151

ریاض تہران میں جاری کشیدگی ختم، مذاکرات کرانے کیلئے پاکستان، عراق متحرک

Spread the love

سعودی آئل کمپنی آرامکوپر ڈرون حملوں کے بعد امریکہ کے ایران کیخلاف کارروائی سے گریز نے ریاض کو سخت گیر پالیسی تبدیلی پر مجبور کر دیا

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان ، عراق کے وزرائے اعظم کو کشیدگی ختم کرانے کیلئے ثالثی کی درخواست نے ایران کا رویہ بھی نرم کر دیا

ریاض کے خلیجی اتحادی بھی ایران سعودی عرب کشیدگی میں کمی لانے کیلئے سفارتی راستے اختیار کرنے کا کھل کر اظہار کر چکے ، نیویارک ٹائمز

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان اپنا کردار ادا کرنے لگا، اسلام آباد کیساتھ عراق سمیت چند ممالک ایران اور سعودی عرب کے مابین کشیدگی میں کمی لانے کیلئے بھی اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونیوالی خبر کے مطابق سعودی عرب اور ایران کشیدگی میں کمی کیلئے مذاکرات کرنے کی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے، مشرق وسطیٰ کے دونوں ممالک میں کافی عرصے سے تعلقات کشیدہ ہیں۔یاد رہے چند روز قبل سعودی آئل کمپنی کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنائے جانے کے بعد ایسے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ دونوں ممالک کے مابین کسی بھی وقت جنگ نہ شروع ہو جائے تاہم اس دوران سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا ایک انٹرویو جس میں انہوں نے کہا میں ایران کیساتھ لڑائی نہیں چاہتا کیونکہ جنگ عالمی معیشت برباد کر دے گی۔

وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل سعودی عرب گئے تھے، امریکہ میں عمران خان نے انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب نے ایران کیساتھ کشیدگی میں کمی لانے کیلئے ثالثی کی درخواست کی ہے۔ایک پاکستانی اہلکار نے شناخت مخفی رکھتے ہوئے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان کو بتایا جنگ نہیں چاہتے،آپ کو ثالثی کا اختیار دیتے ہیں جس کے بعد اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل عمران خان نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات بھی کی تھی جبکہ اجلاس کے بعد شاہ محمود نے وطن واپسی سے قبل ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے بھی ’خصوصی‘ ملاقات کی تھی۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے چند روز بعد عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے بھی سعودی ولی عہد سے ملاقات کی تھی۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی ذرا ئع کے مطابق بھی سعودی عرب نے ایران کیساتھ کشیدگی میں کمی کیلئے عراقی وزیر اعظم سے بھی کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ عبد المہدی نے محمد بن سلمان اور صدر روحانی کو بغداد میں براہ راست ملاقات کی تجویز بھی دی تھی۔تہران حکومت نے بھی کہا تھا سعودی عرب نے مذاکرات کیلئے مختلف ذرائع سے ایران کو پیغامات بھجوائے ہیں، تاہم سعودی عرب نے ایسی خبروں کی سختی سے تردید کی تھی۔

خبر رساں ادارے کے مطابق پس پردہ سفارتکاری کی کوششوں کے باوجود عوامی سطح پر سعودی عرب اور ایران دونوں ہی نے ایک دوسرے کیخلاف سخت لب لہجہ اختیار کر رکھا ہے۔ محمد بن سلمان نے ولی عہد بننے کے بعد ہی سے ایران کو مشرق وسطیٰ کے تمام مسائل کی جڑ قرار دیا تھا۔ 2017 میں انہوں نے کہا تھا ایران کا اصل ہدف سعودی عرب ہے لیکن وہ سعودی سرزمین پر جنگ شروع ہونے کا انتظار نہیں کریں گے بلکہ ایران کو میدان جنگ بنائیں گے،اب سعودی پالیسی میں بظاہر تبدیلی کے ضمن میں نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کیخلاف کسی فوجی کارروائی سے گریز کیا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب ملکی سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے امریکہ پر انحصار کیے ہوئے تھا لیکن اس واقعے نے بھی سعودی حکام کو ایران کیساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کر نے پر مجبور کیا۔ ریاض کے خلیجی اتحادی بھی کشیدگی میں کمی لانے کیلئے سفارتی راستے اختیار کرنے کا کھل کر اظہار کر چکے ہیں۔دوسری جانب ایران براہ راست مذاکرات کیلئے بھی رضا مند ہے کیونکہ تہران کی خواہش اور کوشش یہ بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کے اتحا دیوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہو۔ یو این جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھی روحانی نے خلیجی ممالک کو کہا تھا اسلامی جمہوریہ ایران آپکا پڑوسی ہے، وقت پڑنے پر آپ اور ہم تنہا ہونگے، ہم ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں، امریکہ نہیں۔
پاکستان عراق متحرک

اپنا تبصرہ بھیجیں