187

15 ستمبر کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1630ء – بوسٹن شہر، میساچوسٹس کی بنیاد رکھی گئی۔

1939ء – دوسری جنگ عظیم کے دوران میں روس کا پولینڈ پر قبضہ۔

1948 – نظام حیدرآباد نے خود مختاری سے دستبردار ہو کر ہتھیار ڈال دیے اور ریاست حیدرآبادنے ڈومنین بھارت میں شرکت کر لی۔

1957ء – ملائیشیا نے اقوام متحدہ کی رکنیت لی۔

1959ء – جاپان اور کوریا میں سمندری طوفان کے باعث دوہزار افراد لقمہ اجل بن گئے۔

1964ء – فاطمہ جناح اپوزیشن کے اصرار پر صدارتی امیدوار بننے پر آمادہ۔

1966ء – جنرل آغا محمد یحیی خان کو پاکستانی فوج کا کمانڈر اِن چیف مقرر کیا گیا۔

1966ء – گورنر مغربی پاکستان نواب آف کالا باغ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

1974ء – بنگلہ دیش، گریناڈا اور گنی بساؤ نے اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کی۔

1978ء – اسرائیل اور مصر نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کیے۔

1988ء – 1988ء گرمائی اولمپکس، جو سرکاری طور پر Games of the XXIV Olympiad، کہلاتی ہیں، کا آغاز سؤل، جنوبی کوریا میں ہوا۔

1991ء – مشترکہ مفادات کونسل سی سی آئی نے انڈس واٹر سسٹم اتھارٹی آئی آر ایس اے بنانے کا فیصلہ کیا۔

1991ء – استونیا، شمالی کوریا، جنوبی کوریا، لٹویا، لتھووینیا، جزائر مارشل اور ریاستہائے وفاقیہ مائکرونیشیا نے اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کی۔

ولادت

1826ء – برنہارڈ ریمان، جرمن اطالوی ریاضی دان

1869ء – کرسچن لؤس لانگے، ناروی ماہر سیاسیات، مؤرخ اور محقق، نوبل امن یافتہ

1915ء – ایم ایف حسین، بھارتی مصور اور ہدایت کار

1931ء – این بینکرافٹ، امریکی اداکارہ

1940ء – یان ایلیاسن، سوئس سیاست دان اور سفیر، چوتھی نائب سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

1944ء – رائن ہولڈ میسنر، اطالوی کوہ پیما اور مہم جو

1950ء – نریندر مودی،2001 میں 14ویں وزیر اعلیٰ گجرات، بھارت کے 15 ویں وزیراعظم یہ بنیادی طورپر ایک چائے کا کھوکھہ چلاتے تھے بھارت میں مسلم کش فسادات کا بانی سمجھا جاتا ہے انہوں نے 2001 گجرات کی وزارت اعلی کے دور میں گجرات میں مسلم کش فسادات کی بنیاد رکھی اور وہاں لاکھوں مسلمانوں کے گھر چلا کر ان کو بے گھر کیا اور ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو سرعام تہہ تیغ کیا۔ ان کے دور حکومت میں ہی بھارت میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہےان کی حکومت کا دعوی ہے کہ وہ بھارت کو مسلم فری کنٹری بنا کر دم لیں گے آج پورے بھارت میں روز سینکڑوں کی تعداد میں مسلمانوں کو گھر میں گھس کر قتل کیا جا رہا ہے اور عورتوں کی عصمت دری عام ہے۔ 5 اگست 2019 کو مودی کی طرف سے کشمیر میں کئے جانے والے غاصبانہ اقدامات میں کشمیر کی خصوصی حیثت ختم کر کے اس پر قبضہ کر کے آج 41 روز سے پورے مقبوضہ کشمیر کو ایک جیل میں تبدیل کر رکھا ہے جہاں ہر قسم کا رابطہ بند کر دیا گیا ہے اور کشمیر سے بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ اس پر پوری دنیا میں 41 روز سے مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے۔

1953ء – الطاف حسین، پاکستان میں فسادات کی سیاست، بھتہ خوری اور قتل و غارت کے بانی جنہوں نے ایم کیو ایم پر ایک طرح سے قبضہ کر کے کہا کہ اس جماعت کی بنیاد رکھی، ان کو پاکستان دشمن سیاست دان کے طور پر دیکھا جاتا ہے جنہوں نے عرصہ تیس سال تک کراچی کا امن برباد کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور 2016 میں پاکستان مردہ باد کے نعرے لگوائے جس کی بنیاد پر ان کو پاکستان میں کسی بھی قسم کی تقریر پر پابندی لگا دی گئی ان کے بہت سے گماشتے جو یہاں بادشاہ بنے پھرتے تھے آج کل کینڈا میں ٹیکسی چلاتے ہیں۔

1960ء – ڈیمن ہل، انگریز ریس کار ڈرائیور

1950ء – ڈاکٹر تحسین فراقی، پاکستان سے تعلق رکھنے والے بقید حیات اردو کے ممتاز نقاد، شاعر اور محقق ہیں۔ پاکستان کے قدیم ترین تعلیمی ادارے اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے پرنسپل بھی رہے۔

وفات

167ء – سباتائی زیوی، ترکی ربی اور مذہبی محقق

1961ء – عدنان میندریس، ترک وکیل اور سیاست دان، 9ویں فہرست وزرائے اعظم ترکی

1974ء – استاد امانت علی خان پٹیالہ گھرانے کے مشہور کلاسیکل گلوکار

اپنا تبصرہ بھیجیں