رویہ کے مسائل سے دوچار طلبا اور اساتذہ کا کردار

Spread the love

تحریر:  توصیف احمد (اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر) اٹک

طلبہ میں مختلف اقسام کے رویہ کے مسائل ہو سکتے ہیں۔ ان میں جذباتی ہیجان ، پڑھنے لکھنے میں دقت، جھگڑالو فطرت، خوف، ڈپریشن وغیرو شامل ہو سکتے ہیں۔  ایک کمرہ جماعت میں ایک سے زیادہ ایسے طلبہ ہو سکتے ہیں جنھیں رویہ کے مسائل کی وجہ سے دیگر طلبہ کے مقابلے میں زیادہ توجہ درکار ہو۔ ان مسائل کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں۔ کبھی یہ مسائل ہارمونز کی وجہ سے ہوتے ہیں اور کبھی جماعت کے دیگر طلبہ اور دوسرے لوگوں کے روئیے کی وجہ سے۔

بعض اوقات ایک اچھا بھلا بچہ گھریلو ماحول کی وجہ سے ایسے مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ کو ایسے طلبہ کو تعلیم دینے کے لیے خصوصی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا کوئی انتظام موجود نہیں ہے۔ اس لیے بعض اوقات جہاں اساتذہ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں بعض اوقات طلبہ کو  بھی ایسے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا مداوا پھر کبھی ممکن نہیں ہوتا۔ ماضی میں  ہمارے ہاں اساتذہ ایسے مسائل سے سزا کے ذریعے ہی نبٹتے رہے لیکن اب معاشرے میں شعور اور حکومت کی جانب سے بندشوں سے اساتذہ کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں رہا جس سے وہ طلبہ کے خراب رویئے کی اصلاح کر سکیں۔

یہاں پہ اس حوالے سے کچھ اقدامات تجویز کئیے گئے ہیں تا کہ اساتذہ کی جس قدر ممکن ہو رہنمائی کی جا سکے۔اس حوالے سے اساتذہ کرام کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ طلبہ ایسے مسائل کا شکار ہی نہ ہوں کیونکہ احتیاط علاج سے بحرحال بہتر ہوتی ہے۔

طلبہ کو رویہ کے مسائل کا شکار ہونے سے بچانا۔

اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو اسکول میں ایسا ماحول دیا جائے جس سے وہ رویے یا ایسے ہی کسی دوسرے مسئلے سے دوچار ہی نہ ہوں۔ چونکہ ہر طالب علم کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں اس لیئے ذیل میں کچھ اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر اساتذہ کرام طلبہ کو رویے کے مسائل کا شکار ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

زیادہ مسائل کے ادوار میں طالب علم کی نگرانی میں اضافہ کریں:

جب طلبہ میں رویہ سے متعلق مسائل ابھرنے کا زیادہ اندیشہ ہو تو ان کی نگرانی میں اضافہ کر دیا جائے جیسا کہ جب طلبہ گروپس میں کام کر رہے ہوں یا دن کے  خاص اوقات میں جیسا کہ تفریح کے وقت یا چھٹی کے وقت۔ نگرانی میں یہ اضافہ مسائل سے روکنے میں کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ اساتذہ کی کوشش ہونی چاہیے کہ طلبہ کمرہ جماعت میں ہر وقت ان کی زیر نگرانی رہیں۔

اصول و ضوابط بنائیں:

سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہر کمرہ جماعت کے اصول و ضوابط مرتب کیے جائیں تاکہ طلبہ کو علم ہو کہ ان کو کمرہ جماعت میں کیسے رہنا ہے۔ ان اصول و ضوابط کا دائرہ کار پورے اسکول کی حد تک بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔

طالب علم کی استعداد کے مطابق کام دیں:

طلبہ کو ذہنی دباو سے بچانے کے لیئے ضروری ہے کہ اساتذہ طلبہ کو جو کام بھی کرایئں وہ اس کے لیے آسان ہو۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ مشکل اور پیچیدہ مواد کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جائے- پیچیدہ اسباق کو اس طرح چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے سے طلبہ کم ذہنی دباو محسوس کریں گے اور انھیں سبق آسان لگے گا جس سے نہ صرف روئیے کے مسائل سے نبٹنا آسان ہو جائے گا بلکہ طلبہ کو چونکہ سبق آسان  محسوس ہو گااس لیے ان کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔

طلبہ کو اختیارات دیں:

کمرہ جماعت کا ماحول سخت ہرگز نہ رکھا جائے بلکہ جہاں تک ممکن ہو طلبہ کو انتخاب کا اختیار دیا جائے۔ مثال کے طور پہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ یہ کام کس وقت کرنا چاہیں گے۔ یا یہ کہ آپ ابھی کونسا مضمون پڑھنا چاہیں گے وغیرہ۔

طلبہ کی مدد کو یقینی بنائیں:

بعض اوقات طلبہ روئیےمیں بگاڑ تب آتا ہے جب انھیں یہ معلوم نہ ہو کہ کوئی ان کی مدد کر سکتا ہے یا پھر وہ مدد مانگنے سے ہچکچاہٹ محسوس کریں۔ طلبہ کو تاثر دیں کہ جب بھی انھیں کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو گی تو آپ ان کی مدد کے لئے موجود ہوں گے۔ جب کبھی طلبہ اپنا کوئی مسلہ لے کر آپ کے پاس آئیں تو ان کو مت جھڑکیں یا طنز نہ کریں۔ جب بھی طلبہ کو کچھ سمجھ نہ آ رہا ہو یا کسی قسم کی کوئی بےچینی ہو تو وہ آپ کے پاس آنے سے نہ جھجکیں۔

ان سب اقدامات کے باوجود بھی اساتذہ کو طلبہ کی جانب سے رویے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس کی مختلف وجوہات میں سے ایک یہ ہو سکتی ہےکہ طلبہ ہر وقت اساتذہ کی زیر نگرانی نہیں ہوتے۔ دن کا زیادہ وقت وہ اسکول سے باہر گزارتے ہیں۔ وہاں کے حالات و واقعات بھی انھیں متاثر کر سکتے ہیں

طلبہ کی جانب سے خراب رویئے کی صورت میں کیا کریں:

بہترین حکمت عملی تو یہی ہے کہ طلبہ کے رویے میں کسی قسم کا کوئی مسلہ نہ ہو لیکن اس سب کے باوجود اگر طلبہ کے رویے میں خرابی پیدا ہو تو اساتذہ کا رویہ مثبت رہنا چاہیےاور درج ذیل اقدامات لے کر طلبہ کے رویے میں بہتری کی کوشش کرنی چاہیے۔

معذرت کریں:

معذرت کر لینا کسی بھی جھگڑے کا سب سے آسان حل ہے۔ آپ اپنی جماعت میں معذرت کو عام کریں۔ یہ اصول بنا دیں کہ جو بھی غلطی کرے گا اسے معذرت کرنا ہو گی۔

نظر انداز کریں:

بعض اوقات  طلبہ توجہ کی کمی کا شکار ہوتے ہیں  اور محض توجہ کے حصول کے لیے خراب رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اساتذہ کو بعض اوقات  ایسے رویے کو  نظر انداز کر دینا چاہیے۔ اس سے ایسے طلبہ کی حوصلہ شکنی ہو گی اور  ان کے رویے میں بہتری آے گی۔

دی گئی آسانیاں واپس لیں:

اگر آپ نے طلبہ کو کچھ سہولیات یا آسانیاں دے رکھی ہیں تو وہ واپس لے لیں۔ یہ یاد رہے کہ یہ سہولیات محدود وقت کے لیے ہی واپس لی جائیں اور دوبارہ غلطی کا ارتکاب نہ کرنے کی شرط پر واپس دی جا سکتی ہیں۔

تعریف کریں:

مثبت رویئے کی تعریف کریں۔ اس سے بھی منفی رویہ کم ہو جائے گا۔ جب اساتذہ ڈانٹ کی نسبت زیادہ تعریف اور حوصلہ افزئی  کرے گا تو طلبہ کو یہ پیغام جائے گا کہ توجہ کے حصول کے لیے ہمیں اپنا رویہ اچھا کرنا پڑے گا۔ تعریف اور حوصلہ افزائی کرنے کے لیے مختلف طریقے آزمائے جا سکتے ہیں۔ اس  میں زبانی تعریف بھی شامل ہے اور نوٹس بورڈ وغیرہ پر نام لکھنا بھی۔

طلبہ کے آپس کے مسائل اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے اساتذہ کو چاہیے کہ والدین کو مسئلہ کے حل میں شامل کریں، مسئلے کی بنیاد کو سمجھنے کی کوشش کریں اور طلبہ سے اچھا برتاو کریں۔ اس سے امید ہے کہ آپ کی جماعت کے کافی مسائل حل ہو جائیں گے۔

Leave a Reply