آنکھیں کھلتی دیکھ رہا ہوں …….

Spread the love

زرد دوپہر میں جاگتی آنکھوں نے برلبِ سڑک چلتے ہوئے خواب گہرا، تاریک اندھیرا دیکھا ہے۔ اسے مسلسل گہرا اور طویل ہوتا دیکھ رہی ہیں۔ الجھن دور ہی نہیں ہورہی کہ جاگ رہا ہوںیا سو رہا ہوں۔؟ آواز بلند کرتا ہوں تو گلے میں اٹک جاتی ہے، زور لگا کر بولنے کی کوشش کرتا ہوں توبھی میرے سوا کسی کو سنائی نہیں دیتی، کوئی میری طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتا، خاموشی سے چل رہا ہے اپنے آپ میں مگن ہے، وہ سنے بھی تو کیسے؟ میری تو آواز ہی نہیں پہنچ رہی، اگر میری آواز نہیں پہنچ رہی تو اسے خود بھی تو دیکھنا چاہئے کہ وہ کہاں؟ کیسے؟ کس وقت میں، وقت کے ساتھ یا بہت پیچھے چل رہا ہے؟ اسے اندھیرا دکھائی نہیں دیتا یا وہ اس کا عادی ہوچکا اور اس میں چلنا سیکھ چکا ہے؟ کمپرومائز سے، حکمت ،دانائی سے یا پھر اندھا دھند چلتا جارہا ہے۔

مجھے محسوس ہورہا کہ میری آواز بند کرنے کے لئے نئے ضابطے بن رہے ہیں اور میں حیران ہوں کہ آخر مردے پر تیر برسانے کی ضرورت کیا ہے؟ تیرانداز کیوں مغالطے میں ہیں کہ مردہ ابھی یا کسی وقت بھی اٹھ کھڑا ہوگا؟ جبکہ مردہ تو پڑا بھی بند دیواروں میں معاشرے کی ٹوٹی ہوئی مستعار کھاٹ پر ہے جہاں سے اس نے اٹھنے کی کوشش بھی کی تواس کے ہمدرد ہی نہیں اٹھنے نہیں دیں گے کہ ان کی شبانہ روز محنت اور معالجوں کی کوشش سے یہاں تک پہنچا ہوں۔

مجھے پیغام یہ بھی دیا جارہا کہ اس وقت کے نیم مُردوں اور مُردوں کو، ہتھیلی پہ جاں رکھے ہوئے یا خالی ہتھیلی والوں کو قبرستان سے پہلے پھانسی گھاٹ کی سیر کروانے اور اس سے پہلے سرعت سے زیادہ برق رفتار حسبِ ضرورت احکامات تھمانے والے قاضی کی حضوربھی پیش کیا جائے گا، مجھے انصاف کو پورا موقع دیا جائے گا جہاں میری وکالت میرے مقدمے کا مدعی ہی منصف بن کر کرے گا، جو جانتا ہے ہرچھائی کو اور اسے جھوٹ ثابت کرنے کا ملکہ بھی ہے، میرے گواہانِ صفائی ہی وعدہ معاف گواہ بنے میری جانب انگشت پھیلائے کھڑے ہوں گے۔ یہ وہی گواہان ہونگے جن کی وجہ سے میں ناکردہ جرم کا ٹرائل بھگتوں گا اور میری سماعت سے ٹکرانے والی آوازیں ہی مجھے مارچکی ہوں گی۔
مجھے پھر بھی یقین ہے کہ میری آوازحلق سے باہر تک پہنچ جائے گی، خواب ٹوٹ جائے گا، زرد دوپہر رنگ بدلے گی اور اس میں چلنے والے راستہ ڈھونڈ کر چلیں گے اور جو ٹھندی شام ہوگی، اس کی رات خنک ہوگی جسے خود کو گہرا، طویل خواب نہیں آئے گا اور وہ وقت پر اپنی کوکھ سے نئے صبح بیدار کرے گی۔

مجھے اب محسوس ہو رہا ہے کہ میری آواز حلق سے کچھ باہر نکل رہی ہے، میں کچھ لوگوں کو گردن ہلاتے، کان کھڑے کرتے، پلکیں جھپکتے دیکھ رہا ہوں۔ جنہیں معلوم ہے کہ میں ایک فرد، ہوں ایک تنظیم ہوں، ایک معاشرہ ہوں اور معاشرے میں ہیجان، انارکی اور افراتفری، شہنشاہیت، ملوکیت آمریت، ماننا میری جبلت، فطرت اور تربیت میں نہیں، سلاخیں مجھے راستہ دکھاتی ہیں، کال کوٹھری میرا محل ہے اور ہتھکڑیاں میری شان ہیں، جہد میری پہچان ہے۔ یہی خوف ہے میرے لئے نئے ضابطے بنانے والوں کو، نئے قاضی مقرر کرنے کے خواہشمندوں کو ………. مگر خواہش ………. تو ………. خواہش ہی ہوتی ہے، طاقت اور کا بھرپور قوت کا استعمال ظلم توہے، جدوجہد نہیں ……….ظلم تو ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، ظالم سمیت، اپنی منافقت سمیت ………. اور ………. جدوجہد تو جدوجہد ہے، اس سے بڑی طاقت کوئی ہو نہیں سکتی۔ جس کا غالب آنا نوشتہ دیوار ہے۔

جدوجہد کی توانائی سے میری قوت گویائی بحال اور بڑھ رہی ہے، سننے والوں کی تعداد بھی یونہی بڑھے گی اور طاقت کے سارے ضابطے دھرے رہ جائیں گے ………. بس ………. میری آنکھ کھل گئی ہے اور میں اطراف میں آنکھیں کھلتی دیکھ رہا ہوں۔

Leave a Reply