں وزیر خارجہ رہے ہیں۔

2011ء ڈینس رچی سی پروگرامنگ لینگوئج کے موجد اور یونکس آپریٹنگ سسٹم کے شریک خالق تھے

Leave a Reply