49

اسرائیل کا القدس میں ترکی کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا منصوبہ

Spread the love

القدس میں ترکی کی سرگرمیاں نہ صرف اشتعال انگیز ہیں بلکہ اسرائیل کی سلامتی کے خلاف سازش ہیں، اسرائیلی وزارت خارجہ

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی وزارت خارجہ نے وزیر خارجہ یسرایل کاٹز کے ایما پر”مقبوضہ بیت المقدس”میں ترک حکومت کی سرگرمیوں اور ترکی کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں پر پابندی لگانے کا منصوبہ تیار کر لیا۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں ترکی کی سماجی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت خارجہ نے القدس میں ترک حکومت کے تعاون سے شروع کی گئی کسی بھی قسم کی سرگرمی پرپابندی لگانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی وزارت خارجہ کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات کا مقصد اردن کی حیثیت کی حفاظت ہے رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیرخارجہ نے اپنا منصوبہ وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جس کی انہوں نے منظوری دی ہے۔ القدس میں ترکی کی سرگرمیاں نہ صرف اشتعال انگیز ہیں بلکہ اسرائیل کی سلامتی کے خلاف سازش ہیں۔ امکان ہے کہ اس منصوبے سے ترکی کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کا باعث بنے گا۔

توقع کی جارہی ہے کہ اس معاملے پر کابینہ کی سیاسی اور سلامتی کے امور کمیٹی میں بھی تبادلہ خیال کیا جائے، یہ منصوبہ ایک سیکیورٹی مسئلہ ہے اوراسی وجہ سے موجودہ عبوری حکومت کے مینڈیٹ کے دوران اس پر عمل درآمد کو برا نہیں ماننا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینیوں پر ترکی اثر انداز ہونے کے لیے مختلف منصوبوں پرعمل پیرا ہے، یہ معاملہ ہماری قومی سلامتی کا مسئلہ ہے ،ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن القدس کے باشدنوں کی مالی مدد کر رہے ہیں ۔اسرائیلی منصوبے کے تحت اسلامی وقف کونسل کے اعلی عہدیداروں اور ترک حکام کے مابین رابطوں پر بھی پابندی لگائی جائے گی القدس میں کام کرنے والے ترک اساتذہ کی ملازمتیں ختم کردی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...