کرونا وائرس بچاو جائزہ 126

وفاقی دارالحکومت، گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر میں کینسر کے مریضوں کے مفت علاج کے لیے سمجھوتہ طے پا گیا ہے

Spread the love

اسلام آباد (مہتاب پیرزادہ سے )وزارت قومی صحت اور ادویات سازادارہ نووٹس کے درمیان شراکت داری کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔ نجی وسرکاری شعبہ کی شراکت داری کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخطوں کا مقصد اسلام آباد وفاقی علاقہ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کے کینسر کے مریضوں کا مفت علاج کروانا ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا فلاحی مملکت کے قیام کی جانب یہ ایک اہم قدم ہے جس کی بات وزیر اعظم پاکستان کرتے ہیں غریب عوام جو کینسر جیسی بیماری کے علاج معالجے اور ادویات خریدنے کی سکت نہیں رکھتے اس طرح کے پروجیکٹس ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں جس طرح کی فلاحی مملکت بنانے کا وزیر اعظم نے وعدہ کیا ہے۔ وزیر اعظم کےویژن کے مطابق فلاحی مملکت میں ایسے ہی اقدام اٹھائے جاتے ہیں جن سے لوگوں کو فائدہ ہو سکے۔

وزیر اعظم عمران خان پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے حامی ہیں، 4.7 ارب روپے کی ادویات یہ کمپنی پاکستان کو فراہم کر رہی ہے۔ اس پراجیکٹ پر آنے والی لاگت کا 10فیصد وزارت قومی صحت ادا کرے گی۔صوبائی حکومتوں کی طرف سے پراجیکٹ پہلے ہی شروع کیاجاچکا ہے۔ وفاقی حکومت اور نوورٹس کے درمیان (نجی وسرکاری شعبہ میں شراکت داری)ہوئی ہے جس کے تحت خون کے سرطان، معدہ ، گردہ، چھاتی اور لبلبہ کے سرطان میں مبتلا مریضوں کامفت علاج کیا جائے گا۔

اس ضمن میں آئی سی ٹی، اے جے کے اور گلگت بلتستان کے شناختی کارڈز رکھنے والے اندراج شدہ مریضوں کو اس پراجیکٹ کے تحت مفت علاج کی سہولت دی جائے گی۔ اس پراجیکٹ کے علاج کرنے والے مراکز پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمزاسلام آباداور عباس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز مظفر آباد اے جے کے میں قائم کیے جائیں گے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کینسر (سرطان)کا مہنگا علاج مریضوں کے لیے مفت فراہم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں نجی وسرکاری شعبہ کے تمام اقدامات اور شروعات کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے نوورٹس کے تعاون کو سراہا۔ نوورٹس نے مذکورہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے کینسر کے مریضوں کو مفت علاج کی فراہمی کے لیے وزارت کے ساتھ تعاون کرنے کی پیش کش ہے۔ پلاننگ کمیشن نے اس ضمن میں 2019ء سے لیکر 2024ء تک کے پی سی ون کی منظوری دے دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں