بادشاہ کا نائی اور اسمبلی کا بھائی

Spread the love

رائے مظہر کا شمار ملک کے نامور نقادوں اور طنز نگاروں میں ہوتا ہے یہ ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں نہوں نے سکول کالج یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور دینی تعلیم کے لیے علمائے کرام کے ہاں زانوئے تلمذ طے کیا، بے حد مصروف شخصیت ہیں ادارے کے پرزور اصرار پر ہمارے لیے مضمون لکھا کریں گے (ادارہ)

علامہ رائے مظہر: صاحب مضمون

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک نائی صبح سویرے شاہی محل پہنچ جاتا، جونہی بادشاہ بیدار ہوتا تویہ نائی اس کی حجامت کرتا، چونکہ باداشہ بڑا نیک دل اور عوام دوست انسان تھا اسی عادت کی وجہ سے وہ نائی سے رعایا کا احوال دریافت کرتا۔ بادشاہ استفسار کرتا، نائی سے مختلف سوال کرتا جن کا مقصد رعایا کا حال اور رائے معلوم کرنا تھا،۔

ہمارے ہاں آج جبھی اور آج سے قبل بھی نائی کو معاشرے کی دائی سمجھا جاتا تھا کیونکہ یہ وہ شخص ہوتا ہے جس کے پاس ہر امیر غریب کی حاضری لازمی ہوتی ہے اسی لیے وہ ہر ایک کے احو ال سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے، اسی بنیاد پر بادشاہ بھی نائی سے سوال جواب کرتا تھا۔ نائی اپنی باخبری کو بادشاہ کے سامنے بیان کرتا، جب وہ بادشاہ سے ہم کلام ہوتا اس وقت نائی کا جوش و جذبہ دیکھنے کے قابل ہوتا۔

اس کا معمول تھا کہ بادشاہ کے استفسار پر جواب دیتا کہ بادشاہ سلامت کا اقبال بلند ہو رعایا آپ سے بہت خوش ہے اور ہر وقت آپ کے لیے دعائیں کرتی اور باگاہِ ربی میں آپ کی سلامتی اور درازیٔ عمر کے لیے ملتمس رہتی ہے۔
بادشاہ پوچھتا کہ لوگوں کی معاشی حالت کیسی ہے تو نائی ہمیشہ کی طرح جواب دیتا کہ لوگوں کے ہاں رزق کی فراوانی ہے، نائی کے جوش کا یہ عالم تھا کہ جب تک بادشاہ اس کو روک نہ دیتا وہ بلاتکان بولتا ہی چلا جاتا ایسا محسوس ہوتا کہ گویا کسی کھلونے کو چابی بھر دی گئی ہے یا کوئی ریمورٹ کنٹرول کھلونا ہو جو چلتا ہی جا رہا ہو۔

اس نائی سے تمام لوگ ہی بہت نالاں تھے ہر کوئی اپنی جگہ یہ سمجھتا تھا کہ نائی کی وجہ سے بہت وقت ضائع ہو جاتا ہے۔ بادشاہ نے کچھ لوگوں کو ایک مہم پر روانہ کیا اور ان کے ساتھ مشیر خاص کو روانہ کیا اور مشیر خاص کی جگہ ایک نیا مشیر تعینات ہو کر آیا جس کو نائی ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ ایک دن مشیر کو جانے کیا سوجھی کہ جب نائی بادشاہ سے اجازت لے کر واپس روانہ ہوا تو مشیر بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔ مشیر نے دیکھا کہ نائی ایک مقام پر رکا اور ادھر ادھر دیکھ کر ایک بند گھر میں داخل ہوا ایک الماری کھول کر اس میں ایک چھوٹا سا ڈبہ نکالا اس کو ایسی نظروں سے دیکھا گویا کسی متبرک چیز کی زیارت کر رہا ہو۔ اسی طرح کئی دن گزر گئے۔ ایک روز مشیر نے وہاں سے وہ ڈبہ نکال کر اپنے قبضہ میں لیا اور چلتا بنا۔ مشیر نے دیکھا کہ ڈبے میں ایک اور ڈبہ تھا جس میں ایک تعویز اور اس کے ساتھ کچھ سونے کی اشرفیاں تھیں۔

دوسری طرف نائی اپنے ڈبے کو وہاں نہ پا کر بہت ہی پریشان ہوا اور اس کا جوش و جذبہ دم توڑنے لگا، اس کی حالت غیر ہونے لگی اور وہ کئی روز تک بادشاہ کی خدمت میں بھی حاضر نہ ہوا جس پر بادشاہ نے پیغام رساں کے ذریعے اس کو طلب کیا اور حسب سابق سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو نائی کے منہ سے جواب نکلنے کے بجائے جھاگ نکلنے لگی اس نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی رعایا لٹ گئی برباد ہو گئی۔

مشیر نے کہا بادشاہ سلامت یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چند ہی دنوں میں رعایا لٹ گئی اور بربادی نے رعایا کو آن لیا؟ ابھی چند دن پہلے تو راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا، ہر طرف فراوانی تھی امن و شانتی اور سکون تھا، کوئی تو جھول ضرور ہے۔ اب بسیار استفسار پر بھی نائی نے کچھ جواب نہ دیا اس نے کسی سے اس امر کا تذکرہ نہ کیا کہ اس کا تعویذ جو اس کی نظر میں اصل خزانہ تھا وہ گم گیا ہے۔ اب نائی ہر طرف یہ ڈھونڈرا پیٹتا پایا جاتا کہ ہمارا بادشاہ دراصل ایک ظالم و فاسق انسان ہے اس کو رعایا سے کوئی دلچسپی نہیں رعایا لٹ رہی ہے اور بادشاہ محل میں بیٹھا نائیوں سے سوال جواب ہی کر رہا ہے۔

یہ کہانی پڑھ کر مجھے ناجانے کیوں اپنے ملک کا حال نظر آنے لگا۔ میں نے سوچا کہ جو بھی لوگ حکومت میں ہوتے ہیں اور وزارتوں کے تعویذات ان کے پاس ہوتے ہیں تو ملک میں ہر طرف امن شانتی ہوتی ہے اور جیسے ہی ان کے تعویذ چوری ہو جاتے ہیں تو بادشاہ چور ہو جاتا ہے تو دودھ و شہد کی نہریں بہنا بند کر دیتی ہیں سورج و چاند بھی اپنی سعادت مندی سے منہ پھیر کر لوگوں کو دھوکہ دینے لگتے ہیں زلزلے نئے آنے والے حکمرانوں کے ظلم و جبر سے منسوب ہو جاتے ہیں۔ ہر طرف تباہی، بد امنی، بے سکونی اور بربادی ڈیرے ڈال لیتی ہے۔

میری عوام الناس سے التماس ہے کہ ان مشیران کا خاص خیال رکھا کریں جو تعویذات چرا کر ملک میں بدامنی و کساد بازاری پیدا کرتے ہیں۔

Leave a Reply