110

مسئلہ کشمیر: سی این این، ایم ایس این بی سی، سی بی ایس اور اے بی ایس جیسے مقبول ٹی وی نیٹ ورک متحرک

Spread the love

امریکی ذرائع ابلاغ کشمیری عوام کی مشکلات کو اجاگر کرکے اقوام عالم کی توجہ خطے پر مرکوز کررہے ہیں

واشنگٹن(کے پی آئی) امریکی زرائع ابلاغ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو، عائد پابندیوں اور قدغنوں میں رہنے والے کشمیری عوام کی مشکلات کو اجاگر کرکے اقوام عالم کی توجہ خطے پر مرکوز کررہے ہیں ۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سی این این، ایم ایس این بی سی، سی بی ایس اور اے بی ایس جیسے مقبول ٹی وی نیٹ ورک شامل ہیں جو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں عائد پابندیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کا بھی ذکر کرتے رہے ہیں۔متعدد امریکی اخبارت میں بھی اس بارے میں خبریں شائع کی گئیں ہیں جن میں نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور ایل اے ٹائمز نمایاں ہیں۔ان اخبارات نے تفصیلی خبروں کے ساتھ ساتھ وہاں کی کشیدہ صورتحال کی تصاویری جھلکیاں بھی شائع کی ہیں جن میں وادی کشمیر میں کرفیو، عائد پابندیوں اور قدغنوں میں رہنے والے کشمیری عوام کی مشکلات کی عکاسی کی گئی ہے۔اس کے علاوہ انڈیا کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے گھروں میں چھاپے مار کر عام شہریوں کی گرفتاریوں اور انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کی خبریں اخبارات کی زنیت بنی۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ کے ایسے 20 افراد کا ذکر بھی کیا جنھوں نے انڈین سکیورٹی حکام کی جانب سے انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کا دعوی کیا تھا۔نیویارک ٹائمز اخبار نے بھی اپنے صفحہ اول پر ایک ایسے کشمیری خاندان کی تصویر شائع کی تھی جن کے خاندان کے افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ نیویارک ٹائمز نیدو اکتوبر کو شائع ہونے والے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ اب اقوام متحدہ کشمیر کے مسئلے کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ اخبار نے لکھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ کشمیر پر انڈیا کے وزیر اعظم کے سخت شکنجے والے تسلط کی مخالفت کرتی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان عالمی برادری سے اس سلسلے میں مداخلت کی اپیل کرتا رہا ہے۔دوسری جانب امریکی ٹی وی چینلز پر بھی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعلق متعدد بار تفصیلی رپورٹس نشر کی گئیں ہیں۔ان میں سی این این، ایم ایس این بی سی، سی بی ایس اور اے بی ایس جیسے مقبول ٹی وی نیٹ ورک شامل ہیں جو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں عائد پابندیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کا بھی ذکر کرتے رہے ہیں۔

اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ کی جنوبی ایشیا کے امور کی قائم مقام نائب سیکرٹری ایلس ویلز نے گذشتہ ہفتے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا انڈین حکومت کشمیر میں حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کرے اور جلد از جلد وہاں عائد پابندیوں کو ختم کرے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیر میں سیاسی عمل کی شروعات ہو اور وہاں لوگوں کو پرامن مظاہرے اور اجتماع کی اجازت ہونی چاہیے۔واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان اور انڈیا کے مابین کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں۔ مگر ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے شرط ہے کہ پہلے دونوں ممالک اس پر آمادہ ہوں۔جبکہ انڈیا کشمیر کے مسئلے کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے کسی بھی ثالثی کی پیشکش کو رد کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں