اساتذ ہ کی تکریم اور عالمی یوم اساتذہ

Spread the love

تحریر: وحید احمد، خانیوال
princesnowwhite@gmail.com

اساتذہ کو ٹریننگ دیتے ہوئے بطور ماسٹر ٹرینر ان سے میرا یہ سوال لازمی ہوتا ہے کہ آپ استاد کیوں بنے؟مختلف اساتذہ کرام مختلف دلائل دیتے ہیں، ایک ٹریننگ کے دوران میں نے اپنا سوال تھوڑا سا بدل دیا، آپ بڑے ہو کر کونسا پیشہ اختیار کرنا چاہتے تھے لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں کر سکے؟ ایک بزرگ استاد اپنی باری پر سامنے تشریف لائے، میں نے ان سے یہی سوال کیا، وہ رقت آمیز انداز میں گویا ہوئے ـ” میں ڈاکٹر بننا چاہتا تھا لیکن معاشی مسائل کی وجہ سے نہیں بن پایاـ” ،معلم بن گیا، میں نے پوچھا کیا آپ پیشہ تدریس سے مطمئن ہیں تو وہ خاموش ہو گئے۔میرا ان سے سوال تھا کہ آپ کے ڈاکٹر بننے کا فائدہ کس کو ہوتا ؟کہتے مجھے ہوتا، عوام کو ہوتا ، میں نے کہا اس سے زیادہ کچھ نہ ہوتا، زیادہ سے زیادہ آپکی اولاد تعلیم یافتہ بن جاتی، آپکے مریض آپ کے پاس آتے، علاج معالجہ کرواتے،لیکن کیا آپ نے آج تک کبھی سوچا کہ استاد بن کر آپ کس مقام پر پہنچ گئے ہیں؟ آج تک آپ کے کتنے طلباء و طالبات اپنی تعلیم مکمل کر کے عملی زندگی میں قدم رکھ چکے ہیں اور ان میں سے کتنے طلباء ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، بیوروکریٹس اور سیاستدان بن چکے ہیں؟کسی بہترین ہسپتال کے سب سے ماہر پروفیسر ڈاکٹر سے وقت لینے کے لیے ہفتوں انتظار کرنا پڑتا ہے اسی پروفیسر ڈاکٹر کوجو آپ کا شاگرد رہ چکا ہو آپ فون کرتے ہیں کہ میرے کچھ عزیز ہسپتال میں آئے ہیں ان کا خیال کرنااور وہ پروفیسر ڈاکٹر آپکا فون سنتے ہی اپنی تمام اہم مصروفیات ترک کر دیتا ہے اور ہسپتال میںآپ کے مریضوں کو خود ڈھونڈ رہا ہوتا ہے، کوئی آپ کواپنے مسئلے کا رونا روتا ہے کہ ہمارے علاقے میں بجلی کا ٹرانسفارمر ہفتوں سے خراب پڑا ہے، بارہا شکایات درج کروائی ہیں لیکن شنوائی نہیں ہوئی نہ ہی مسئلہ حل ہوا،

آپ اسکو کہتے ہیںواپڈا کے دفتر چلے جائو، ایکسئین سے ملنا، میرا سلام کہنا اور مسئلہ بتاناآپ کا کام اگرواپڈا کے عملہ سے نہ ہو سکا تو پھر وہ خود ٹھیک کروا کر دے گااور پھر آپ فخر سے کہتے ہیں میرا شاگرد ہے وہ۔ یہ وہ عزت و منزلت ہے جو دنیا کے کسی ڈاکٹر کسی سائنسدان یا انجینئر کے حصے میں نہیں آتی، یہ عزت، یہ مقام و مرتبہ، یہ قدر و منزلت صرف اور صرف استاد کے لیے ہی مخصوص ہے،ملکوں پر حکومت کرنے والے صدور یا وزراء اعظم ہوں یا افواج کے سربراہان، اپنے معزز استاد کااشارہ پاتے ہی اپنی پلکیں بچھا دیتے ہیں اور سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔والدین بچوں کی ابتدائی تربیت سازی کرتے ہیں اور والدین کے بعد اساتذہ کرام بچوں کی عملی تربیت کر کے ان کو زمانے کے سرد و گرم سے روشناس کرواتے ہیں اور ان کو لوہے سے کندن بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اساتذہ کرام کو روحانی ماں باپ کا درجہ دیا گیا ہے۔استاد وہ عظیم ہستی ہے جو قوموں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر کے انہیں آسمان کی بلندیوں پر پہنچاتی ہے ، کسی بھی کامیاب انسان کے پیچھے اس کے اچھے استاد کی بہترین عملی تربیت کارفرما ہوتی ہے اور وہ لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں جنہیں اچھے اساتذہ کرام مل جاتے ہیںاور ان کی دی ہوئی پیشہ ورانہ تعلیم کی وجہ سے وہ شہرت دوام حاصل کرتے ہیںہو سکتا ہے کہ ان کی اس عزت و شہرت لوگوں کو ایک آنکھ نہ بھاتی ہو لیکن اس کائنات میں صرف دو ہستیاں ہی ایسی ہیں جو آپ کو اونچا مقام ملنے پر فخر کرتے ہیں، ماں باپ اور اساتذہ کرام۔

سکندر اعظم ایک دفعہ اپنے استاد ارسطو کے ساتھ جنگل میں محو سفر تھے کے راستہ میں ایک تند و تیز ندی آگئی۔ ارسطو نے استاد ہونے کے ناطے پہلے ندی پار کرنا چاہی لیکن سکندر اعظم نے وہ ندی پہلے پار کرلی اور یہ مشہور جملہ کہا کے استاد محترم آپ کی عزت سر آنکھوں پر، مگر میں نے یہ گستاخی اس لیے کی کہ اگر میں ندی پار کرتے مر جاتا توصرف ایک سکندر اعظم مرتالیکن اگر خدانخواستہ آپ کو کچھ ہو جاتا تو پورے عالم کا نقصان ہوتا ،ایک ارسطو ہزاروں سکندر اعظم بنا سکتا ہے لیکن ہزاروں سکندر اعظم مل کر بھی ایک ارسطو نہیں بنا سکتے۔دنیا کے ہر ترقی یافتہ معاشرہ میں اساتذہ کرام کو بے پناہ عزت و تکریم سے نوازا جاتا ہے۔ ابن انشاء فرماتے ہیں کہ مجھے ایک بار ٹوکیو کی ایک یونیورسٹی میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں میری ملاقات اس یونیورسٹی کے ایک استاد سے ہوئی، ملاقات کے بعد وہ مجھے صحن تک الوداع کرنے آئے، میں نے دیکھا کہ ہر گزرنے والا طالبعلم ہمارے عقب میں اچھل کر گزر رہا ہے ابن انشاء نے کہا کہ میں نے ٹوکیو یونیورسٹی کے اس استاد سے وجہ دریافت کی تو جواب ملا ’’سورج کی روشنی کی وجہ سے ہمارا سایہ ہمارے پیچھے پڑا رہا ہے اور کوئی طالبعلم نہیں چاہتا کہ استاد کا سایہ اسکے پائوں تلے آئے لہٰذا یہ طلبا اچھل اچھل کر گزر رہے ہیں۔یقینا ترقی یافتہ ممالک نے یہ مقام و مرتبہ اساتذہ کی عزت و تکریم سے ہی حاصل کیا ہے۔ہم نے اگر تعلیمی معیار کو بلند کرنا ہے، ستاروں پر کمند ڈالنی ہے تو کتابوں اور نصاب کو بدلنے کی بجائے معاشرے میں استاد کے مقام کو پہچاننا ہوگا، اگر اساتذہ کو عزت و تکریم نہیں دی جائے گی تو یہ شعبہ اسی طرح زوال پذیر رہے گااور پھر ہماری قوم کی نوجوان نسل جنہوں نے کل اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے کو ظلمت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال :

کس طرح ہوا کند تیرا نشتر تحقیق
ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک

عالمی یوم اساتذہ ہر سال 5 اکتوبر کو انتہائی ادب و احترام سے منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد اساتذہ کرام کو ملک و قوم کی ترقی اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے کیے ان کی نمایاں خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ اس سال عالمی یوم اساتذہ کا موضوع YOUNG TEACHERS: THE FUTURE OF THE PROFESSION ہے۔ جوان اساتذہ کرام کے اندر ایک امنگ ہوتی ہے، کچھ نیا کر گزرنے کا ارمان ہوتا ہے یہ کام کے جذبہ سے سرشار ہوتے ہیں اور بلاشبہ یہی اساتذہ پیشہ تدریس کا مستقبل ہیںاور اس سال اساتذہ کا عالمی دن جوان اساتذہ کے نام ۔

Leave a Reply