101

ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس، عدالت نے تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا

Spread the love

ملتان (سٹاف رپورٹر)ملتان کی ماڈل کورٹ کے جج عمران شفیع نے ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم وسیم کو عمر قید کی سزاسنادی جبکہ دیگر تمام ملزمان کو عدم شواہد کی بناء پر شک کا فائدہ دیتے ہوئے کیس سے بری کر دیا۔ مرکزی ملزم وسیم ، قندیل بلوچ کا بھائی ہے۔ دوران سماعت وسیم نے اسپیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں قندیل بلوچ کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

ملزم نے عدالت میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے اپنی بہن کو غیرت کے نام پر قتل کیا ہے ۔ واضح رہے کہ قندیل بلوچ کو 15جولائی 2016میں ملتان کے علاقہ مظفرآباد  کے گھر میں قتل کیا گیا تھا۔ 17جولائی 2016سے 26ستمبر2019 تک کیس کی 152سماعتیں ہوئیں اور عدالت نے گزشتہ روز فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

قندیل بلوچ کے قتل کا مقدمہ ان کے والد عظیم ماڑا کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ دوران سماعت قندیل بلوچ کے والد نے اپنے بیٹوں کو اللہ کے نام پر معاف کرنے کی استدعا بھی کی تھی تاہم عدالت نے ان کی استدعا مسترد کر دی تھی۔ مرکزی ملزم وسیم کے علاوہ  دیگرتما م ملزمان ضمانت پر رہا تھے۔ عدالت نے مرکزی ملزم  وسیم کے علاوہ دیگر چھ ملزمان مفتی عبدلقوی،اسلم شاہین، عارف،  ظفرحسین ، عبدالباسط اور حق نواز کو بری کر دیا۔ ،

بری ہونے والے ملزمان میں قندیل بلوچ کے دو بھائی اسلم شاہین اور عارف بھی شامل ہیں۔ جبکہ قندیل بلوچ کا ایک بھائی سعودی عرب میں مقیم ہے اور وہ مقدمہ میں نامزد ہونے کے باوجود پیش نہیں ہوا جس پر عدالت نے اسے اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ قندیل بلوچ قتل کیس چار مختلف عدالتوں میں چلتا رہا اور دو ماہ قبل ہی کیس ماڈل کورٹ کے جج عمران  شفیع کے پاس منتقل کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں