155

مقبوضہ کشمیر، کرفیو ہٹا کر حالات معمول پر لائو،بھارتی سپریم کورٹ کا مودی سرکار کو حکم

Spread the love

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، مودی سرکار کو مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹا کر حالات نارمل کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے کانگریس رہنما غلام نبی آزاد کو بھی وادی کا دورہ کرنے کی اجازت دے دی، وادی کے اصل حقائق عدالت میں رپورٹ کرنے کی ہدایت بھی کی،

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ضرورت پڑی تو وہ خود بھی مقبوضہ وادی جائیں گے، وادی کے لوگوں کوہائی کورٹ تک رسائی نہ دینے پر تشویش ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی کارکن اناکشی گنگولی کی مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

اناکشی گنگولی نے درخواست میں کہا کہ مودی حکومت نے جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کے بعد سے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور مکمل لاک ڈان ہے، اس کے نتیجے میں کشمیری بچے اور کم عمر لڑکے انتہائی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہیں۔بھارتی چیف جسٹس رانجن گوگوئی نے کہا کہ یہ معاملہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ سے متعلق ہے اور وہی اس پر کوئی فیصلہ کرے گی۔ اس پر اناکشی گنگولی نے جواب دیا کہ پابندیوں کی وجہ سے جموں و کشمیر ہائی کورٹ پہنچنا تو ناممکن ہے۔

بھارتی چیف جسٹس رانجن گوگوئی نے ریمارکس دیے کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ پہنچنا کیوں مشکل ہے، کیا کوئی راستہ روک رہا ہے، ہم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے صورتحال جاننا چاہتے ہیں، ضرورت پڑنے پر میں خود جموں و کشمیر ہائی کورٹ جا وں گا۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ جموں و کشمیر کی صورتحال فی الفور معمول پر لائی جائے، لوگوں کو طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر ہر قدم اٹھایا جائے، جبکہ جموں کشمیر ہائی کورٹ ریاست میں جاری لاک ڈا ون اور پابندیوں کے معاملے پر فیصلہ دے سکتی ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے کانگریس رہنماغلام نبی آزاد کو وادی کا دورہ کرنے کی اجازت دے دی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے غلام نبی آزاد کو ہدایت کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر کے اصل زمینی صورتحال کے بارے میں عدالت کو رپورٹ کریں۔

عدالت نے قرار دیا کہ غلام نبی مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں سے ملاقاتیں کرسکیں گے تاہم انہیں جلسے جلوس کی اجازت نہیں ہو گی چیف جسٹس رنجن گوگوئی کا کہنا تھا کہ وادی کے لوگوں کوہائی کورٹ تک رسائی نہ دینے پر تشویش ہے۔ ضرورت پڑی تو خود جموں اینڈ کشمیر کا دورہ کریں گے۔بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے سے متعلق کیس کی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں