پی ٹی آئی کے سابق سکھ رکن اسمبلی بلدیوکمار اپنی فریاد لے کر مودی کے پاس پہنچ گئے

Spread the love

لاہور، دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) پی ٹی آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی بلدیو کمار کو 2016 میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر سردار سورن سنگھ کے قتل کے نامزد ملزم تھے ان کو گرفتار کرکے مقدمہ چلایا گیا تاہم گذشتہ سال عدالت نے انہیں ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر بری کردیا تھا۔ بلدیو کمار سردار سورن سنگھ کے قتل کے بعد اقلیتی نشست پر تحریک انصاف کی جانب خیبرپختونخوا کے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ اسی بلدیو کمار نے کہا ہے کہ اس نے پہلے اپنے اہل خانہ کو بھارت منتقل کیا چونکہ وہ بھارت میں خود کو زیادہ محفوظ تصور کرتے ہیں اس لیے وہاں درخواست دی ہے۔


بلدیو کمار کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کی بیوی کا تعلق چونکہ بھارت سے تھا اس لیے وہ بھارت میں ہی رہنا کی خواہشمند تھی اسی لیے بلدیو نے پہلے بیوی کو بھیجا اور اب سستی شہرت کے لیے بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے۔

خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات نے مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت یا دنیا میں کہیں بھی رہنا بلدیو کمار کا ذاتی فعل ہے۔ انہوں نے کہا ان کے اس فیصلے کا پارٹی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلدیو کمار قتل کے مقدمے میں ملوث ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کا کسی مجرم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے

Leave a Reply