103

حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر گئے

Spread the love

93 ہلاک، عراق کی صورتحال خراب ہونے کے بعد بحرین کا اپنے شہریوں کو فوری عراق چھوڑنے کا حکم

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک)عراق میں معاشی بدحالی، بے ضابطگیوں اور ناقص سہولیات کے خلاف 5 روز سے جاری مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 93 ہوگئی۔یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے مظاہرے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے بعد پرتشدد احتجاج میں بدل گئے ہیں اور دارالحکومت سمیت کئی شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پارلیمانی انسانی حقوق کمیشن نے بغداد سمیت دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 93 ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ 4 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔عراقی سیکیورٹی فورسز نے اب تک 5 سو سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز بغداد میں 10 افراد ہلاک ہوئے جنہیں سر اور پیٹ میں گولیاں ماری گئیں جن میں سے 4 افراد نامعلوم اسنائپر کا نشانہ بنے، ان ہلاک افراد میں 2 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے دارالحکومت بغداد سے کرفیو اٹھانے کا اعلان کیا ہے تاہم دیگر شہروں میں اب بھی کرفیو نافذ ہے۔ ادھر عراق کی صورتحال خراب ہونے کے بعد بحرین نے اپنے شہریوں کو فوری عراق چھوڑنے کا حکم دیا ہے جبکہ کویت نے بھی ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں شہریوں کو عراق کے سفر میں محتاط رہنے کا کہا گیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں