203

اسلام آباد,،ہیمبرگ,بھارتی پنجاب میں کشمیریوں کے حق میں احتجاجی مظاہرے

Spread the love

اسلام آباد،چندی گڑھ ،ہیمبرگ ،سرینگر(صرف اردو ڈاٹ کام) مقبوضہ کشمیر میں زندگی کو رکے 52 روز ہو گئے ہیں، موبائل فون، لینڈ لائن، انٹر نیٹ سمیت دیگر سہولتیں بند ہیں، نوجوانوں کی رہائی کے بدلے بھارتی فوج رشوت لینے لگی۔ سرینگر میں نوجوانوں کا نیا مزاحمتی گروپ سامنے آیا ہے جس نے شہر میں بینر لگائے ہیں اور کہا ہے کہ خون کے آخری قطرے تک آزادی کیلئے لڑیں گے۔دوسری طرف حکومت کا 27ستمبر کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم سیاہ منانے کا اعلان،

ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا وفاقی وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے کل جمعہ کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے، یوم سیاہ کے موقع پر ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا،

وزارت داخلہ نے یوم سیاہ کو کامیاب بنانے کیلئے ماتحت اداروں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون اورکرفیو سے متاثر ہونے والے بچوں سے اظہار یکجہتی کے لئے راولپنڈی اسلام آباد کے مختلف تعلیمی اداروں نے پارلیمنٹ ہائوس سے بھارتی ہائی کمیشن کی طرف مارچ کیا۔

بدھ کو مارچ میں طلباء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ طلباء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم، لاک ڈائون اور کرفیو کے خلاف نعرے درج تھے۔

ادھر مقبوضہ کشمیر میں مسلسل لاک ڈائون اور بھارت کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف بھارتی پنجاب کے لوگ سراپا احتجاج ہیں۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق عام لوگ ، کسان ، ورکرز ، مزدور اور دانشور احتجاجی مظاہروں ، دھرنوں اور سیمینارز میں شرکت کررہے ہیں۔ پنجاب کی کئی معروف تنظیموں نے دفعہ 370کی منسوخی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کررہی ہیں جن میں نوجوان بھارت سبھا، لوک مورچہ پنجاب، ریزن ایبل سوسائٹی، پنجاب سٹوڈنٹس یونین، بھارتیہ کسان یونین، فیکٹری مزدور یونین، ٹیکسٹائل ہوزری ورکرز یونین ، پینڈو مزدور یونین، کسان سنگھرش کمیٹی ، پیٹریاٹ میموریبل ہال کمیٹی، پنجاب ایمپلائز یونین اور دیش کسان مورچہ قابل ذکر ہیں۔

ان تنظیموں کا اپنے اپنے شعبوںمیں اچھا خاصا اثرورسوخ پایا جاتا ہے۔15ستمبر کو چندیگڑھ میں ان تنظیموں نے دیگر پندرہ تنظیموں کے ساتھ ملکردفعہ 370کی منسوخی کے خلاف ایک بڑا احتجاج کیاجبکہ اسی دن بھٹنڈا، مانسہ، مکتسر، فریدکوٹ، ترن تارن، امرتسر، لدھیانہ، سنگرور ، برنالہ، پٹیالہ ، نابھااور ناون شہر سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی اسی طرح کے احتجاجی مظاہرے دیکھے گئے۔ان احتجاجی مظاہروں میں بتدریج تیزی آرہی ہے۔ ایک تنظیم ’’پنڈ بچائو‘‘ سے وابستہ پروشوتم لال کا کہنا ہے کہ چند تنظیموںکا ایک وفد جب کشمیرکے لیے روانہ ہوگیا تو اسے سینٹرل سکیورٹی فورسز نے پٹھانکوٹ سے پہلے ہی روک دیا اور جب ہم نے احتجاج کیا توہماری تذلیل کی گئی۔

فارمرز سٹرگل کمیٹی کے رہنما کنولجیت سنگھ پنو نے کہاکہ پنجاب کے کسان سمجھتے ہیں کہ دفعہ 370اور35Aکی منسوخی غیر ملکی قابضین کو یہ اجازت دینا ہے کہ وہ کشمیر کی زیادہ سے زیادہ زمین حاصل کریں۔انہوںنے کہاکہ ہم اس مسئلے پر کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ بھارتی پنجاب میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر نہ صرف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں بلکہ سیمیناز کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے اور تقربیاً ہر ترقی پسند دانشور دفعہ 370کی منسوخی کے خلاف ہے اور اس کے خلاف لکھتا ہے۔ اس سلسلے میں یکم اکتوبرکو لدھیانہ شہر میں بھی ایک بڑے سیمینار کا اہتمام کیاجارہا ہے جبکہ چندیگڑھ میں پنجاب یونیورسٹی پہلے ہی ایک کامیاب کانفرنس منعقد کرچکی ہے۔علاوہ ازیں جرمنی کے بندرگاہ شہر ہیمبرگ میں گزشتہ چار ہفتوں سے ہر منگل کو بھارتی قونصلیٹ کے سامنے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں