262

جزیرۂ خواب میں گونجتی آواز: عزیز نبیل

Spread the love

مضمون نگار: ڈاکٹرارشد جمال صارمؔ مالیگاؤں، مہاراشٹر

ؔیہ کس کا عکس جمال روشن ہے میرے آگےمری نگاہوں کے آئینے کیوں پگھل رہے ہیں فانوسِ خیال کی گردش کے توسط سے رنگا رنگ تصویریں پیش کرنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ تخلیق کی مسافتیں خامہ برداری کی غیر معمولی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ فکر و نظر کے زادِ بیش بہا کی طلب گار بھی ہوتی ہیں۔ تشکیل کے تحریکی نظام کے زیر اثر انجام پذیر ہونے والایہ عمل ذہن کے سمندر اور اس کی لہروں میں ہونے والے متواتر کون و فساد کی کشمکش کے بعد ہی قوس قزح کے ایسے ہفت رنگ دائرے بنا پانے پر قادر ہوتا ہے جو حیات و کائنات کے پراسرار رشتوں کی گرہ کشائی میں معاون ہوتے ہیں۔ تصویر کو تصور کی میزان پر پرکھ کر اسے تاثر کی زنبیل کے حوالے کرنے اور پھر اس سے نتائج اخذ کرنے کے لئے جس طباعی ذہن، پرواز تخیل، سطوت اظہار اور قدرت بیان کی ضرورت ہوتی ہے وہ کم ہی لوگوں کو ودیعت ہوتی ہے۔کم ہی ایسی ہستیاں ہوتی ہیں جو فکر و عمل کے ریشمی دھاگوں سے روح اور حقیت کے لباس پرخوبصورت نقش و نگار ثبت کرتی ہیں اورخیال کے توسط سے الفاظ ومعانی کا ایسا مدور آئینہ فراہم کرتی ہیں جن میں ہم زندگی کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ فکر بلند، جودت طبع اورجذب لطیف سے سرشار انہیں شخصیات میں ایک اہم شخصیت محترم عزیزالرحمان عزیز نبیل ؔکی ذات گرامی بھی ہے جن کے دوسرے مجموعہ کلام ”آواز کے پر کھلتے ہیں“ کی تقریب اجراء میں ہم اور آپ اپنی موجودگی کا شرف حاصل کررہے ہیں۔عزیز نبیل اپنی ذات و صفات، افکار و خیالات اور فکر و فن ہر سطح پر مرصع کاریوں اور ملمع سازیوں سے عبارت ہیں۔بلا شبہ آپ کی ذات اخوت و محبت، خلوص و مہراور سادہ لوحی و رواداری کا ایسا شبنمی پیکر ہے کہ جس کی چھاؤں سے صرف ٹھنڈک کشید کی جاسکتی ہے۔شعر اودب سے متعلق آپ کی نصف درجن تصانیف پہلے سے ہی قصر سخن میں مسند وقار پر فائز ہیں۔

2011میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ ”خواب سمندر“ اشاعت پذیر ہو کرنہ صرف یہ کہ احباب حل و عقد کی بصیرتوں کے دروازے کھٹکھٹا چکا ہے بلکہ انھیں اپنا گرویدہ بھی بنا چکا ہے۔”آواز کے پر کھلتے ہیں“کے فلیپ پر ڈاکٹر شمس الرحمان فاروقی، افتخار عارف اور سید محمد اشرف جیسی قد آور شخصیات کے تبصرے اس کا بین ثبوت ہیں۔ادیب بالخصوص شاعرفطرتاً زیادہ حساس ہوتا ہے اور اپنے محسوسات کوسلیقے سے پیش کرنے پر قادر بھی ہوتا ہے۔چنانچہ اس کے باطن کی حسیت جس قدر شدید تر ہوتی ہے اس کا اظہار بھی ویسا ہی توانا ہوتا ہے۔عزیزنبیلؔ بھی ایک ایسا ہی حساس شاعر ہے جواجتماعی زندگی کے آشوب سے اٹھنے والے دھوئیں کو انفرادی کرب کا حصہ بنا لیتا ہے اور پھر یہ کرب جب اس کے فکر و احساس سے متعامل ہوتا ہے تو اس سے حاصل ہونے والا رد عمل اعلی ترین شعر ی تخلیقات کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔”اواز کے پر کھلتے ہیں“ کہ کی قرآت سے ہم پر منکشف ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے عہد کی زندگی کا بڑی باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے۔ معاشرتی دنیا کی نفسیات کا پیچیدہ نظام ان کی دسترس کا حصہ ہے۔

انسانی مزاج اور اس کی بوقلمونیوں سے وہ بخوبی آشنا ہیں وہ صحیح معنوں میں زندگی کی بے بضاعتی اور مصلحت اندیشیوں کے واقف کار ہیں، وجود کی حقیقت، نفسیاتی جہان کی تشکیک، رویوں اور معاملات کے تضادات، ذات کا انتشار اور اس کی شکست ریخت غرض یہ کہ تغیرات و کیفیاتِ حیات کی کل باریکیاں ان کے مشاہدے و تجربے کا حصہ ہیں جن میں بلا کا عمق پایا جاتا ہے جو سرسری پن اور جذباتیت کے بجائے فکر ی اور حسی گہرائی کی حامل ہیں۔ وہ خود کو ان محسوسات میں گم کر کے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ہر لہجے کی خاموشی میں جھڑتی ہے آواز کی راکھہر سینے میں ریت اڑاتا درد کا صحرا چلتا ہے وہ کیسا موسم تھا زرد شاخوں سے سبز بیلیں لپٹ رہی تھیں وہ سبز بیلیں کہ جن کی آنکھوں میں کوئی خوف خزاں نہیں تھا میں اور کتنے ستاروں کو ڈوبتا دیکھوں سیاہ رات کی کشتی سے اب اتار مجھے الفاظ کی شریانوں میں خوشبوؤں کی سیال آتش انڈیلنے کی سعادت خود کو کتنی اذیتوں سے گزارنے کے بعد حاصل ہوتی ہے اس کا بہتراندازہ تو ایک تخلیق کار ہی لگا سکتا ہے پھر بھی عزیز نبیل کے دو سطری پیرایہ اظہار کی قرآت کسی بھی شخص کو بآسانی یہ باورکراسکتی ہے کہ ان سطروں کی خوش رنگی کے پس پر دہ کسیے کسیے سفاک، ناہموار، کھردرے اور مضطرب لمحوں کی کربناکیاں شامل ہیں۔آرٹ اور فن کا مقصدمحض اشیاء کی علمی آگہی نہیں ہوتا بلکہ اس کا مقصد اشیاء میں حسیات کا اقبال ہوتا ہے۔ ایک ہی عنوان پر مشتمل فن ہمارے ادراک کو الگ الگ درجات کے ذائقوں سے آشنا کراتے ہیں۔ لہذا معروض کو معروض کی طرح پیش کردینا اہم نہیں ہے بلکہ اس کو نئے پیراہن میں اور منفرد زاویوں سے پیش کرنا اہم ہے تاکہ وہ اپنی عام سطح سے بلند ہوجائے اور یہی جمالیات کا منتہا و مقصود بھی ہے۔

شاعری کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اس کو سوچا کم اور محسوس زیادہ کیا جاتا ہے۔ کبھی ہم اسے گرفت کرپانے سے معذور ہوتے ہیں اور کبھی یہ ہمیں رنگ و آہنگ اور معانی کی طلسماتی دنیا میں پہونچا دیتی ہے۔ ”آواز کے پر کھلتے ہیں“ کی شاعری بھی معروضات کو فنی اور جمالیاتی سطح پر بلند رکھ پانے میں حد درجہ کامیاب ہے۔سرائے عشق میں بیٹھے ہوئے ہیں دل والے اور ایک آخری تہمت کے انتظار میں ہم سے ملتے ہیں سر دشت بگولے جھک کر پاؤں دریاؤں میں رکھیں تو بھنور کھلتے ہیں عزیز نبیل کی شاعری سرگوشی اور خودکلامی کی شاعری ہے۔ ان کے لہجے میں ہلکی بارش کی پھوار اور چاندنی کی سی ٹھنڈک پائی جاتی ہے۔ان کی غزلوں میں آبجو کی سی روانی اور مدھم سروں کی نغمگی موجود ہے۔ان کی تخلیقات شفاف آئینے کی طرح چمک دارہیں جو اپنی روشنی فضا میں اس طرح بکھیرتی ہیں جس طرح چودہویں کا چاند اپنے حسن آفریں نورسے پوری زمین کو ڈھک لیتا ہے۔ان کے اشعار میں پائی جانے والی سلاست اور نفاست ان کے قرینے کی غماز ہے۔ ان کے یہاں نیا پن ایک تہذیب کے ساتھ ورود کرتا ہے۔ ان کی غزل کو بجا طورپر جدت و ندرت اور روایت کاحسین متزاج کہا جا سکتا ہے۔عزیز نبیل کے یہاں شعری اجزاء، الفاط کے اتار چڑھاؤ اورمضمون کے تنوع کے ساتھ ساتھ علامات و استعارات کی ایک مستحکم فضا بھی پائی جاتی ہے جس سے ان کے اشعار میں نئی معنیاتی سطحیں وجود پذیر ہوتی ہیں۔جدید شعرا کی طرح عزیز بنیل کی شاعری میں بھی علامات و استعاروں کی ایک معتد بہ تعداد موجود ہے جن میں چراغ،دیا، چاند، سورج، دھوپ، پرندہ،رات، نیند، خواب، دشت، جنگل، آواز، شجر،سمندر، ساحل، کشتی، بھنور اورآئینہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔لیکن خواب اور آواز کو جس انداز سے انھوں نے استعاراتی نظام کا حصہ بنا یا ہے اور ان کے تلازمات کی مدد سے شعرگری کی ہے وہ دیکھنے کی چیز ہے۔ان کی ہر دوسری غزل میں خواب کا استعارہ خیال کی ترسیل میں معاون ہے اور ہر تیسری غزل میں آواز اور اس کے مترادفات شعر کی در وبست کو بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مجموعے میں شامل کئی غزلیں ایسی ہیں جن میں یہ دونوں استعارے اجتماعی طور پر غزل کا مرکزی موضوع بن کر وارد ہوئے ہیں۔

یہاں پر نہ تو موقع ہے نہ ہی اس کی ضرورت کی خواب اور آواز کی علامتی و استعاراتی حیثت بیان کی جائے اور ان کی معنوی وسعت آپ کے روبرو پیش کی جالئے لہذا میں اس سے گریزاں ہوں البتہ میں اس حوالے کے چند اشعار ضرور آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا تاکہ دعوے کو دلیل فراہم کی جاسکے۔آسیب سا جیسے مرے اعصاب سے نکلا یہ کون دبے پاؤں مرے خواب سے نکلا یہیں کہیں تو چمکتی تھی اک طلسمی جھیل یہیں کہیں تو میں ڈوبا تھا اپنے خواب کے ساتھ گذر رہا ہوں کسی خواب کے علاقے سےزمیں سمیٹے ہوئے آسماں اٹھائے ہوئےخامشی ٹوٹے گی آواز کا پتھر بھی تو ہو جس قدر شور ہے اندر کبھی باہر بھی تو ہوروز دستک سی کوئی دیتا ہے سینے پہ نبیل روز مجھ میں کسی آواز کے پر کھلتے ہیں بھنور صداؤں کے لپٹے ہوئے ہیں کانوں سےبلانے والے نئے ڈھنگ سے پکار مجھے”خواب سمندر“سے”آواز کے پر کھلنے تک“ عزیز نبیل کی شاعری نے فکری، علامتی اوراستعاراتی سطح پر کئی مراحل طے کئے ہیں جن کی تفصیل طویل تجزیاتی بحث کی متقاضی ہے۔ لیکن ان کتابوں کے مطالعہ کے بعد تاثراتی سطح پر یہ نتیجہ ضرور اخذ کیا جا سکتا ہے کہ خواب سمندر میں جہاں ان کا مخاطب چند گز کی دوری پر کھڑا ہوکر ان کو سماعت کر رہا تھا جس کے سبب عزیزنبیل کو اپنی آواز کو قدرے بلند رکھنا پڑتاتھا اب ان سے بہت قریب آگیا ہے اتنا قریب کی عزیز نبیل کی سرگوشی کی حلاوت کو بھی محسوس کر سکتا ہے۔ ان کا مخاظب اب سماعت سے استسماع کے مرحلے میں داخل ہوکر ان سے مکالمے فضا کی بھی استوار کرنے لگا ہے۔ چند لفظوں میں کہا جائے تو خواب سمندر میں ان کا مخاطب جہاں محض گوش بر آواز تھا آواز کے پر کھلنے تک پہونچتے پہونچتے حلقہ بگوش ہو چکا ہے۔عزیز نبیل کی شعری کائنات اپنے اطراف میں اجالوں اور خوشبوؤں کا ہالہ ترتیب دیتی ہے۔ان کے یہاں زخموں سے گلاب اور آنسوؤں سے چراغ کا کام لیا جاتا ہے۔ان کے فکری جہان میں آوازیں اپنا پیکر رکھتی ہیں اور انداز سماعت کئے جاتے ہیں۔ وہ اضطراب کے لمحوں سے سکون کشید کرتے ہیں اور شادمانیاں ان کے لئے خلش کا باعث ہوتی ہیں۔

ان کا غم نوحہ کی فریاد نہیں کرتا ہے بلکہ وفور ِنشاط کا وسیلہ بنتا ہے۔ وہ فکر کے خارزار سے گزرتے ہوئے لہو لہان بھی ہوجاتے ہیں لیکن بطون ذات کی روشنی بکھیرنے کا عمل جاری رکھتے ہیں۔ان کا آہنگ سخن اپنا جواب آپ ہے۔ ان کی شاعری جس طرح قطرہ قطرہ اپنے قاری کو شرابور کرتی ہے اور روح کی گہرائیوں میں اتر کر دامن دل کھینچتی ہے اسے بس محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ان کا حکیمانہ لہجہ ایک عجیب کیف سے دوچار کرتا ہے۔ان کی غزلیں اپنی ظاہری ساخت اور اور اندرونی بافت دونوں طور سے قابل لحاظ ہیں اور اپنی کامل یکجائی سے شعری حسن کو قلزم فراہم کرتی ہیں۔۔ مجھے قوی امید ہے ”آواز کے پر کھلتے ہیں کی“ کی اشاعت اہل نظر کوعزیز بنیل کی شاعری کی نئی جہتوں سے روشناس کرائے گی اور انہیں ان کے کلام کی بازیافت، تحقیق اور تنقیدی مطالعے کی طرف راغب کرے گی۔کوئی مشکل کی گھڑی ہوتو چنا جائے مجھےخواب کی طرح حقیقت میں بنا جائے مجھےصرف آواز ہی پہچان نہیں ہے میری آواز سے آگے بھی سنا جائے مجھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں