100

اہل سنت کی سیاسی قیادت نے مدارس ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی حمایت کر دی

Spread the love

لاہور(مخدوم طارق سے)اہل سنت کی اہم سیاسی و مذہبی شخصیات نے مدارس ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی حمایت کر دی۔ تنظیم المدارس اہل سنت کی موجودہ قیادت کو برطرف کر کے عبوری انتظامیہ نامزد کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔

14 ستمبر کو فیصل آباد میں مدارس کنونشن طلب کر لیا گیا۔ مدارس کنونشن میں پانچ ہزار مدارس کے ناظمین کی شرکت متوقع ہے۔ تحفظات دور نہ کئے گئے تو جعلی الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔ اس بات کا اعلان سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا، جے یو پی کے نائب صدر اور پنجاب اسمبلی کے سابق رکن پیر سید محفوظ مشہدی، جمعیت علماء پاکستان (نورانی) کے صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر، مفتی گلزار احمد نعیمی، سردار محمد خان لغاری، مفتی مشتاق احمد نوری، مفتی محمد حسیب قادری، مفتی محمد کریم خان، پیر سید واجد گیلانی نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا ہے۔ اہل سنت قائدین نے کہا ہے کہ مفتی منیب الرحمن قوم کو بتائیں کہ دس سالوں سے تنظیم المدارس کی مرکزی شوری کا اجلاس کیوں نہیں بلایا گیا۔

طالبات کے مدارس کی خواتین ناظمین کو ووٹ کا حق کیوں نہیں دیا جاتا۔ عاملہ کے فیصلوں کی شوری سے منظوری کیوں نہیں لی گئی۔ حکومت سے مزاکرات پر شوری کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ مرکزی کابینہ کے صرف تین عہدوں کے علاوہ باقی عہدوں پر الیکشن کیوں نہیں کروایا جاتا۔ مفتی منیب الرحمن پچھلے دو انتخابات کے موقع پر آئندہ صدارتی امیدوار نہ بننے کے وعدے کی پاسداری کیوں نہیں کر رہے۔

تنظیم المدارس کے پچیس کروڑ روپے بینک میں فکس کروا کر انٹرسٹ کے نام پر سود کیوں لیا جا رہا ہے۔ مرکزی شوری کی مکمل فہرست پتہ جات اور فون نمبرز کے ساتھ کیوں شائع نہیں کی جا رہی۔ مدارس کے خلاف ہونے والی ملکی و غیر ملکی سازشوں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی جاتی۔ تنظیم المدارس کے عہدیداران کے لئے سیاسی جماعت یا سرکاری ادارے سے وابستگی کو ممنوع قرار دینے کا غیر آئینی قدم کیوں اٹھایا گیا ہے۔

پسماندہ علاقوں کے کمزور مدارس کی تعمیر و ترقی کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔ جانبدار اور متنازعہ شخصیات پر مشتمل انتخابی کمیٹی کیسے شفاف الیکشن کروا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں