ایران گیس پائپ لائن منصوبہ، ایران نے اپنا کیس واپس لے لیا: صولت مبین

Spread the love

ایران کے کیس واپس لینے سے پاکستان کو 4 بلین سے زیادہ فائدہ ہوا

پاکستان سے انرجی بحران کا خاتمہ ہوگا اور ملکی معیشت ترقی کرےگی۔

اسلام آباد(مہتاب پیرزادہ سے)انٹرسٹیٹ گیس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ایم ڈی مبین صولت نے صرف اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران گیس پائپ لائن منصوبے سمیت ترکمانستان اور دیگر ممالک کے توسط سے ہونے والے منصوبے پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہونے والے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران پر امریکی پابندیوں کے باعث منصوبہ کچھ تعطل کا شکار ہے لیکن جیسے ہی ایران سے پابندیوں کا خاتمہ ہو گا اس پراجیکٹ پر کام شروع ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کے سابقہ حکومتیں بھی پاکستان کو انرجی بحران سے نکالنے کے لیے سنجیدگی سے کام کیا ہے اور موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں انرجی بحران پر قابو پانا ہے اور اس کے لیے روس اور ترکمانستان کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے جو تقریباً آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے آئندہ چند ہفتوں میں ترکمانستان اور روس کے وفود اسی سلسلہ میں میٹنگ کے لیے پاکستان آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہم منزل کے بہت قریب ہیں افغانستان میں بھی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے جس کے بعد تمام منصوبوں پر کام مکمل کر لیا جائے گا جس سے پاکستان میں انرجی بحران کا مکمل طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں انہوں نے ایرانی حکومت کے ساتھ اپنے وفد کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں اپنا کیس واپس لینے پر آمادہ کیا، جس پر ایرانی صدر نے رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے اپنا کیس واپس لے لیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملکوں کی ترقی میں میڈیا اہم کردار ادا کرتا ہے اور اداروں کی مثبت تنقید کی ضرورت تو رہتی ہے مگر ہمارے ملک میں آزادی کا کوئی ضابطہ اخلاق نہیں ہے جس کے باعث بہت سے کام محض جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کی وجہ سے برباد ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں میڈیا ان پراجیکٹ میں کرپشن کی خبریں چلا رہا ہے جو یا تو شروع ہی نہیں ہوئے یا کسی کو ان کی الف ب  کا علم نہیں۔ انہوں نے کہا کچھ مقامی اخبارات نے ان کے پراجیکٹس کے بارے میں ایسی بے بنیاد خبریں شائع کی ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں کرپشن کی خبروں کی صداقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اکثر خبروں میں جو اعداد و شمار دیئے جاتے ہیں وہ پراجیکٹ کے کل تخمینہ لاگت سے بھی کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر آپ لوگوں کے پاس یا کسی بھی صحافی کے پاس بدعنوانی کے اتنے ہی ثبوت اور ریکارڈ موجود ہوتے ہیں تو وہ یہ سب چیزیں لے کر عدالتوں میں کیوں نہیں جاتے جو ایک درست اور قانونی طریقہ کار ہے۔

غیر ممالک کی ترقی اور اس کے معیار کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک میں ہر شخص اپنا کام کرتا ہے وہاں کسی کو دوسرے کے کام سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ اقوام کی ترقی کا راز اسی میں مضمر ہے کہ ہم سب اپنا اپنا کام کریں مگر پاکستان میں انجمن اصلاح معاشرہ بنا کر ہر شخص اپنی دنیا اور دوسرے کی آخرت سنوارنے پر بضد ہے۔

واضح رہے کہ ایران نے گیس پائپ لائن منصوبے میں تاخیر کے سبب پاکستان پر 4 بلین ڈالر سے زائد جرمانے عائد کرنے کے لیے کیس کیا تھا، موجودہ معاشی صورتحال میں پاکستان کے لیے یہ رقم ادا کرنا کسی صورت ممکن نہیں تھا اور یہ سارا مسئلہ مبین صولت کی پیشہ ورانہ مہارت اور دانشمندی سے طے ہوا ہے۔

یاد رہے کہ مبین صولت دنیا کے مختلف یورپی اور عرب ممالک میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور ان کو عرب حکومتوں سے ایکسیلنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ ان کا شمار دنیا میں گیس فیلڈ میں پیشہ ورانہ مہارت کے حامل افراد میں ہوتا ہے اور دنیا کے متعدد ممالک کے ماہرین اپنی مشکلات میں ان سے رجوع کرتے ہیں

Leave a Reply