115

وزیراعظم اورآرمی چیف کے سامنے نیب سے متعلق تاجروں کے تحفظات بلا جواز تھے، جاوید اقبال

Spread the love

نجی سیکٹر کردار ادا کرے تو ملکی معیشت بہتر ہوسکتی ہے، معیشت مضبوط ہونے تک ملک اور اس کا دفاع مضبوط نہیں ہوسکتا،چیئرمین نیب کی پریس کانفرنس

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) نیب کے چیئرمین جسٹس(ر)جاوید اقبال نے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سامنے نیب سے متعلق تاجروں کے تحفظات کو بلاجواز قرار د یتے ہوئے کہا کہ اگر تاجر برادری کو نیب سے متعلق تحفظات تھے تو وہ بتائے جاتے، کوئی بھی ادارہ 100 فیصد قابل قبول کارکردگی کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہوتا ہے، ٹیکس لگانے اور ٹیکس میں اضافے میں نیب کا کوئی کردار نہیں ہے،معاشی بحران کا ذمہ دار صرف ایک ادارہ نہیں، بے لگام ہیں نہ مادرپدر آزاد، تنقید کی زد میں آئے تو خاموش رہنا مشکل ہو گا۔ بزنس کمیونٹی کا مورال نہیں گرنے دیں گے، صرف کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں، نیب کی خواہش نہیں کہ سعودی عرب جیسے اختیارات دئیے جائیں ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ تاجروں کے وفد نے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کی اور نیب پر تحفظات کا اظہار کیا۔چیئرمین نیب نے دعویٰ کیا کہ جن احباب نے اجلاس میں نیب سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا انہوں نے خود نیب کو تعریفی مراسلے لکھے۔

انہوں نے بتایا کہ نیب کی مدعا سرائی میں لکھے گئے مراسلے کو کسی مناسب وقت پر عیاں کیا جاسکتا ہے تاہم تحریر کنندہ کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا کیونکہ کسی کی عزت نفس مجرو ح نہ ہو۔چیئرمین نیب نے کہا کہ اگر تاجر برادری کو نیب سے متعلق تحفظات تھے تو وہ بتائے جاتے، کوئی بھی ادارہ 100 فیصد قابل قبول کارکردگی کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ ٹیکس لگانے اور ٹیکس میں اضافے میں نیب کا کوئی کردار نہیں ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اسٹاک ایکسچینج اور ڈالر کے اتار چڑھائو میں نیب کوئی کردار ادا نہیں کرتا لیکن نیب کاروباری طبقے کو مزید فعال کرنے کی متعدد کوشیں کررہا ہے۔چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال نے کہا کہ یہ میرا مینڈیٹ ہے اور نہ ہی میں سیاستدان ہوں لیکن کچھ تحفظات میں بے بنیاد تھے اور میں ان کی نفی کرتا ہوں اور بلاجواز تنقید کا جواب دینا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملکوں کے زوال میں بدعنوانی کا اہم کردار ہوتا ہے تاہم نیب کی ساری توجہ انسداد کرپشن پر مرکوز رہی۔ان کا کہنا تھا کہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ نیب ایسے اقدامات اٹھائے جس سے تاجر برادری کا مورال مجروح ہو۔چیئرمین نیب نے کہا کہ لاہور میں چیئرمین آف کامرس کے ایک عہدیدار نے مجھ سے سوال کیا کہ اگر سعودی عرب میں لوٹی ہوئی دولت 4 ہفتوں میں واپس لائی جاسکتی ہے تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟انہوں نے بتایا کہ نیب کی کبھی یہ خواہش نہیں رہی کہ سعودی ماڈلز کے اختیارات دیے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ کیا مجھے علم نہیں کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے جہاں آئین کی بالادستی ہے اور ریاستی ادارے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں تو یہ خواہش بڑی عجیب سی ہوگی کہ مجھے وہ اختیارات دیے جائیں جو صرف بادشاہت اور آمریت میں ہی ممکن ہے۔جسٹس (ر)جاوید اقبال نے بتایا کہ میں نے عہدیدار کو یہ ضرور جواب دیا کہ اگر نیب کو بھی سعودی عرب کے ماڈلز کے اختیارات مل جائیں تو میں 3 ہفتوں میں لوٹی ہوئی دولت واپس لا کر دکھاوں گا۔چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب آج کے بعد ٹیکس کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا، ٹیکس سے متعلق تمام ریفرنس واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے، بزنس مین کو نیب کی جانب سے نوٹس بھیجا جائے گا، بینک ڈیفالٹ کے معاملات نیب نہیں دیکھے گا، متعلقہ بنک کی جانب سے درخواست کے بغیر نیب بینک ڈیفالٹ کیسز نہیں لے گا، کوئی نیب افسر کسی بھی بزنس مین کو ٹیلی فون کال نہیں کرے گا۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب مادرپدر آزاد نہیں، نیب کے امیج کو بہتر بنانے کی دیانتداری سے کوشش کی، نیب وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات کررہا ہے، ملکی پالیساں بنانے میں نیب کا کوئی کردار نہیں البتہ بیروزگاری کا خاتمہ صرف حکومت کا کام نہیں ہے تاہم کوئی شخص یا ادارہ عقل قل نہیں، ادارے ہوں یا انسان خامیاں سب میں ہوتی ہیں۔چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ پاکستان آزاد ملک ہے آئین اور قانون کی حکمرانی ہے، کسی بھی ملک کے زوال میں بدعنوانی اہم کردار ادا کرتا ہے، قائداعظم نے کہا تھا بدعنوانی اور اقرباپروری پاکستان کے دوبڑے مسئلے ہیں جب کہ معیشت ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے، نجی سیکٹر کردار ادا کرے تو ملکی معیشت بہتر ہوسکتی ہے، معیشت مضبوط ہونے تک ملک اور اس کا دفاع مضبوط نہیں ہوسکتا

اپنا تبصرہ بھیجیں