صرف عمران خان کو ہٹانے سے کوئی تبدیلی نہیں آئیگی، محمود خان اچکزئی

Spread the love

آئین کی تشریح سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے ،محمود خان اچکزئی

تجویز ہے کہ مولانا صاحب آل پارٹیز کانفرنس بلائیں اور تمام سیاسی پارٹیوں کی مشاورت سے ملکی بحران کی حل کا متفقہ لائحہ عمل طے کریں

جب تک ملک میںجمہوری کی حکمرانی میں فوج اوردیگر اداروںکے سیاسی کردار کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملکی بحران کا خاتمہ ممکن نہیں

پشین (صباح نیوز) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام پشین کے تاج لالا فٹبال اسٹیڈیم میں 7اکتوبر 1983کے شہدا جمہوریت 11اکتوبر کے سرباز شہدا وطن کی یاد میں ایک عظیم الشان جلسہ عام پارٹی کے چیئرمین محترم محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس سے پارٹی کے مرکزی وصوبائی رہنمائوں رضا محمد رضا ، نواب ایاز خان جوگیزئی ، ڈاکٹر کلیم اللہ خان ،عبدالرحیم زیارتوال ،عبدالرئوف لالا ،عبید اللہ جان بابت ، سردار مصطفی خان ترین ، سید لیاقت آغانے خطاب کرتے ہوئے شہدا کو ان کے ناقابل فراموش قربانیوں پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا ۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض محمدعیسیٰ روشان نے سرانجام دیئے اور پارٹی کے مایہ ناز شاعر رضا شیداء شہدا کو منظوم خراج عقیدت پیش کیاجبکہ حافظ مطیع اللہ نے تلاوت قرآن پاک کی سعادت حاصل کی ۔ محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم پارٹی کے عظیم شہدا جمہوریت اور شہدا وطن کی برسی کو ایسے حالات میں منارہے ہیں کہ پشتون غیور ملت او رملک کے اقوام وعوام کو تاریخ کی بدترین صورتحال کا سامنا ہے کسی کے جان ومال کے تحفظ کی ضمانت باقی نہیںرہی ، تعلیم، صحت، روزگار کے تمام دروازے عوام پر بند ہوچکے اور خدا نہ کرے کہ بدامنی وتباہ حالی کی صورتحال خانہ جنگی پر منتج ہو۔

انہوں نے کہا کہ پشتونخوامیپ نے اپنی جدوجہد کے ہر مرحلے میں آمریت ،جبر واستبداد ، بالادستی اور استحصال کی قوتوں کے خلاف اٹھنے والی ہر جمہوری تحریک میں نمایاں اور کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ اور ملک میں جمہوریت اور آئین وقانون کی حکمرانی کیلئے جمہوری قوتوں کا بھرپور ساتھ دیا ہے ۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمن صاحب کی 27اکتوبر کے احتجاجی مارچ کے حوالے سے کہا کہ ہم مولانا صاحب کے احتجاج کی پرزور حمایت کرتے ہیں لیکن ہماری تجویز یہ ہے کہ مولانا صاحب آل پارٹیز کانفرنس بلائیں اور تمام سیاسی پارٹیوں کی مشاورت سے ملکی بحران کی حل کا متفقہ لائحہ عمل طے کریں۔ ہماری پارٹی کا موقف یہ ہے کہ جب تک ملک میںجمہوری کی حکمرانی میں فوج اوردیگر اداروںکے سیاسی کردار کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور پارلیمنٹ کی بالادستی ، آئین وقانون کی حکمرانی کو یقینی نہیں بنایا جاتا اس وقت تک ملکی بحران کا خاتمہ ممکن نہیں صرف عمران خان کو ہٹانے سے کوئی تبدیلی نہیں آئیگی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی اختیار کردہ ناروا طرز عمل اور آئین شکنی اور آمریت کے اقدامات ملک کے سنگین آئینی ، سیاسی اور معاشی بحران کا اصل سبب ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آئین کی تشریح سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے ہماری تجویز یہ ہے کہ سپریم کورٹ ایک ایسے کانفرنس کا اہتمام کریں جس میں ملک کے تمام ادارے شریک ہو اور جس میں ہر ادارہ آئینی دائرہ اختیار کے حدود میں پابند بنانے کا عہد ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ ملک کو 23سال تک آئین سے محروم رکھنے اور اسٹیبلشمنٹ کی ناروا حکومتوں کو مسلط کرنے اور طویل ایوبی آمریت کے نفاذ اور 1970کے عام انتخابات کے نتائج سے انکار اور بنگال پر فوج کشی کرکے ملک کو دولخت کرنے کے بعدذمہ داروں کا تعین کرنے والے حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ شائع نہیں کی گئی ۔

پھر 1973کے آئین کے صرف چار سال بعدضیاء الحق کے بدنام زمانہ مارشل لاء کا نفاذ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوامیپ نے ضیائی مارشل لاء کے خلاف ایم آر ڈی (تحریک بحالی جمہوریت) کے قیام میں کلیدی اور پرافتخار کردار ادا کیا ۔ سندھ میں فوجی آمریت کے ہاتھوں سندھی عوام کی قتل عام پر پشتونخوامیپ اور ایم آر ڈی نے کوئٹہ میں 7اکتوبر 1983کو آمریت کے خلاف تاریخی مظاہرہ کیا جس پرملک کے آمر کے حکم پر وحشیانہ فائرنگ کی گئی اور پارٹی کے سرباز کارکنوں نے اپنے سروں کا نذرانہ پیش کرکے میری جان بچائی جس میں پارٹی کے چار سرباز شہدا اولس یار شہید ، کاکا محمود شہید ، رمضان شہید اور دائود خان شہید نے جام شہادت نوش کیا اور پارٹی کے 16کارکن زخمی اور پارٹی کے بیسوں رہنمائوں وکارکنوں کو طویل مدت تک قید وبند میںرکھا گیا لیکن ستم بالا ستم یہ کیا گیا کہ پارٹی کارکنوں کی شہادت کے مقدمات پارٹی کے رہنمائوں پر درج کیئے گئے ۔ جس میں مجھے ساڑھے چھ سا ل تک روپوشی اختیار کرنی پڑی ۔ اسی طرح اس سال خڑ کمر میں پشتون تحفظ موومنٹ کے پر امن کارکنوں پر سیکورٹی فورسز نے وحشیانہ حملہ کرکے 13بے گناہ پشتونوں کو شہید کیا اور بیسوں کارکنوں کو زخمی کیا اور تحریک کے رہنمائوں ممبران قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ کو گرفتار کرکے ان پر اپنے ساتھیوں کی شہادت کے ناروا مقدمات قائم کیئے گئے۔

انہوں نے کہاکہ پشتون بلوچ صوبے پر بلوچ بالادستی کی ناقابل قبول صورتحال بزور طاقت مسلط کی گئی اور پشتونوں کو زندگی کے ہر شعبے میں آئینی ،قومی ، سیاسی ، معاشی اور ثقافتی حقوق واختیارات سے یکسر محروم کیا گیا اور قبضہ گیری کی اس صورتحال میں 11اکتوبر 1991ء کوپشتونخوامیپ کے مرکزی دفترپر حملہ کرکے پارٹی کے 5رہنمائوں وکارکنوں عبدالرحیم کلیوال ، صابر شاہ ، حبیب الرحمن ،صاحب خان اور باز محمد باز کو شہید کیا گیا ۔لیکن پارٹی نے پشتون دشمنی کے ان تمام اقدامات پر صبر وتحمل کا مظاہرہ کیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ انگریز استعمار نے اپنی استعماری طاقت سے 1849ء میں پشاور اور 1876ء میں کوئٹہ کے تاریخی مرکزوں کو مقبوضہ بنایا اور افغان وطن پر 1838ء اور 1879ء میں خونریز جنگیں لڑی اور گنڈمک معاہدہ مسلط کرکے خیبر ،میچنے اور کورمہ کے تاریخی دروں اور پشین اور سبی کے ضلعوں کو تفویض کردہ علاقوں کے طورپر افغانستان سے الگ کیا ۔ اور سنڈیمن جیسے استعمار گر کے سازشی منصوبوں کے تحت لورالائی اور ژوب پر استعماری قبضہ مستحکم کرنے کے بعد 1887ء میں اس مقبوضہ تاریخی افغان سرزمین کو برٹش افغانستان کی بجائے برٹش بلوچستان کا گمراہ کن اور غیر تاریخی نام سے موسوم کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ برٹش بلوچستان کے قیام کے وقت سندھ بمبئی کا حصہ اور شمالی پشتونخوا پنجاب کا حصہ تھا انگریز دور میں خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کا مطالبہ رہا کہ برٹش بلوچستان کے چیف کمشنر صوبے کو گورنر صوبے کی حیثیت دی جائیںاور یہ مطالبہ قائد اعظم محمد علی جناح اور مہاتما گاندھی جی نے بھی تسلیم کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد 1970ء تک برٹش بلوچستان کی الگ اور آزادانہ آئینی حیثیت قائم رہی ون یونٹ کے دور میں یہ علاقہ کوئٹہ ڈویژن اور بلوچ اسٹیٹس یونین کا علاقہ قلات ڈویژن کے ناموں سے موسوم رہا ، برٹش بلوچستان میں مری بگٹی کے علاقے شامل تھے بعد میں نوشکی اور نصیر آباد کے علاقوں کو اجارے کے تحت شامل کیا گیا جبکہ برٹش بلوچستان کا چیف کمشنر صوبہ بنیادی طور پر تاریخی افغان سرزمین پر قائم پشتون چیف کمشنر صوبہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا کے پشتونوں کے ساتھ اس ملک میں سب سے بڑی زیادتی یہ کی گئی ہے کہ ون یونٹ کے خاتمے کے وقت پشتونوں کے اس قدیم اور تاریخی چیف کمشنر صوبے کو گورنر کا صوبہ بنانے یا اس تاریخی سرزمین کو بولان تا چترال تمام پشتون تاریخی سرزمین کی وحدت پر مبنی متحدہ قومی اور خودمختیار صوبہ پشتونخوا قائم کرنے کی بجائے جنوبی پشتونخواکی تاریخی سرزمین پر بلوچستان کے گمراہ کن اور غیر تاریخی نام سے ایک بار پھر غیر فطری صوبہ پشتونوں کی مرضی کے بغیر مسلط کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5دہائیوں کے دوران اس مشترکہ دو قومی پشتون بلوچ صوبے میں پشتونوں پر ایسی صورتحال مسلط کی گئی ہے کہ پشتونوں کو سیاسی معاشی اور ثقافتی حقوق واختیارات میں مساوی نمائندگی کے حق سے یکسر محروم کیا گیا ہے ۔ حالانکہ یہاں کے پشتونوں ،تمام افغان غیور ملت اور افغان مملکت نے تاریخ کے ہر دور میں بلوچ بھائیوں کی قومی حقوق واختیارات کی دفاع میں اپنا بھرپور تاریخی کردار ادا کیا ہے لیکن بلوچ بھائیوں کی ناروااور نامناسب طرز عمل نے پشتونوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے سابقہ تاریخی صوبے کی بحالی اور پشتون ملی وحدت کے قیام کیلئے فیصلہ کن اقدامات اٹھائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پشتون ، بلوچ ، سندھی ، سرائیکی اور پنجابی اقوام کا ایک رضاکارانہ جمہوری فیڈریشن ہیں جس کوقائم رکھنے اور خوشحال وترقی یافتہ بنانے کیلئے لازم ہے کہ اس ملک میں ایک ایسا آئین تشکیل دیا جائے جس میں قوموں کی برابری ، عوام کی حکمرانی ، پارلیمنٹ کی بالادستی ، آئین وقانون کی حکمرانی کی ضمانت فراہم کی گئی ہو اور جس میں مسلح سیکورٹی اداروں کے بشمول تمام ادارے آئین کے متعین کردہ دائرہ اختیار کے پابند ہو۔انہوں نے کہاکہ حقیقی جمہوری پاکستان کی تشکیل کی جدوجہد میں پشتونخوامیپ کے جمہوری موقف کی مسلم لیگ ن کے صدرسابق وزیر اعظم نواز شریف نے کھل کی حمایت کی ہے اور ہمیں بجاء طور پر امید ہے کہ ملک کی تمام جمہوری قوتیں جمہوری فیڈریشن کی تشکیل میں بھرپور کردار ادا کرینگے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا نظریہ اور پاکستانی سیاست پشتون قوم کی قرض دار ہے جب ہم اور ہمارے اکابرین ون مین ون ووٹ ، جمہوریت ، انصاف کی بات کرتے تھے تو انہیں سالہا سال تک سزائیں دی گئی اور پھر ہمارے ہی مطالبات کو سچ مان کر خود تسلیم کرتے رہے اور آج ہر کوئی دعویدار بن کر ووٹ مانگنے لوگوں کے پاس جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ دنیا بھر میں مظلوموں کی حمایت کی ہے کشمیری عوام بھی مظلوم ہیں اور کشمیر کشمیریوں کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن اور افغانستان کے مسائل کے متعلق پشتون قیادت سے بات کی ہیں اور مولانا فضل الرحمن صاحب کے گھر پر منعقدہ ایک اجلاس میں کہا تھا لیکن اس پر عمل نہیں ہوسکا اور یہ ضرورت اب بھی موجود ہیں کہ ہمار ی ملت کے مجموعی مسائل اور ان کے حل کیلئے جرگہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پر چالیس سال سے جنگ مسلط ہے ساری دنیا خصوصاً اسلامی ممالک کا افغانستان کے امن اور جنگ کے خاتمے میں کوئی مثبت اور موثر کردار نہیں رہا ہے بلکہ ہمیشہ ہر ایک نے اپنی مفاد کو مدنظر رکھ کر پالیسی اختیار کی ہیںجو افغان ملت کے حق میں نہیں۔

Leave a Reply