قدرتی آفات سے آگاہی کا قومی دن

Spread the love

تحریر: وحید احمد، میاں چنوں
E-Mail: princesnowwhite@gmail.com

ہماری زمین معرض وجود میں آنے سے لے کر اب تک مختلف ادوار سے گزر چکی ہے ماہ و سال کے گزرنے کے ساتھ ساتھ زمین کی سطح پر مختلف تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں لیکن یہ تبدیلیاں بہت آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہوتی ہیں اور ان کو سالہا سال لگ جاتے ہیں۔لیکن کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو آن کی آن میں سطح زمین کا نہ صرف نقشہ بدل دیتے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر تباہی و بربادی کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ ہزاروں لاکھوں انسانوں کو بھی لقمہ اجل بنا دیتے ہیں۔ یہ واقعات کس حد تک انسانی ساختہ ہو سکتے ہیں جس کی ایک اہم مثال ایٹم بم ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم کے حملہ نے نہ صرف لاکھوں کی تعداد میں انسانی جانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا بلکہ جنگلی حیات یہاں تک کہ چرند پرند، پیڑو شجر اور پورے کے پورے شہر تہس نہس کر کے رکھ دیے۔ اس ایٹمی حملہ کے بعد اقوام عالم سر جوڑ کر بیٹھ گئیں اور ایٹم بم کی تباہ کاریوں کے آنے والی نسلوں پر مضمر اثرات کا جائزہ لینے کے بعد ایٹم بم کے جنگی استعمال پر پابندی لگائے جانے کے بارے میں لائحہ عمل طے کیا گیا۔ انسانی ساختہ تباہ کن ہتھیاروں کے بعد سب سے وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا باعث بننے والی وہ ناگہانی آفات ہوتی ہیں جن کو قدرتی آفات کہا جاتا ہے ان قدرتی آفات سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا صرف مناسب احتیاطی تدابیر کے ذریعے ان سے پہنچنے والے نقصان کو کسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

قدرتی آفات وہ خطرات ہیں جو قدرتی طور پر برپا ہوتے ہیں اور وسیع پیمانے پر قدرتی وسائل اور جانی و مالی نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والا نقصان کبھی کبھار اس قدر شدید ہوتا ہے کہ اس علاقہ میں معمولات زندگی کو معمول پر آنے میں سالوں سال لگ جاتے ہیں۔زلزلے، سیلاب، سونامی، ٹارنیڈو، سمندری طوفان، آتش فشاں یا پہاڑی تودے وغیرہ سب قدرتی آفات ہیں جو ناگہانی طور پر برپا ہوتے ہیں اور انسان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا جس وجہ سے جانی و مالی نقصان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ماحولیاتی آلودگی، قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال شہروں کے بے ہنگم پھیلاؤ اور جنگلات کی کٹائی کے علاوہ کرہ ارض کے تیزی کے ساتھ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے قدیم گلیشیرزکا تیزی سے پگھلاؤ، سطح سمندر کا تیزی سے بلند ہونا،نشیبی علاقوں، ساحلی پٹیوں اور جزائر میں پانی کی معمول سے کہیں زیادہ آمدورفت، نئی جھیلوں اور آبی گزرگاہوں کا معرض وجود میں آنا بھی مستقبل میں نئے خطرات کو جنم دے رہا ہے۔

8 اکتوبر 2005 کو پاکستان میں آنے والا زلزلہ جس کی ریکٹر سکیل پر شدت 7.5 ریکارڈ کی گئی تھی ایک انتہائی تباہ کن زلزلہ تھا جس کے نتیجے میں 3.5 ملین لوگ متاثر ہوئے تھے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس زلزلہ کے نتیجہ میں 87 ہزار 350 اموات ہوئی تھیں لیکن غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے، 19 ہزار بچے بھی اس زلزلہ کی وجہ سے وفات پا گئے تھے اور ان میں سے بیشتر تعداد ان بچوں کی تھی جو بڑے پیمانے پر سکولوں کی عمارتوں کے منہدم ہونے کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے۔

زلزلے آنے کی بڑی وجوہات میں پلیٹوں کی حرکات اور آتش فشانی عمل شامل ہے زیادہ تر زلزلے زیرزمین پلیٹوں کی حرکات کی وجہ سے آتے ہیں جب یہ پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں تو سطح زمین پر لرزش پیدا ہوتی ہے اور یہی لرزش زلزلہ کا باعث بنتی ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں فالٹ لائن موجود ہیں وہاں زلزلوں کے مرکز بنے ہوئے ہیں، اس کے علاوہ آتش فشانی عمل بھی زلزلوں کا باعث بنتا ہے جب لاوہ سطح زمین کے کسی حصے کو پھاڑ کر باہر آتا ہے تو زمین کی سطح پر یک لخت طاقتور حرکات پیدا ہوتی ہیں اور زلزلہ آجاتا ہے۔
پاکستان میں 8 اکتوبر کو ہر سال قدرتی آفات سے آگاہی کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا مقصد قدرتی آفات اور ان سے جڑے خطرات کے بارے میں عوامی سطح پر آگاہی اور شعور پیدا کرنا ہے اس دن سکولوں کالجوں وغیرہ میں سیمینار منعقد کئے جاتے ہیں اس کے علاوہ آفات سے نمٹنے والے ادارے جن میں پروینشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی، ریسکیو 1122 اور افواجِ پاکستان شامل ہیں سیمینارز، ریلیوں اور ڈرل کا انعقاد کرتے ہیں۔

Leave a Reply