کیا ذیشان کو اس کیس میں انصاف ملے گا۔؟

Spread the love

سانحہ ساہیوال پر تین دن میں جے آئی ٹی کی رپورٹ مکمل نہیں ہو سکی اور ابتدائی طور پر صرف یہ بتایا گیا ہے کہ خلیل اور اس کے اہل خانہ معصوم لوگ تھے اور اس آپریشن کا اصل ٹارگٹ ذیشان تھا جس کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے تھا اور رات کو ذیشان کے فون سے فیصل آباد میں مارے جانے والی دہشت گرد عدیل حفیظ کے ساتھ سلفی بھی مل گئی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جس گاڑی میں یہ لوگ مارے گئے ہیں وہ بھی عدیل حفیظ کے نام پر ہے جو اس نے چند ماہ پہلے ثاقب محمد نامی سے آدمی سے 6 لاکھ اسی ہزار میں خریدی تھی اور یہ گاڑی اب کچھ ماہ سے ذیشان کے زیر استعمال تھی۔

اس سے قبل جس روز یہ حادثہ ہوا اس روز رات کو حکومت نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ذیشان کے گھر میں چھپے ہوئے دہشت گرد سوشل میڈیا دیکھ کر بھاگے اور گوجرانوالہ میں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں مارے گئے۔ کسی نے ان سے پوچھا ہی ہو گا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ دہشت گرد اس کے گھر میں ہی چھپے ہوئے تھے اور وہ سوشل میڈیا پر خبریں دیکھ کر بھاگے۔ اس سے معلوم تو یوں ہوتا تھا کہ جیسے وہ حکومت میں کسی کے ساتھ رابطے میں تھے اور بتایا کہ بھائی فیس بک سے معلوم ہوا کہ آپ نے ہمارے ساتھی کو مار ڈالا اور اب ہم گوجرانوالہ جا رہے ہیں اور وہاں آ کرہمیں بھی مار لو ۔

پہلے دن یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ ذیشان کا تعلق داعش کے ساتھ ہے۔ ہمیں صحافت میں کم و بیش 25 برس ہو چکے ہیں اور ہم نے کبھی یہ نہیں سنا کہ دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردتنظیم کے لوگ اس طرح ان فونوں سے بات چیت کرتے ہوں جو ان کے استعمال میں ہوتے ہیںاور یہ بھی ہمارے مشاہدے میں پہلی بار ہی آیا ہے کہ دہشت گرد اپنے ساتھیوں کے ساتھ سلفیاں کھنچوا کر ساتھ بھی رکھتے ہیں۔

صوبائی وزیرقانون راجہ بشارت نے یہ دعوی بھی کیا کہ آپریشن سو فیصد درست تھا جو انٹیلی جنس بنیادوں پر کیا گیا تھا اور اب اس ساری صورت حال پر جے آئی ٹی آج یا ایک دن بعد رپورٹ پیش کرے گی۔

اس کیس میں انصاف کس قدر ہو گا اس کا اندازہ شائد پورا پاکستان کر ہی چکا ہے کیونکہ اس کیس میں بھی ہمیشہ کی طرح وہی پرانے داو پیچ استعمال کیے گئے ہیں یعنی کچھ معطلیاں اور کچھ مقدمے اس سے قبل بھی یہی سب کچھ ہوتا رہا اور کسی بھی جگہ ایسے کسی شخص کو انصاف نہیں ملا جس کو سرکاری اداروں نے اپنی جان بچانے کے لیے قربانی کا بکرا بنا لیا ہو۔

اگر راجہ بشارت اور سرکاری اہلکاروں اور اداروں کے موقف کو تسلیم کر لیا جائے اور یہ مان کر چلا جائے کہ ذیشان بہت بڑا دہشت گرد یا کسی تنظیم کا کارندہ تھا اور کسی بڑی کارروائی کا ارادہ رکھتا تھا اور بہت سارا دھماکہ خیز مواد، جیکٹیں اور دیگر چیزیں لے کر سفر کر رہا تھا اور اس کی اطلاع سیکیورٹی اداروں کو مل چکی تھی۔ اب اس دہشت گرد کے مقابلے کے لیے جو اہلکار آتے ہیں انہوںنے اپنے بچاو کا کوئی انتظام نہیں کیا وہ جاگنگ سوٹ میں ملبوس آ جاتے ہیں۔ نہیں معلوم کہ وہ نیند سے اٹھ کر آتے ہیں یا ان کے حواس خمسہ معطل ہیں کہ وہ اس قدر فائرنگ کرتے ہیں ، پوسٹم مارٹم رپورٹ کے مطابق کسی بھی مقتول کو 5 سےکم گولیا نہیں لگیں۔

اسی طرح ابھی تک جے آئی ٹی سمیت کسی نے بھی اس مال مسروقہ کے بارے میں سوال نہیںکیا جو ذیشان کی گاڑی سے برآمد ہوا اور نہ اس اسلحہ کے بارے میں میں بتایا گیا جو اس گاڑی میں تھا دھماکہ خیز مواد، خود کش جیکٹیں وغیرہ۔ جے آئی ٹی نے موقع واردات سے کوئی شہادت جمع نہیں کی تھیں بلکہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خول تک گولیوں کے خلیل کے اہل خانہ نے جمع کر کے دیئے ہیں۔

جے آئی ٹی کے افسران پورے پروٹوکول کے ساتھ گئے اور جا کر لوگوں سے عرض کیا کہ جناب سب لوگ حاضر ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کرائیں جس پر کسی نے بھی حاضر ہونے سے انکار کیا اور لوگوں نے کہا کہ جس نے جو پوچھنا ہے وہ کھلے مقام پر آ جائے اور سب کے سامنے پوچھے۔ اس سے یہ اندازہ تو کیا جا سکتا ہے کہ عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد کس قدر ہے۔

ذیشان کا بھائی احتشام جو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی ڈولفن فورس میں ملازم ہے اس نے کہا کہ جب دو سال پہلے میں فورس میں بھرتی ہوا تھا تو اس موقع پر تمام ایجنسیوں نے میرے اور میرے گھر کے بارے میں تحقیقات کی تھیں اس وقت ان کو کچھ معلوم نہیں ہو سکا تھا یا پھر کسی نے کچھ چھپا لیا تھا۔
اس کے بھائی نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اس کیس میں انصاف ملتا نظر نہیں آ رہا کیونکہ حکومت کے وزرا نے پہلے ہی دن کہہ دیا تھا کہ ذیشان دہشت گرد ہے اور وہ آج بھی اپنے موقف پر قائم ہے۔ اس نےکہا کسی ایجنسی یا جے آئی ٹی کا کوئی ممبر مجھ سے بیان لینےنہیں آیا اور نہ ہی مجھ سے کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ کیا گیا۔

ہمارے نمائندوں نے لاہور اور ملک کے مختلف حصوں میں لوگوں سے اس بارے میں بات چیت کی تو ہر شخص کا کہنا تھا کہ اس کیس میں انصاف نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر ان لوگوں کو سزا دی گئی تو کل حکمرانوں کے بھید بھی کھلیں گے۔

اس کیس میں سوال ہیں کہ ختم ہی نہیں ہو رہے اور جواب کسی کےپاس کچھ نہیںہے۔ پنجاب انتظامیہ کی اہلیت کا اندازہ اس بات سےکیا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے صوبے کے وزیر اعلی ساہیوال پہنچےتو فرمایا کہ مجھے عمران خان صاحب کی طرف سے واٹس اپ پر پیغام ملا تھا تو میں اسی لیے آگیا ہوں۔یعنی اس کو گھر سے نکلنےکےلیے بھی پیغام دیا جائے تو وہ نکلتا ہے۔ اسی سے اندازہ کر لیں کہ ملک میں کوئی حکومت ہے بھی یا نہیں۔

گذشتہ دور میں جب بھی کوئی ایسا حادثہ ہوتا تھا تو موجودہ وزیر اعظم فوری طورپر صوبائی اور وفاقی حکومت کا استعفیٰ طلب کرتے تھے۔

اس بات کو اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ جب بھی ملک میں کوئی غیر معمولی صورتحال پیش آئی وزیر اعظم ملک سے باہر جا رہے تھے یا باہر ہی تھے اور فرمایا کہ میں واپس آ کر نمنٹ لوں گا۔ مولانا سمیع الحق قتل ہوئے تو وزیر اعظم سعودی عرب کے دورے پر تھے، طاہر داوڑ قتل ہوئے تو موصوف چین کے دورے پر تھے، علی رضا عابدی قتل ہوئے تو ترکی اور اب سانحہ ساہیوال ہوا ہے تو عالی وقار عالم قطر کے دورے پر چلے گئے ہیں۔

اگر کسی دوسرے کی حکومت ہوتی تو ان کا موقف ہونا تھا کہ یورپ میں ایسا واقعہ ہوتا تو وہاںکا وزیر اعظم سب دورے کینسل کر دیتا۔ اسی طرح ہمارے گورنر صاحب نے فرمایا تھا کہ ساہیوال جیسے واقعات پوری دنیا میں ہوتے رہتےہیں، مگر انہوںنے کسی ملک کا کوئی واقعہ بیان نہیں کیا۔

اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انصاف ہو ہی نہیں سکتا اور اگر ہو جائے تو ہمیں اپنی خبر غلط ہونے پر افسوس نہیں ہو گا بلکہ جس قدر خوشی ہو گی بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اور انصاف نہ ہونے کا اس قدر یقین اس لیے ہے کہ جس ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سب سے بڑے جج کے سامنے کہیں سے شراب کی بوتلیں برآمد ہوں اور وہ سونگھ کر فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھیجے اور دو دن بعد معجزاتی طور پر وہ بوتلیں شہد میں تبدیل ہو جائیں اور عدالت عظمی اس معجزہ کو پوری عقیدت کے ساتھ تسلیم کر لے تو پھر۔

ہمارے پاس ایسی اور مثالیں بھی موجود ہیں جیسا کہ عثمان بزدار کا 1998 والا قتل کیس جس میں دیت ادا کر کے صلح کی گئی تھی جب ان کو وزیر اعلی نامزد کیا گیا تو شور مچ گیا کہ یہ قتل کے کیس میں ملوث رہے ہیں اور پھر چند ہی دنوں بعد جیو ٹی وی کے پروگرام شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں پولیس کی طرف سے واضح کیا گیا کہ وہ کیس جس عثمان پر تھا وہ یہ نہیں ہے۔

اب سوچیں جن ہاتھوں سے یہ معجزاتی کرشمات ہوئے ہوں کیا کوئی ان ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنا سکے گا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply