پریم چند کے افسانوں میں حقیقت نگاری(ایک مختصر تعارف)

Spread the love
سمیہ بشیر،ریسرچ اسکالر

مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی، حیدرآباد


آمنو کولگام، جموں کشمیر

سمیہ بشیر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد آمنو کولگام، جموں کشمیر سے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور صاحب کتاب ہونے کے ساتھ ساتھ منفرد اسلوب کی مصنفہ بھی ہیں پاک و ہند میں ان کی کاوشوں و قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ منشی پریم چند پر ان کا تحقیقی مضمون اردو ادب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے ایک بہترین کاوش ہے

پریم چند اردو کے مشہور ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اصلی نام دھنپت رائے واستو ہے، لیکن ادبی دنیا میں پریم چند کے نام سے مشہور ہیں وہ 31 جولائی 1880 میں پیدا ہوئے اور 8 اکتوبر 1936 میں 56 برس کی عمر میں بنارس ہی میں انتقال کر گئے۔
منشی پریم چند

افسانہ،حقیقت کی ایک فنی اور شاعرانہ شکل ہے۔زندگی کا کوئی واقعہ بغیر فن کی آمیزش اور تخیل کے عمل کے افسانہ نہیں بنتا۔افسانہ نگار زندگی کے کسی سچے واقعے میں کبھی مکالمہ،کبھی کوئی منظر یاکبھی کوئی خود ساختہ کردار اپنی طرف سے شامل کرکے اسے شاعرانہ حقیقت میں بدل دیتاہے اور اس طرح کائنات میں ہر طرف بکھری ہوئی ایک سچی زندگی سے ایک دوسری زندگی کی تعمیر ہوتی ہے۔

پریم چند کے افسانوں میں بھی ہمیں اسی سچی زندگی کی تعمیر نظر آتی ہے۔ان کے افسانوں کی فضا ہمیں بہت مانوس نظر آتی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے افسانوں کا پلاٹ ہمارے معاشرے کے گوناگوں پہلووں سے اخذ کیا ہے۔ ان افسانوں میں دیہاتی زندگی ہنستی بولتی اور سسکتی بلبلاتی نظر آتی ہے۔ گاؤں کے تو ہم پرست ،جاہل مرد، عورت، مغرور، چودھری، کنجوس،بنیٔے، رشوت خور، نمبردار وغیرہ اپنی ذہنی و نفسیاتی کیفیات و خصو صیات کے ساتھ ان افسانوں میں اپنی جھلک دکھاتے ہیں۔ مقدمہ بازی، مارپیٹ، عصمت فروشی، جہیز کی لعنت، بیوہ عورتوں پر توڑے جانے والے مظالم جیسے کتنے ہی سنگین مسائل حقیقت کے ساتھ ان افسانوں میں اُجاگر ہوئے ہیں۔

پریم چندنے اپنے افسانوں میں بہت سے کردار پیش کئے جو حقیقت سے بہت قریب نظر آتے ہیں یہ کردار تخیل کی دنیا کے نہ ہو کر حقیقی زندگی کے جیتے جاگتے کرداریا تصویریں ہیں۔ یہ کردار مصنف کے ہاتھ کی کٹھ پتلی نہیں بلکہ کہانی میں پیش آنے والے واقعات کے مطابق ارتقا کے مراحل سے گزرتے ہیں۔ یہ کردار جس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں پریم چند کی زندگی کا بڑا حصہ اسی کے درمیان گزرا تھا اور انہوں نے اس طبقے کے افراد کی نفسیات کا گہرا مشاہدہ کیا تھا لہٰذا انہوں نے ان کرداروں کی جو تصویر پیش کی ہے وہ سچی اور حقیقت سے قریب تر ہے۔ امیر، غریب۔ مہاجن، وکیل، کسان، پٹواری اور زمیندار کی جو تصویریں پریم چند نے پیش کی ہیں وہ پریم چند کے گہرے مشاہدے اور حقیقت پسندی کی وجہ سے زندگی کی حرارت سے معمور نظر آتی ہے۔

پریم چند کی حقیقت نگاری کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے عورتوں، خاص طور پر بیوہ عورتوں کی دوسری شادی کرنے پر نہ زور دیا بلکہ خود بھی دوسری شادی کرکے ایک مثال پیش کی۔ اس بات کی مثال ہمیں افسانہــ’’بدنصیب ماں‘‘ میں ملتی ہے۔ اس افسانے میں پریم چند نے عورت کی بے کسی، بے بسی، مجبوری اور لا چاری کو موضوع بنا کر اس حقیقت کو پیش کیا ہےکہ کس طرح سے شوہر کے مرنے کے بعد چاروں بیٹوں کا سلوک اپنی ماں کی جانب پھر جاتا ہے اور وہ ہر چیز پر قابض ہو جاتے ہیں۔ پریم چند نے روایت سے بغاوت کی اور نہایت ہی جرأت سے کام لیا۔ پریم چند کے ایک ہم عصر علامہ راشد الخیر کی تخلیقات بھی بڑی آگہی اور سماجی شعور کے ساتھ منظر عام پر آئی ہیں۔ انھوں نے بھی اُن ہی موضوعات کا انتخاب کیا جن کا پریم چند نے کیا تھا۔ انھوں نے اپنے ناولوں اور افسانوں کے ذریعے عورتوں کی اصلاح و ترقی کی کوشش کی۔ عورتوں کی زبوںحالی اور اُن کے دُکھ درد کو اپنے قلم سے پیش کیا۔ مسلم گھرانوں میں غلط رسم و رواج، رسومات پر تنقید کی۔ جب کہ پریم چند نے ملک کے مذاہب وہ ہندوں ہو یا مسلم دونوں کو اپنے کرداروں میں ڈھال کرتنقید کی ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے منشی پریم چند نے اپنا یہ فرض سمجھا کہ غریب محنت کش انسانوں کے دُکھ درد کو پیش کریں۔ پریم چند نے اس حوالے سے بہت سے افسانے لکھے وہ کسان کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ یہی کسان جو شہری زندگی کے لئے عیش و آرام کی دنیا فراہم کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس وہی شہری ان کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ پریم چند نے ’’بے غرض محسن‘‘ کے عنوان سے ایک افسانہ لکھا،جس میں اس کرب کو محسوس کیا جاسکتا ہے یہ اقتباس ملاخط ہو:

’’تھوڑی دیر میں ایک بوڑھا آدمی لاٹھی ٹیکتا ہوا آیا اور ڈنڈون کرکے زمین پر بیٹھ گیانذر نہ نیاز۔
اس کی یہ گستاخی دیکھ کر
ہیرامن کو بخار چڑھ آیا۔ کڑک کر بولے:
ابھی کسی زمیندار سے پالا نہیں پڑا ہے ایک ایک کی ہیکڑی پھلادوں گا۔۔۔۔
تخت سنگھ نے ہیرامن کی طرف غور سے دیکھ کر جواب دیا۔
میرے سامنے بیس زمیندار آئے اور چلے گئے مگر ابھی تک کسی نے اس طرح سے دھمکی نہیں دی۔
یہ کہہ کر اس نے لاٹھی اُٹھائی اور اپنے گھر چلا آیا‘‘۔

(بے غرض محسن)

ایک اسامی اور زمیندار کے درمیان میں جو حد فاصل ہے وہ کتنا حقیقت پسندانہ ہے اگر ہیرامن کو زمیندارہونے کانشہ ہے تو تخت سنگھ کو اپنے عزت نفس کا پورا خیال ہے یہاں پریم چند نے حقیقت نگاری کو بڑے فنکارانہ انداز میں پیش کیا۔

پریم چند نے اپنے افسانوں کو حقیقت سے قریب کیا، انہوں نے عوامی زندگی کی ترجمانی، محنت کش طبقہ کے احساسات، جذبات اور ان کے مسائل کو پیش کیا۔ انھوں نے معاشرہ کی اصلاح کے لئے اپنی تمام ممکنہ فنی صلاحیتوں کا استعمال کیا ہے۔ پریم چند کی حقیقت نگاری کی بہترین مثال ان کا افسانہ ــ’’ کفن‘‘ ہے۔ ان کا یہ افسانہ ایک نئے طرز کی بے باک اور بے رحم حقیقت کا نمونہ ہے۔ اس میں پریم چند نے سماج کی بگڑتی ہوئی حالت، بے کسی کا عالم، غریبی اور مفلسی کی حالت اور انسانی زندگی کی بے قدری، غلامی اور مجبوری کے دور ہندوستان کے عوام کی بھر پور ترجمانی کی ہے اور وہ یہ دکھانا چا ہتے ہیں کہ استحصال اور ظلم و جبر کی قوتیں کس طرح انسان کو بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

پریم چندکی حقیقت نگاری کے بارے میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے زندگی کو جیسا پایا کم و کاست ویسا ہی بیان کردیا۔ مثلاً وہ ہندوستانی دیہات کو جنت کا ٹکڑا بنا کر پیش کر سکتے تھے مگر پریم چند نے انھیں ویساہی دکھایا جیسے وہ اصلیت میں تھے۔ ان کی حقیقت نگاری ان کے تجربات اور مشاہدات کا نتیجہ ہے۔ اسی خصوصیت سے انھیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کر دیا افسانہ نگاری کے فن میں پریم چند نے جو شہرت حاصل کی وہ لوگوں کے حصے میں کم ہی آتی ہے۔ ان کے افسانے قومی، سیاسی اور سماجی رجھانات کے آئینہ دار ہیں۔
پریم چند ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ:

ـ’’ افسانہ حقائق کی فطری مصوری کو ہی اپنا مقصد سمجھتا ہے۔ اس میں تخیلی باتیں کم اور تجربات زیادہ ہوتے ہیں ۔‘‘

اور ایک خط میں بھی لکھا ہے

’’ میری قصّے اکثر کسی نہ کسی مشاہدے یا تجربے پر مبنی ہوتے ہیں۔‘‘

Please follow and like us:

Leave a Reply