تنظیم المدارس اہل سنت :اصل مسئلہ کیا ہے؟(قسط اوّل)

Spread the love
صاحب مضمون: مفتی نعیم جاوید نوری

ہم نے مفتی منیب الرحمن سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ان کا موقف بھی معلوم کیا جا سکے مگر معلوم ہوا ہے کہ وہ کچھ امور کی بجا آوری کے لیے برطانیہ کے دورہ پر ہیں لہٰذا ان کے پاکستان واپس آتے ہی ان کا موقف بھی انہی سطور میں شائع کیا جائے۔ اگر قارئین کرام میں سے کوئی اختلاف کرنا چاہے یا اس کے برعکس حقائق ہوں تو اس کے لیے بھی ادارہ حاضر ہے مگر یہ خیال رہے کہ آپ کا مضمون اختلاف برائے اختلاف نہ ہو ٹھوس اور مدلل شواہد کے لیے ہماری خدمات حاضر ہیں(مدیر صرف اردو ڈاٹ کام)


تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان، اہل سنت سے وابستہ ملک کی اکثریتی آبادی اہل سنت کا مشترکہ اور متفقہ علمی پلیٹ فارم ہے۔ یہ ہمارے بزرگوں حضور غزالی زماں علامہ احمد سعید کاظمی، حضور قبلہ مفتی اعظم، مفتی عبدالقیوم ہزاروی، شہید ملت اسلامیہ ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے عظیم بزرگوں کی امانت ہے جسے انہوں نے شدید ناموافق حالات میں بھی خونِ دل دے کے نکھارا اور پروان چڑھایا ہے۔ یہ ادارہ ہمیں بے انتہاعزیز ہے۔ یہ ہماری آن، ہماری شان اورہماراوقار ہے۔ ہم کسی کے اشارے پر اپنے بزرگوں کی اس نشانی اور وراثت کو نقصان پہنچانے کی سازش میں شمولیت کواپنی ماں بیچنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ یہ پروپیگنڈا ان عناصر کی طرف سے کیا جارہا ہے جو اپنی پروجیکشن ،ملک و بیرون ِ ملک اپنے مفادات اور مناصب کےحصول کےلیے، تنظیم کو بطور سیڑھی استعمال کررہےہیں۔ جوہر جائز اور ناجائز طریقہ سے اس پرقابض و مسلط رہنا چاہتے ہیں، جنہوں نے تنظیم کو اپنی ذاتی جاگیر بنا لیا ہے جو خود تو تنظیم کے نام پر یورپ، امریکا اور عرب ملکوں کے دورے کرتے ہیں مگر انہیں کبھی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ دینی مدارس کے غریب بچے بچیوں کےلیے بھی کسی عالمی یونیورسٹی میں داخلوں کا راستہ ہموار کرسکیں۔

(یاد رہے کہ جس وقت یہ تحریر شائع کی جا رہی ہے ہمارے محترم و ممدوح مفتی منیب الرحمن برطانیہ کا دورہ فرما رہے ہیں) جو خودتو جدیدعلوم حاصل کرکے عہدوں پر فائز ہیں مگر اپنے مدارس میں عصری علوم کی تدریس کےلیے کی جانے والی ہر کوشش کا راستہ روکنے کے ہراول دستے میں شامل ہیں۔ ہم دوٹوک الفاظ میں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا ہدف تنظیم المدارس کی ترقی، اصلاح، مدارس کی مشکلات میں کمی لانا، امتحانی نظام کو بہتر بناناور اس کے طلباوطالبات کےلیے بہترتعلیمی مواقع پیدا کرنا ہے تاکہ وہ دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق امت کی رہنمائی کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرسکیں۔ ہمارامفتی اعظم پاکستان، حضرت مفتی منیب الرحمان (صدرتنظیم المدارس )کے ساتھ کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے۔ ہم ان کے علم وفضل، ان کی دینی و خدمات کے معترف ہیں، وہ اہل پاکستان خصوصاً اہل سنت کا سرمایہ ہیں۔ ہمیں تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کےلیے ان کی خدمات سے بھی انکار نہیں ہے۔ ہمارا ان سے اختلاف خالصتاً تنظیمی معاملات پر ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ:

تنظیم کے مدارس کو متحرک اورفعال شخصیت کی ضرورت ہے جو تنظیم المدارس کو وقت دے سکے۔ ملک کے طول وعرض میں مدارس کے دورے کرے۔ مفتی منیب الرحمان کی عمر،ان کی صحت انہیں متحرک کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ مفتی منیب الرحمان صاحب، عبد المصطفیٰ ہزاروی جیسے نااہل بندے کی مسلسل اوراندھا دھند حمایت کر رہے ہیں جو ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید کی شہادت پر حادثاتی طور پر ناظم اعلیٰ بن گئے تھے جن کی علمی حیثیت کو کوئی طالب علم بھی چیلنج کر سکتا ہے، جن کے پاس کو ئی ویژن ہے نہ علمی لیاقت، نہ کسی کالج یا یونیورسٹی کا منہ دیکھا ہے، درسیات پڑھا سکتے ہیں نہ ہی چار لوگوں کی موجودگی میں ڈھنگ سے تنظیم المدارس کا نکتہ نظر پیش کرسکتے ہیں۔

آپ دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیے کیا ہزاروں تعلیمی اداروں کی تقدیر کا فیصلہ ایسے نااہل شخص کے سپرد کردینا ظلم نہیں؟ ان صاحب کی اصل خوبی یہ ہے کہ وہ مفتی منیب صاحب کے آبائی علاقے ہزارہ سے تعلق رکھتے ہیں یعنی ’’ہزارے وال‘‘ ہیں مزید یہ کہ مفتی صاحب کے’’اچھے فرمانبردار‘‘اور ان کے’’ احکام‘‘ پر آنکھیں بند کر کے عمل کرتے ہیں۔

ہماری عرض صرف یہ ہے کہ آپ بے شک کسی’’ہزارے وال‘‘ کو ہی لے آئیں لیکن بندہ تو اہل ہو۔’’ ہزارے وال حضرات‘‘ کے مدارس کے وابستگان میں بڑے بڑے قابل لوگ موجود ہیں مگر آپ کسی باصلاحیت شخص کو آگے لانے کے حق میں نہیں کیونکہ آپ کو صاحبِ جی حضور (یس مین) چاہئے۔ مفتی صاحب کا تحکمانہ اور متکبرانہ رویہ تنظیم کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ کوئی بھی ذی شعور آدمی کسی فورم پراپنی عزت بچانے کی خاطر ان سے بات کرنے کی جسارت نہیں کرتا۔ تنظیم کی قیادت کےلیے بڑے متحمل مزاج اور مشاورت پر یقین رکھنے والی شخصیت کی ضرورت ہے۔

جعلی ووٹر لسٹیں، دھاندلی کا آغازملکی الیکشن ہوں یا تنظیمی، ان میں دھاندلی کا آغاز ووٹر لسٹوں سے ہوتا ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے تنظیم کی مجلس شوریٰ میں ووٹر لسٹوں پر شور شرابا ہوتا رہاہے۔ یہ مسئلہ آج بھی جوں کا توں ہے۔ آج بھی ووٹ کے اہل مدارس کی لسٹیں نامکمل ہیں، خیر سے ان میں ایسے ووٹر حضرات کا تذکرہ بھی موجود ہے جن کے نہ تو کوئی رابطہ نمبر ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ایڈریس ہے جس سے ان کے سکونت اصلیہ کی وضاحت ہو سکے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس میں کہیں واضح نہیں کیا گیا کہ کون سے مدرسہ کا درجہ کون سا ہے۔یادرہے کہ مرکزی الیکشن میں صرف وسطانی اور فوقانی مدارس کے ناظمین ووٹ کے اہل ہیں۔ نچلے درجوں کے مدارس صرف صوبائی الیکشن میں ووٹ کےاہل ہیں مگرموجودہ لسٹوں سے درجہ بندی کاپتہ ہی نہیں چل سکتا۔

اگر صرف ایک ماہ کے کنٹریکٹ پر صرف ایک کمپوزر کی خدمات حاصل کر لی جائیں، تو وہ الحاق نمبر مکمل پتہ، ناظم کے نام، فون اور درجہ بندی کے ساتھ لسٹیں باآسانی تیار کرکے دے سکتا تھا اور تنظیم کے پاس اس کے لیے پیسے موجود ہیں۔ لیکن جب دلوں میں چور ہو تو لسٹیں کیسے شفاف بن سکتی ہیں؟ افسوسناک بات یہ کہ امیدواران کو تحریری درخواستوں کے باوجود ووٹرلسٹیں فراہم نہیں کی جا رہیں۔ صدرِ محترم !کیا ایسے ہوتے ہیں منصفانہ انتخابات؟ آپ تو ساری دنیا اور حکومت ِپاکستان کو اعلیٰ جمہوری، اخلاقی روایات اور اصولوں کا درس دیتے ہیں۔ کیا یہ ہے آپ کی اصول پسندی؟

قبلہ !آپ اپنے کالموں اورتقریروں میں موجودہ وزیر اعظم کے یو ٹرن (U Turn) لینےکوبجا طور پر ہدفِ تنقید بناتے رہتے ہیں مگر آپ خود بھی تو انہی خطوط پر چلے جا رہے ہیں۔

کیا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نےسینکڑوں ارکانِ شوریٰ کے سامنے ،جامعہ آمنہ ہمک اسلام آبادمیں، آئند ہ الیکشن میں امیدوار نہ بننے کا اعلان فرمایا تھا۔ کیاآپ، اپنے اعلان کی لاج رکھیں گے؟ اگر نہیں تو پھر بتایئے ایک سیکولر سیاسی پارٹی اور ایک مفتی اعظم پاکستان کے رویئے میں کیا فرق ہے؟ اور کس کا یو ٹرن زیادہ ناپسندیدہ اور برا ہے؟

مرکزی دفتر مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے تنظیم سے ملحقہ مدارس ہوں یا طلبا وطالبات ان سب کو جو مشکلات درپیش ہیں ان میں سب سے بڑا اور سب سے اہم ترین مسئلہ ، مرکزی دفتر اور شعبہ امتحانات کے عملے کی نااہلی کے ساتھ ساتھ ان کی بداخلاقی بھی ہے۔ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے کس کس طرح لوگوں کی تذلیل ہوتی ہے۔ اسناد کا اجرا، مدارس کےالحاق اور فیسوں سے متعلقہ معاملات یا معادلہ سرٹیفکیٹ کےلیے کاغذات کی تیاری، اسناد کی تصدیق، رزلٹ کارڈز کا اجرا، رول نمبر سلپیں حاصل کرنا، ان تمام چیزوں کے حصول کے لیے ’’جوئے شیر لانا‘‘ کا محاورہ از خودشرمندہ ہے اور خود کو ہیچ بتانے لگا ہے۔ اگر سائلین کا وہاں اثر ورسوخ اور تعلق نہیں تو ان کو کوئی منہ نہیں لگاتا، منٹوں کا کام دنوں اور گھنٹوں کا ہفتوں اور مہینوں پر پر چلا جاتا ہے۔ اور ان سب سے بڑھ کے گنوار، اجڈ، بداخلاق اوربد زبان عملہ جو بات بات پر الجھتا ہے، جھگڑتا ہے۔ فون پر گالم گلوچ سن کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ تنظیم المدارس کا دفتر نہیں کوئی گھٹیاسا بازار ہے، وہاں جا کے لگتا ہے کہ ہم ایک دینی ادارے نہیں بلکہ واپڈا آفس یا پولیس تھانے آگئے ہیں۔

کیا ان کے روئیے درست کرنے اور ماحول کو دوستانہ بنانے کےلئے بہت بڑے اخراجات کی ضرورت ہے؟ نظام کو ڈی سنٹرلائز کیوں نہیں کیا جاتا؟ آن لائن سہولیات میں اضافہ کرنے کے لیے وہ کون سے اخراجات ہیں جن کو تنظیم برداشت کرنے کی اہل نہ ہو؟ اگر سٹاف پر کام کا دباؤ زیادہ ہے تو سٹاف میں اضافہ کیوں نہیں کرلیا جاتا؟ تنخواہیں کم ہیں تو بہتر کرنے میں کون رکاوٹ ہے؟ ان کے رویوں کی اصلاح اور پبلک ڈیلنگ کو بہتر بنانے کے لیے تربیت پر کیا خرچ آئےگا؟۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے اپنےمدرسے والے، اپنے اپنے تعلقات والے، اپنے اپنے رشتہ داراور وفادار بھرتی کر رکھے ہیں انہیں پتہ ہے کہ ان کی لابی، ان کا ’’کِلّہ‘‘ مضبوط ہے جو مرضی کرو ہمیں کون پوچھ سکتا ہے؟ اگر تنظیم کی قیادت بینک میں فکس کرائی ہوئی رقم کا کچھ حصہ اس نظام کو بہتر پرخرچ کرتی تو ناظمینِ مدارس اور طلبا وطالبات یوں ذلیل نہ ہوتے پھرتے۔

صدر ِتنظیم اپنے کالموں میں اپنے نظام کے حق میں قصیدے لکھنے کی بجائے ناظمین اور طلبا وطالبات کی پہنچ میں ہوتے تو یقیناً وہ کچھ اور لکھتے۔ بچیوں کےلئے الگ کاؤنٹرتنظیم کے امتحانات میں شریک امیدواران میں اکثریت طالبا ت کی ہے اس کی وجہ سے خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد کو مرکزی دفتر اور شعبہ امتحانات کے چکر لگانا پڑتے ہیں، مگر ان کی مدد کےلیے کوئی الگ لاؤنج،یا خواتین کا سٹاف نہیں ہے۔ انہیں وہیں باقی مردوں کے ساتھ، مردانہ سٹاف سے ہی معاملات طے کرنا پڑتے ہیں، ان میں سے اکثریت نوجوان لڑکوں کی ہے جن کے لباس کی تراش خراش وہی ہے جس سے سرکارِ دو عالم نے روکا ہے یعنی چست پاجامے وغیرہ۔ یہاں ہماری دینی غیرت اور حمیت کیوں نہیں جاگتی کہ ہم تنظیم کے جمع ہونے والی رقوم جو کہ انہی مقاصد کے لیے ہیں سے کچھ حصہ اپنی باپردہ بچیوں کو سہولیات کی فراہمی پہ خرچ کیوں نہیں کرتے؟

ارکان شوریٰ کومجلس عاملہ کے اجلاس کی رپورٹیں بھیجنا بند کرناسالہا سال سے تنظیم المدارس کی مجلس عاملہ کے اجلاسوں کی مطبوعہ تفصیلی کارروائی رپورٹس مجلس شوریٰ کے رکن مدارس کو بھجوائی جاتی تھیں۔ جن سے ایک طرف رکن مدارس کو تنظیم کی سرگرمیوں، فیصلوں کی اطلاع ملتی رہتی تھیں، زیر بحث معاملات پر ارکان عاملہ کے نکتۂ ہائے نظر جان کر فکری رہنمائی بھی ملتی رہتی تھیں۔ تنظیم سے تعلق کا احساس بھی ہوتا مگر پھربچت کے نام پر بیک جنبش زبان، یہ سلسلہ منقطع کردیا گیا۔ اس کی وجہ سے ارکان سرگرمیوں کے حوالے سے بالکل اندھیرے میں رہتے ہیں اور غالباً مقصد بھی یہی ہے کہ نہ کسی کو پتہ چلے اور نہ کوئی ان کے فیصلوں پر انگلی اٹھا سکے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ الیکشن کے امیدوار اور ارکان شوری تحریری درخواستیں دے رہے ہیں مگر انہیں عاملہ کے اجلاسوں کی کارروائی کی کاپی فراہم نہیں کی جا رہی۔ جو ان کاآئینی اور قانونی حق ہے۔

تنظیم المدارس کے ہونہارطلبا وطالبات ہمارااصل سرمایہ اور اثاثہ ہیں۔ ان میں سے بھی وہ بچے بچیاں جو مختلف بورڈز اور یونیورسٹیز کے امتحانات میں اعلیٰ پوزیشنیں لیتے ہیں۔ تنظیم کی قیادت کے پاس ان باصلاحیت بچے اور بچیوں کی حوصلہ افزائی کا نہ تو کوئی پروگرام ہے نہ ہی ان کےلیے وقت۔ آج تک کبھی کسی فورم پر ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔ ساری قوم دینی مدارس کے طلبا کو قومی دھارے میں لانے اور ان کےلئے مواقع پیدا کرنے کی خواہاں ہے مگر تنظیم کی قیادت کا رویہ ملاحظہ فرمائیں کہ اس سال تنظیم المدارس کے طالبات کے سالانہ امتحانات اور بی۔اے پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات ایک ہی وقت ہو رہے تھے۔ بعض پرچے اس طرح سے مرتب ہوئے تھے کہ یونیورسٹی اور تنظیم کے پرچے کا وقت ایک ہی تھا، تنظیم کی لیڈرشپ سے رابطہ کیا گیا کہ متبادل اوقات میں ایسی بچیوں کے پیپر کا کوئی حل نکالا جائے تاکہ ان کا تعلیمی ہرج نہ ہومگر الیکشن کمیشن کےموجودہ چیئرمین مفتی الیاس رضوی (رکن امتحانی بورڈ) نے دوٹوک الفاظ میں کہا یہ مدرسے سکول پڑھنے والوں کےلیے نہیں ہیں جس نےسکول پڑھنا ہے وہ مدرسہ چھوڑ کے سکول چلا جائے۔

ذرا آپ ذرا سوچیں کہ ایک بچی کا دو پیپروں میں کلیش آجائے اور ایک میں فیل ہوجائے تو اس کا سال برباد ہو گیا۔ قربان جائیں دین داروں کی سوچ پر، ذرا دوسرا رخ بھی، کہ پنجاب یونیورسٹی شعبہ امتحانات کے ذمہ داران کی دینی اداروں کی غریب طالبات سے خیر خواہی کہ انہوں نےان بچیوںکامستقبل تاریک ہونے سے بچانے کے لیے انفرادی حیثیت میں رابطہ کرنے والی طالبات کی ایڈجسٹمنٹ کےلیے ہرممکن تعاون کیا۔ حال ہی میں آرمی چیف نے وفاق المدارس سے تعلق رکھنے والے، بورڈز یونیورسٹیزپوزیشن ہولڈر طلبا و طالبات کو انعامات سے نوازا، اس پر ہاہا کار مچ گئی ہے کہ ہمارے طلبا وطالبات کو کیوں نہیں بلایا گیا۔ اس تقریب کے بعد، ردعمل کے طور پر، مدارس سے پوزیشن ہولڈرز کے نام مانگے جانے لگے۔ جناب عالی! ہمیں آرمی چیف یا کسی اور کے نظر انداز کرنے کا شکوہ تو تب ہو اگر ہم نے خود آج تک کبھی اپنے ان بچوں کی حوصلہ افزائی کی ہو، دوسری بات ہمیں ایسے خیال دوسروں کے ردعمل کے طور پر ہی کیوں آتے ہیں، کیاہم ذہنی طور پر بانجھ ہیں؟ جس تنظیم کا ناظم اعلیٰ پتہ نہیں ایف۔ اےپاس بھی ہے کہ نہیں اس سے، اس دور اندیشی اور ویژن کی توقع رکھنا آپ کے نزدیک کیسا ہے مطلع لازمی کریں۔

Leave a Reply