’’را ‘‘ نہیں پاکستان کے ایجنڈے پر کام کررہا ہوں،فضل الرحمن

Spread the love

چنیوٹ(مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ میں را کے ایجنڈے پر نہیں پاکستان کے ایجنڈے پر کام کررہا ہوں، آزادی مارچ ناجائز اور نااہل حکومت سے آزادی حاصل کرکے دم لے گا، تمام سیاسی اپوزیشن جماعتیں آزادی مارچ میں شریک ہونگی جس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں،مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا گیا بلکہ کشمیر کو بیچ دیا گیا ہے،

ناجائز حکومت مارچ روکنے کے لیے آمرانہ حربے استعمال کررہی ہے ، 27اکتوبر کو آزادی کامارچ کا آغاز ہوگا راستہ روکنے کی کوشش کی تو راستہ کھولیں گے،پارٹیوں کے فیصلے لیڈر کرتے ہیں اور نواز شریف نے ہمارا ساتھ دینے کا فیصلہ کردیاہے، میں را کے ایجنڈے پر نہیں پاکستان کے ایجنڈے پر کام کررہا ہوں ۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے چنیوٹ میں ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بدترین م،عاشی بحران کا شکار بنادیا گیا ہے ۔

تاجر سراپا احتجاج اور ڈاکٹر بلبلا رہے ہیں ۔ آزادی مارچ کا ساتھ پی ٹی آئی کے منتخب نمائندے بھی دے رہے ہیں ۔ چین ناراض ہے سی پیک منصوبہ رک گیا اور سفارتی کاری میں ہار چکے ہیں۔ کشمیر کے مسئلے پر حکومت مگرمچھ کے آنسو بہا رہی ہے ۔نااہل حکومت کشمیر کا سودا کرچکی ہے۔سفارتی کاری کی ناکامی کے بعد اقوام متحد ہ اجلاس میں ایٹمی جنگ کی دھمکی دینا دوسری بے وقوفی ہے۔انڈیا کو ایٹمی جنگ کی دھمکی دیکر ایٹمی دھماکے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ۔ سی پیک منصوبے کو متنازعہ بنانے کے لیے آرڈیننس کے ذریعے اتھارٹی بنائی جارہی ہے۔۔انہوں نے کہا کہ 27اکتوبر کو آزادی کامارچ کا آغاز ہوگا راستہ روکنے کی کوشش کی تو راستہ کھولیں گے ۔

پی ٹی آئی کا دھرنا جائز حکومت کے خلاف جبکہ ہمارا مارچ ناجائز حکومت کے خلاف ہے ۔ اسلام آباد میں ڈینگی کے سوال پر کہا ہمارا مسئلہ ڈینگی نہیں ڈینگا ہے ۔ انہوں نے مولانا عبدالقوی اور طاہر محمود اشرفی کے بیان پرجواب دینے سے انکار کردیا۔قبل ازیں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت کیخلاف آزادی مارچ قومی سطح کی تحریک ہے جبکہ صرف اپوزیشن نہیں حکومتی جماعتیں بھی ہم سے اتفاق کر چکی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ساری دنیا کی چوریاں ایک طرف اور حکومتی پارٹی کی چوریاں ایک طرف، 70 سال کا قرضہ موجودہ حکومت کی جانب سے لیے گئے قرضے سے کم ہے اور آئندہ 2 سال میں بھی ملک کی معاشی حالت بدلنے کی کوئی امید نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پہلے انہوں نے سیاسی مخالفین پر مقدمات درج کئے اب احتسابی عمل کے ذریعے معاشی ناکامی سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔ سارا ملک بحران سے گزر رہا ہے۔ پہلے مرغیاں، پھر کٹے اور اب لنگر خانے چلائے جا رہے ہیں۔ یہ حکومت ناکام ہی نہیں ناجائز بھی ہے۔جے یو آئی )ف (کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کشمیر کے نام پر بھی معاشی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ پارٹی فنڈنگ کیس میں پورا ٹبر ہی چور نکلا۔

عوام کی بدحالی کی ذمہ دار حکومت کو ختم ہو جانا چاہیے۔ تمام جماعتوں نے احتجاج پر اتفاق کیا، مارچ روکنے کیلئے کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ نہیں ہوتی، ریاست کی بات ہوتی ہے، یہ عمران خان کی حماقت ہے یا سازش؟ دنیا کے سامنے ایٹمی حملے کی بات کرکے وزیراعظم نے بہت بڑی حماقت کر دی ہے۔اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ میں ملک کے عوام کونے کونے سے نکلیں گے۔

ہم بتائیں گے عوام کا سیلاب کیا ہوتا ہے۔ 27 اکتوبر کو مارچ کا آغاز کرنا ہے اور 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہونگے۔ تمام مدارس پرامن ہیں، ہم پرامن شہری کی حیثیت سے اسلام آباد جائیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ جعلی حکومت نہیں چلے گی۔ ملک کے تاجر ہڑتال کر رہے ہیں۔ عام ا?دمی مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہو چکا ہے۔ معیشت تباہ ہو چکی ہے جبکہ عوام کو روزگار نہیں مل رہا۔

Leave a Reply