119

27 اکتوبر کا دھرنا، بات منت سماجت اور شگون، بدشگونی پر پہنچ گئی

Spread the love

اسلام آبا د(صباح نیوز)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جمعیت علمائے اسلام (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمان سے آزادی مارچ کی تاریخ پرنظر ثانی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہاہے کہ 27 اکتوبر وہ منحوس دن ہے، وہ یوم ساہ کا دن ہے جس دن بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا تھا۔ مولانا فضل الرحمان احتجاج کریں لیکن اسے کشمیر کے ساتھ نتھی نہ کریں۔ 27 اکتوبر کوکشمیر کے علاوہ کوئی اور بات ہوتی ہے تو بھارت اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرے گا۔ مولانا فضل الرحمان احتجاج کے لئے کسی اور تاریخ کا انتخاب کر لیں۔

یہ باتیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دن بھارت نے مارچ کیا اور سرینگر پر قبضہ کیا اور مقبوضہ کشمیر کو ناجائز ذرائع سے اپنے ساتھ شامل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سال 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے اور دنیا بھر میں کشمیری اس دن کو کشمیر کے ساتھ منسوب کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان قابل احترام ہیں وہ خود کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں، وہ 27 تاریخ کو آزادی مارچ کرنا چاہتے ہیں، اب 27 تاریخ کو وہ اپنا آزادی مارچ کرتے ہیں تو اس سے بھارت کے بیانیہ کو تقویت ملے گی کہ کشمیر کے مسئلہ پر قوم یکجا نہیں ہے۔ آپ 100مخالفت کریں، مارچ کریں، 27 تاریخ کو جب آپ کریں گے تو اس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا۔

کشمیر کے حوالہ سے پارلیمان نے متفقہ قرارداد منظور کی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ ہمارے 100 اختلاف ہیں لیکن کشمیر کے مسئلہ پر پوری قوم ایک ہے تو پھر 27 اکتوبر پر نظر ثانی کریں اور کسی اور تاریخ کا انتخاب کر لیں، ابھی آپ کے اپنے حلیف بھی پوری طرح 27 تاریخ پر تیار متفق نہیں ہیں، اس سے پاکستان کے اور کشمیر کے کاز کو نقصان پہنچے گا۔ میں مولانا فضل الرحمان سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس تاریخ پر نظر ثانی کریں، یہ دن کشمیریوں سے منسوب ہے اس میں کسی اور چیز کو شامل نہ کریں ،اگر آپ ایسا کریں گے تو جو یکجہتی کا پیغام کشمیریوں کو دینا چاہتے ہیں وہ منتشر ہو جائے گا اور جو مقصد ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ مقصد حاصل نہیں کر پائیں گے۔ آپ نے سیاست کرنی ہے، آپ نے مارچ کرنا ہے وہ آپ کے پاس 27 کے بعد تاریخیںپڑی ہیں آپ ضرور کیجئے ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہے۔ میں بحیثیت جمہوریت پسند ہونے کے آپ کے پر امن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتا ہوں، لیکن 27 اکتوبر وہ منحوس دن ہے، وہ یوم سیاہ کا دن ہے جس دن بھارت نے کشمیر پر قبضہ کیا تھا، سرینگر پر مارچ کیا تھا، آپ اپنے مارچ کو سرینگر کے مارچ کے ساتھ کیوں منسوب کرنا چاہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں