plastic bags 84

اسلام آباد میں پلاسٹک بیگزپر پابندی،شہریوں اوردکانداروں کو مشکلات کا سامنا

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) اسلام آباد میں پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی کے باعث عوام اور دکانداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماحول کو صاف رکھنے کے لئے حکومت نے اسلام آباد میں پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس حوالے سے آن لائن کے سروے کے دوران سیکٹر جی سیون ستارہ مارکیٹ میں ایک بک شاپ کے مالک نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد کرنا ایک اچھا اقدام ہے

لیکن حکومت نے اس کا کچھ متبادل حل نہیں نکالا جس کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے جبکہ کچھ لوگوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہاکہ مشکلات ہیں لیکن چونکہ پلاسٹک ایک نہ ختم ہونے والی چیز ہے جس کی وجہ سے ندی نالوں کا پانی بند ہو جاتا ہے جوکہ سیلاب کا باعث بنتا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ اس کا متبادل دینا چاہئے تھا پھر پابندی عائد ہونی چاہئیے تھی ۔

ایک سبزی فروش نے بتایا کہ ہم کاغذ کے تھیلے استعمال کرتے ہیں جو بہت نازک ہوتے ہیں اور جلدی پھٹ جاتے ہیں۔ آبپارہ مارکیٹ میں ایک صارف نے بتایا کہ پلاسٹک بیگز پر پابندی ایک اچھا اقدام ہے دکاندار شاہ نواز نے بتایا کہ شروع میں بہت پریشانی تھی لیکن آہستہ آہستہ لوگوں میں شعور آ رہا ہے اور اب لوگ دودھ، دہی کے لئے گھروں سے برتن لے کر آتے ہیں۔

محکمہ موسمیاتی تبدیلی، متبادل توانائی اورآبی وسائل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بشیر احمد نے اس حوالے سے آن لائن کو بتایا کہ پلاسٹک تھیلوں پر پابندی کا مقصد صرف اسلام آباد کو صاف رکھنا نہیں بلکہ ان کی وجہ سے پورا ماحول خراب ہو رہا ہے۔ ان پلاسٹک بیگز کی وجہ سے نکاسی آب کا نظام متاثر ہو رہا ہے، صحت کے مسائل پیش آ رہے ہیں اور آبی زندگی پر اس کا اثر پڑ رہا ہے۔

بشیر احمد نے کہا کہ یہ اقدامات بہت پہلے کرنے چاہئے تھے۔ انہوںنے کہاکہ اب بھی اس اقدام کو صرف اسلام آباد تک محدد نہیں رکھنا چاہئے بلکہ پورے ملک میں اس طرح کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شروع میں مشکلات ہوتی ہیں لیکن آہستہ آہستہ لوگوں میں آگاہی پیدا ہو گی اور لوگ عادی ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر بشیر احمد نے کہا کہ کینسر جیسی بیماریاں پلاسٹک کے استعمال سے ہوتی ہیں لہٰذا اس کی روک تھام بہت ضروری ہے۔

پاکستان ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی کے ڈائریکٹر خالد محمود نے بتایا کہ یہ اقدام پہلے اسلام آباد سے شروع ہوا کیونکہ یہ ایک ماڈل شہر ہے اور جلد ہی پورے ملک میں لاگو ہو جائے گا۔ اس اقدام کو برقرار رکھنے کے لئے چھ لوگوں پر مشتمل ایک ٹیم روزانہ کی بنیاد پر الگ الگ سیکٹر پر چھاپے مارتی ہے جن میں ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، سی ڈی اے نمائندہ اور میڈیا کا نمائندہ شامل ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں