36 ویں کرفیوجاری، ناقد کشمیریوں کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کا منصوبہ

Spread the love

سرینگرایتھنز ،برلن(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں )مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کرفیو اور لاک ڈاؤن کو مسلسل 36 روز ہو گئے ہیں جبکہ قابض انتظامیہ نے وادی میں محرم الحرام کے جلوسوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔وادی میں مسلسل 36 ویں روز بھی انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی رابطے منقطع ہیں، حریت قیادت اور سیاسی رہنما بدستور گھروں اور جیلوں میں بند ہیں۔

سرینگر کے علاقے حسن آباد میں بھارتی فورسز نے محرم الحرام کے جلوس پر آنسو گیس اور پیلٹ گنز سے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں کشمیری صحافی سمیت متعدد عزادار زخمی ہو گئے۔ادھرسوشل میڈیا پر بھارتی سرکار کیخلاف تنقید کرنے والوں کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا لیا گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق جموں کے ایس ایس پی یوگل منہاس کا کہنا ہے کہ پانچ افراد کی پاسپورٹ منسوخی کے عمل کا جلد آغاز ہو گا۔ کویت اور متحدہ عرب امارات میں رہنے والے دو کشمیریوں کی سوشل میڈیا پوسٹ کی وجہ سے مقدمہ درج کیا گیا۔

بیرون ملک مقیم کشمیریوں نے مقبوضہ وادی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سرکار کے کردار پر تنقید کی تھی۔ علاوہ ازیںمقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا ایک اہلکار سرچ آپریشن کے دوران پہاڑی علاقے سے گہری کھائی میں جا گرا اور دریا میں ڈوب گیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے اہلکار کو چند کلو میٹر کی دوری پر دریا سے نکالا اور قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔مقبوضہ کشمیر میں محرم الحرام کی عقیدت میں نکالے گئے جلوسوں کے دوران عزاداروں اور بھارتی فوجی دستوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد کرفیو کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق محرم کا ایک روایتی جلوس پرامن طریقے سے گزر رہا تھا کہ اچانک بھارتی دستوں نے عزاداروں کو روکنے کی کوشش کی جس پر ان کی انڈین فوجیوں کیساتھ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ان جھڑپوں میں سینکڑوں کشمیری زخمی ہو گئے جبکہ درجنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

بھارتی فورسز نے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنوں اور آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔ مقبوضہ وادی میں ڈیوٹی سرانجام دینے والے کشمیری اہلکار بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے پھٹ پڑے اور کہا کہ ہمیں غدار سمجھا جاتا ہے۔ مودی سرکار کی نوکری کرنے والوں کیلئے معاشرے میں کوئی عزت نہیں، پانچ اگست کے بعد اپنے ہی خاندان والوں سے آنکھ نہیں ملا پاتے۔ایک سرکاری ملازم راشد نے بتایا کہ انہیں دفتر جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں کشمیری جوان سڑک پر نہ روک لیں۔ تبریز نامی کشمیری پولیس اہلکار نے اپنا حال بتاتے ہوئے کہا کہ خوف کی وجہ سے سرکاری ملازم محکمے کا کارڈ ساتھ نہیں رکھتے۔ ایک نے تو اپنے گھر والوں سے یہاں تک کہہ دیا کہ مقبوضہ وادی میں جب کوئی احتجاج ہو تو مظاہرین میں شامل ہو جاؤ۔ جبکہیونان میںپاکستانی اور کشمیری کمیونٹی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرنے کیلئے احتجاج کیا ۔

احتجاج وقت اور جگہ کی وجہ سے بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ اس کا انعقاد تھیسالونیکی بین الاقوامی میلے کے اختتام کے موقع پر ہوا ۔ یہ یونان کے دوسرے بڑے شہر تھیسالونیکی میں منعقدہ ایک سالانہ بین الاقوامی نمائش کا پروگرام ہے۔ 1926 سے ستمبر کے پہلے ہفتے میں اس کا انعقاد کیا جا تاہے ، اور اس کے افتتاح کو یونان کے وزیر اعظم کے پروگرامی بیانات کی ایک سیریز نے روایتی طور پر نشان زد کیا ۔ اس سال ہندوستان کو 2019 میں 84 ویں TIF کیلئے اعزاز والے ملک کے طور پر منتخب کیا گیا تھا (پچھلے سال یو ایس اے ایک غیرت مند ملک تھا)۔ یہ احتجاج اس وقت کیا گیا تھا جب پوری دنیا کی طرف سے شرکت کی گئی تھی۔ اس کا اہتمام ایک دن کے نوٹس پر کیا گیا تھا۔ادھر جرمن میڈیا نے ایک بار پھر مودی سرکار کے جھوٹ کا پول کھولتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ علاج اور آپریشن کے لیے ہسپتالوں میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔

Leave a Reply