نفرت انگیز تقریر،بانی متحدہ پر فرد جرم عائد, گرفتار، سخت ترین پابندیوں کیساتھ مشروط ضمانت پر رہائی

Spread the love

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک ) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کیخلاف انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت فرد جرم عائد کر کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا گیا تاہم بعدازاں نقل و حرکت اور بولنے پر سخت پابندیوں کی شرط پر ضمانت پر رہا کر دیا گیا ۔ تفصیلات کے مطا بق متحدہ قومی موومنٹ کے بانی گزشتہ روز تیسری بار سدک پولیس سٹیشن میں پیش ہوئے جہاں ان پر انسداد دہشتگردی ایکٹ 2006ء کے تحت فرد جرم عائد کی گئی،اس سے قبل بانی ایم کیو ایم کو گیارہ جون کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد میں ان کو ضمانت پر رہائی مل گئی تھی۔برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس نے اپنی ویب سائٹ پر بیان میں کہا ہے الطاف حسین پر دہشتگردی کیلئے اکسانے پر ٹیررازم ایکٹ 2006ء کے سیکشن 1 (2) کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

نفرت انگیز تقریر کے کیس میں ان پر برطانیہ کی عدالت نے سخت پابندیاں عائد کرکے ان کی ضمانت کو مشروط کر دیا۔الطاف حسین تیسری بار بھی لندن پولیس کے سوالوں کے جوابات نہ دے پائے جس پر انہیں حراست میں لے لیا گیا ۔ ا سکا ٹ لینڈ یارڈ نے بانی ایم کیو ایم پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت فرد جرم بھی عائد کی۔بانی ایم اکیو ایم کو حراست میں لیے جانے کے بعد ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ پہنچایا گیا جہاں جج نے ان کی ضمانت تو منظور کر لی تاہم ان پر سوشل میڈیا سمیت کسی بھی میڈیا فورم کے استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ۔ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کے کورٹ نمبر ون میں سماعت کے دوران جج نے بانی ایم کیو ایم کو برطانیہ، پاکستان سمیت کسی بھی جگہ تقاریر نہ کرنے کا حکم دیا جبکہ الطاف حسین پر بغیر اجازت سفر کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی۔

ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ کی موجودہ چیف مجسٹریٹ سینئر ڈسٹرکٹ جج ایما اوربوتھ ناٹ نے بانی ایم کیو ایم کو پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بھی بات کرنے سے روک دیا۔پاکستان کی جانب سے جج کے سامنے کیس کراؤن پراسیکیوشن سروس کے وکیل نے پیش کیا۔ بانی متحدہ نے جج کے سامنے اپنے نام، تار یخ پیدائش اور ایڈریس کی تصدیق کی، جج نے بانی متحدہ سے پوچھا کیا انہیں معلوم ہے ان پر دہشت گردی کے الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی ہے؟ جج نے الزامات کی تفصیل بانی متحدہ کو پڑھ کر سنائی، تاہم بانی متحدہ نے جج کے سامنے خود پر عائد الزامات قبول کرنے سے انکار کر د یا۔ذرائع کے مطابق لندن پولیس نے بانی ایم کیو ایم کو سوالوں کے جوابات دینے کا مشورہ دیا تھا تاہم جوابات نہ دینے اور شواہد کی روشنی میں اسکاٹ لینڈ یارڈ نے ان پر فرد جرم عائد کی۔

ذرائع کا یہ بھی کہناہے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے وکلاء کو بھی فرد جرم عائد کیے جانے کا خدشہ تھا جس کے باعث ان کی ضمانت کے کاغذ پہلے سے ہی تیار کرلیے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق فرد جرم عائد ہونے کے بعد بانی ایم کیوایم کیخلاف ٹرائل تقریباً 2 ہفتے میں مکمل ہوجائے گا۔واضح رہے بانی ایم کیو ایم پر اگست 2016 میں تقریر کے ذریعے لوگوں کو تشدد پر اکسانے کا الزام ہے، لندن پولیس نے انہیں رواں برس 11 جون کو نفرت انگیز تقریر کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور وہ گزشتہ ماہ 12 ستمبر کو بھی ضمانت ختم ہونے پر سدک پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے تھے۔

Leave a Reply